افغانستان سے دہشتگردی خطے کے لیے بڑا خطرہ، اسحاق ڈار کا ایس سی او سے مؤثر کردار ادا کرنے کا مطالبہ

جمعہ 24 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے وزرائے خارجہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے افغانستان سے جنم لینے والی دہشتگردی کو خطے کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا، افغان طالبان پر دہشت گرد تنظیموں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا، جبکہ ایران اور امریکا کے درمیان ’اسلام آباد مذاکرات‘ اور ’اسلام آباد مفاہمتی یادداشت‘ کو پاکستان کی کامیاب سفارت کاری قرار دیتے ہوئے 2027 میں ایس سی او سربراہی اجلاس کی پاکستان میں میزبانی کے عزم کا اعادہ کیا۔

کرغزستان کے شہر چولپون آتا میں منعقدہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے ایس سی او کے قیام کے 25 برس مکمل ہونے پر رکن ممالک کو مبارکباد دی اور کہا کہ تنظیم گزشتہ ڈھائی دہائیوں سے خطے میں امن، سلامتی، معاشی تعاون، رابطہ کاری اور ثقافتی ہم آہنگی کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’شنگھائی اسپرٹ‘ باہمی اعتماد، مساوات، احترام اور مشترکہ ترقی کے اصولوں پر مبنی ہے، جس نے تنظیم کو ایک مضبوط علاقائی پلیٹ فارم بنایا۔

انہوں نے کہا کہ آئندہ برسوں میں ایس سی او کو نئی عالمی اور علاقائی ضروریات کے مطابق خود کو ڈھالنا ہوگا۔ اس مقصد کے لیے ڈیجیٹل شمولیت، توانائی کے تحفظ، ٹی اے پی آئی گیس پائپ لائن، کاسا-1000 بجلی منصوبے، باہمی تجارت اور قومی کرنسیوں میں ادائیگیوں جیسے اقدامات کو آگے بڑھانا ضروری ہے۔

وزیر خارجہ نے افغانستان کی صورتحال پر اظہارِ تشویش کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ہمیشہ ایک پرامن، مستحکم اور خوشحال افغانستان کا خواہاں رہا ہے، تاہم اس وقت افغان سرزمین سے جنم لینے والی دہشت گردی خطے کے لیے سب سے بڑا سیکیورٹی چیلنج بن چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے)، ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ اور دیگر دہشت گرد تنظیمیں افغان سرزمین سے سرگرم ہیں، جبکہ اقوام متحدہ کی رپورٹس بھی اس صورتحال کی نشاندہی کر چکی ہیں۔

اسحاق ڈار نے بتایا کہ صرف رواں سال پاکستان میں 2 ہزار سے زائد دہشتگرد حملوں میں 560 سے زیادہ بے گناہ پاکستانی شہید ہو چکے ہیں، جبکہ بعض حملوں میں افغان شہریوں کے ملوث ہونے کے شواہد بھی سامنے آئے ہیں۔ انہوں نے ایس سی او سے مطالبہ کیا کہ وہ افغان طالبان پر زور دے کہ وہ دہشتگردی کے خلاف اپنے بین الاقوامی وعدے پورے کریں اور افغان سرزمین کسی بھی دہشت گرد تنظیم کے استعمال کے لیے نہ چھوڑیں۔

یہ بھی پڑھیںمسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کی بنیاد ہے، اسحاق ڈار کا آسیان فورم سے خطاب

وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان تنازعات کے حل کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری پر یقین رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اپریل 2026 میں ایران اور امریکا کے درمیان “اسلام آباد مذاکرات” کی میزبانی کی، جس کے نتیجے میں 47 برس بعد دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست اعلیٰ سطحی رابطے بحال ہوئے اور بعد ازاں جون 2026 میں ’اسلام آباد مفاہمتی یادداشت‘ پر دستخط ہوئے، جو خطے میں امن کے لیے ایک اہم سفارتی پیشرفت ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اس وقت ایس سی او کے ریجنل اینٹی ٹیررازم اسٹرکچر کی 2025-26 کی چیئرمین شپ بھی سنبھالے ہوئے ہے اور ستمبر 2026 میں ایس سی او کونسل آف ہیڈز آف اسٹیٹ کی چیئرمین شپ سنبھالنے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے تمام رکن ممالک کو 2027 میں پاکستان میں منعقد ہونے والے ایس سی او سربراہی اجلاس میں شرکت کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان اپنی صدارت کے دوران علاقائی رابطہ کاری، تجارت، زراعت، نوجوانوں کے تبادلوں اور عوامی روابط کو ترجیح دے گا۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) وسطی ایشیائی ممالک کو گوادر بندرگاہ کے ذریعے عالمی منڈیوں تک رسائی فراہم کرنے کا مؤثر ذریعہ ہے اور پاکستان اپنی جغرافیائی اہمیت کو علاقائی خوشحالی اور مشترکہ ترقی کے لیے بروئے کار لانے کے لیے پُرعزم ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پاکستان کے آزادی کے دن کی تقریبات، سیٹ ہوم کے بچے فوجی یونیفارم میں بنے توجہ کا مرکز !

یومِ آزادی کے موقع پر مزارِ قائد کی حفاظت کا اعزاز پاک بحریہ کے چاق و چوبند دستے کے سپرد

صدر آصف علی زرداری کی جانب سے 355 شخصیات کے لیے سول اعزازات کی سفارشات

14 اگست، پاکستان کا آزادی کی جانب سفر، 79 سالہ قربانیوں اور ترقی کا سفر

پاکستان اور فرانس کا کثیرالجہتی امور پر تعاون اور عالمی فورمز پر رابطہ مزید مضبوط بنانے پر اتفاق

ویڈیو

پاکستان کے آزادی کے دن کی تقریبات، سیٹ ہوم کے بچے فوجی یونیفارم میں بنے توجہ کا مرکز !

14 اگست، پاکستان کا آزادی کی جانب سفر، 79 سالہ قربانیوں اور ترقی کا سفر

آزادی محض سرزمین کے حصول کا نام نہیں بلکہ عوام کے حقوق کا وعدہ پورا  کرنا  بھی ہے، بلاول بھٹو کا پیغام

کالم / تجزیہ

مایوس ہونے سے پہلے یہ حساب کتاب بھی کر لیں

سن 47، 1200 پاکستانی اور ایک چابی

انڈین خارجہ پالیسی کی ارتھی