نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے وزرائے خارجہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے افغانستان سے جنم لینے والی دہشتگردی کو خطے کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا، افغان طالبان پر دہشت گرد تنظیموں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا، جبکہ ایران اور امریکا کے درمیان ’اسلام آباد مذاکرات‘ اور ’اسلام آباد مفاہمتی یادداشت‘ کو پاکستان کی کامیاب سفارت کاری قرار دیتے ہوئے 2027 میں ایس سی او سربراہی اجلاس کی پاکستان میں میزبانی کے عزم کا اعادہ کیا۔
کرغزستان کے شہر چولپون آتا میں منعقدہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے ایس سی او کے قیام کے 25 برس مکمل ہونے پر رکن ممالک کو مبارکباد دی اور کہا کہ تنظیم گزشتہ ڈھائی دہائیوں سے خطے میں امن، سلامتی، معاشی تعاون، رابطہ کاری اور ثقافتی ہم آہنگی کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’شنگھائی اسپرٹ‘ باہمی اعتماد، مساوات، احترام اور مشترکہ ترقی کے اصولوں پر مبنی ہے، جس نے تنظیم کو ایک مضبوط علاقائی پلیٹ فارم بنایا۔
Deputy Prime Minister/Foreign Minister Senator Mohammad Ishaq Dar @MIshaqDar50 participated in the SCO Council of Foreign Ministers’ Meeting in the beautiful city of Cholpon-Ata, Kyrgyz Republic. He thanked the Kyrgyz leadership and Foreign Minister Zheenbek Kulubaev for their… pic.twitter.com/2nzKNAJLjD
— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) July 24, 2026
انہوں نے کہا کہ آئندہ برسوں میں ایس سی او کو نئی عالمی اور علاقائی ضروریات کے مطابق خود کو ڈھالنا ہوگا۔ اس مقصد کے لیے ڈیجیٹل شمولیت، توانائی کے تحفظ، ٹی اے پی آئی گیس پائپ لائن، کاسا-1000 بجلی منصوبے، باہمی تجارت اور قومی کرنسیوں میں ادائیگیوں جیسے اقدامات کو آگے بڑھانا ضروری ہے۔
وزیر خارجہ نے افغانستان کی صورتحال پر اظہارِ تشویش کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ہمیشہ ایک پرامن، مستحکم اور خوشحال افغانستان کا خواہاں رہا ہے، تاہم اس وقت افغان سرزمین سے جنم لینے والی دہشت گردی خطے کے لیے سب سے بڑا سیکیورٹی چیلنج بن چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے)، ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ اور دیگر دہشت گرد تنظیمیں افغان سرزمین سے سرگرم ہیں، جبکہ اقوام متحدہ کی رپورٹس بھی اس صورتحال کی نشاندہی کر چکی ہیں۔
اسحاق ڈار نے بتایا کہ صرف رواں سال پاکستان میں 2 ہزار سے زائد دہشتگرد حملوں میں 560 سے زیادہ بے گناہ پاکستانی شہید ہو چکے ہیں، جبکہ بعض حملوں میں افغان شہریوں کے ملوث ہونے کے شواہد بھی سامنے آئے ہیں۔ انہوں نے ایس سی او سے مطالبہ کیا کہ وہ افغان طالبان پر زور دے کہ وہ دہشتگردی کے خلاف اپنے بین الاقوامی وعدے پورے کریں اور افغان سرزمین کسی بھی دہشت گرد تنظیم کے استعمال کے لیے نہ چھوڑیں۔
یہ بھی پڑھیںمسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کی بنیاد ہے، اسحاق ڈار کا آسیان فورم سے خطاب
وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان تنازعات کے حل کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری پر یقین رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اپریل 2026 میں ایران اور امریکا کے درمیان “اسلام آباد مذاکرات” کی میزبانی کی، جس کے نتیجے میں 47 برس بعد دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست اعلیٰ سطحی رابطے بحال ہوئے اور بعد ازاں جون 2026 میں ’اسلام آباد مفاہمتی یادداشت‘ پر دستخط ہوئے، جو خطے میں امن کے لیے ایک اہم سفارتی پیشرفت ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اس وقت ایس سی او کے ریجنل اینٹی ٹیررازم اسٹرکچر کی 2025-26 کی چیئرمین شپ بھی سنبھالے ہوئے ہے اور ستمبر 2026 میں ایس سی او کونسل آف ہیڈز آف اسٹیٹ کی چیئرمین شپ سنبھالنے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے تمام رکن ممالک کو 2027 میں پاکستان میں منعقد ہونے والے ایس سی او سربراہی اجلاس میں شرکت کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان اپنی صدارت کے دوران علاقائی رابطہ کاری، تجارت، زراعت، نوجوانوں کے تبادلوں اور عوامی روابط کو ترجیح دے گا۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) وسطی ایشیائی ممالک کو گوادر بندرگاہ کے ذریعے عالمی منڈیوں تک رسائی فراہم کرنے کا مؤثر ذریعہ ہے اور پاکستان اپنی جغرافیائی اہمیت کو علاقائی خوشحالی اور مشترکہ ترقی کے لیے بروئے کار لانے کے لیے پُرعزم ہے۔














