آزاد جموں و کشمیر الیکشن کمیشن نے عام انتخابات کے دوران انتخابی ضابطۂ اخلاق پر سختی سے عمل درآمد کرانے کا اعلان کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ کسی بھی فرد یا ادارے کو ضابطۂ اخلاق کی خلاف ورزی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
الیکشن کمیشن کے ترجمان نے اپنے بیان میں کہا کہ شفاف، آزاد اور غیر جانبدار انتخابات کے انعقاد کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا میرپور آزاد کشمیر کے لیے ایئرپورٹ، الیکٹرک بسوں اور ترقیاتی منصوبوں کا اعلان
وفاقی اور صوبائی وزراء آزاد کشمیر میں انتخابی مہم میں حصہ لے سکتے ہیں، تاہم وہ کسی بھی صورت سرکاری پروٹوکول، سرکاری وسائل یا حکومتی مشینری کو انتخابی مقاصد کے لیے استعمال نہیں کر سکتے۔
ترجمان کے مطابق انتخابی مہم کے دوران کسی بھی نئی ترقیاتی اسکیم، مالی پیکج، عوامی سہولت یا عوامی مفاد کے کسی نئے منصوبے کا اعلان انتخابی ضابطۂ اخلاق کی خلاف ورزی تصور ہوگا۔
مزید پڑھیں: ہر گاؤں میں سیاست، ہر گھر میں الیکشن کا ماحول، آزاد کشمیر کے انتخابات ملک کے دیگر حصوں سے مختلف کیسے؟
انہوں نے خبردار کیا کہ انتخابات کے دوران وفاقی یا کسی بھی صوبائی حکومت کی جانب سے بھیجی جانے والی گاڑیاں، سامان، امدادی اشیا یا کسی بھی نوعیت کی سہولیات ضبط کر لی جائیں گی اور متعلقہ افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
الیکشن کمیشن کے ترجمان نے وفاقی و صوبائی وزراء، امیدواروں اور تمام سیاسی جماعتوں پر زور دیا کہ وہ الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کردہ ضابطۂ اخلاق پر سختی سے عمل کریں تاکہ انتخابات صاف، شفاف اور منصفانہ انداز میں منعقد ہوں اور عوام کا انتخابی عمل پر اعتماد برقرار رہے۔














