کروشیا کے جنوبی ساحل کے قریب سمندر کی تہہ میں دہائیوں سے پڑے ایک قدیم بازنطینی جہاز سے سونے کے زیورات اور دیگر قیمتی اشیا دریافت ہوئی ہیں، جن سے ماہرین کو یقین ہے کہ جہاز میں کوئی نمایاں مقام رکھنے والا شخص سوار تھا۔
ایک دہائی سے جاری زیرِ آب کھدائی
یہ تاریخی جہاز ایک دہائی سے زیادہ عرصہ قبل دریافت ہوا تھا، جس کے بعد ماہرین کئی برسوں تک زیرِ آب کھدائی اور تحقیق میں مصروف رہے۔
یہ بھی پڑھیں:فرانس چوری شدہ شاہی زیورات کی تلاش میں سرگرداں، اب وہ انمول خزانہ کس حال میں ہوگا؟
جمعرات کو پہلی مرتبہ اس تحقیق کے نتائج منظرِ عام پر لائے گئے، جن کے مطابق جہاز کا تعلق 7 ویں یا 8 ویں صدی عیسوی سے ہے۔

عام تجارتی جہاز نہیں، کسی بااثر شخصیت کی سواری
ماہرین کے مطابق جہاز سے برآمد ہونے والا خزانہ ظاہر کرتا ہے کہ یہ کوئی معمولی تجارتی جہاز نہیں تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ ممکنہ طور پر جہاز میں کوئی اعلیٰ عہدے دار یا بااثر شخصیت اپنے محافظوں یا عملے کے ہمراہ سفر کر رہی تھی۔
سونے کے سکے، یاقوت اور زمرد سے مزین بکسے برآمد
کھدائی کے دوران بازنطینی سلطنت کے ہراکلیئس خاندان سے تعلق رکھنے والے چار مختلف شہنشاہوں کے دورِ حکومت (610 سے 711 عیسوی) کے سونے کے سکے دریافت ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ یاقوت، زمرد اور موتیوں سے مزین قیمتی بکسوں کے بند بھی برآمد کیے گئے ہیں۔
مزید پڑھیں:سری لنکا میں تاریخی ڈیجیٹل ڈکیتی، وزارت خزانہ آسٹریلیا کو لوٹانے والی رقم سے محروم
بازنطینی تہذیب پر مزید روشنی پڑنے کی امید
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس اہم دریافت سے بازنطینی دور کی بحری تجارت، شاہی سفر کے انداز اور اس زمانے کی تہذیب کے بارے میں مزید نئی معلومات سامنے آنے کی توقع ہے۔














