بھارت کو برکس اجلاس کی صدارت کارکردگی کی بدولت نہیں بلکہ باری آنے پر ملی

منگل 15 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بھارت کو 2026 کے لیے برکس کی صدارت باری کے نظام کے تحت ملی ہے، جبکہ 2027 میں چین برکس کی قیادت سنبھالے گا۔ بھارت کے لیے یہ صدارت ایک اہم سفارتی موقع ضرور ہے، تاہم محض باری سے ملنے والی سربراہی کو غیرمعمولی قیادت کا ثبوت قرار نہیں دیا جا سکتا، کیونکہ برکس میں اصل قیادت کا فیصلہ عملی نتائج اور ٹھوس پیشرفت سے ہوگا۔

برکس کی صدارت رکن ممالک کے درمیان کیلنڈر سال کی بنیاد پر گردش کرتی ہے، اس لیے بھارت کے بعد 2027 میں چین کو یہ ذمہ داری ملے گی۔

موجودہ بھارتی قیادت میں برکس کے بعض اہم اسٹریٹجک اہداف پر پیشرفت کے حوالے سے سوالات بھی اٹھ رہے ہیں، بالخصوص ایسے وقت میں جب مختلف مفادات رکھنے والے ممالک کو ایک سمت میں آگے لے جانا نئی دہلی کے لیے بڑا چیلنج ہے۔

مالی تعاون، مشترکہ کرنسی پر اختلافات برقرار

برکس میں مالی تعاون اور مقامی کرنسیوں میں لین دین کو فروغ دینے کی تجاویز پر طویل عرصے سے بات ہو رہی ہے، تاہم مشترکہ برکس کرنسی جیسے اہم اقتصادی عزائم اب تک عملی شکل اختیار نہیں کر سکے۔

برازیل مشترکہ کرنسی کا خیال پیش کر چکا ہے، روس مغربی کرنسیوں پر انحصار کم کرنے اور ڈالر سے دوری کی پالیسی کو آگے بڑھانا چاہتا ہے، جبکہ بھارت مشترکہ کرنسی کے بجائے موجودہ ادائیگی کے نظام کے تحت مقامی کرنسیوں میں لین دین کو ترجیح دیتا ہے۔

رائٹرز کے مطابق تکنیکی اور سیاسی مشکلات کے ساتھ چین سے مالی روابط بڑھانے میں بھارت کی ہچکچاہٹ بھی گہرے مالی تعاون کی راہ میں ایک اہم رکاوٹ ہے۔

بھارت ایک طرف برکس کے اندر مالی تعاون بڑھانے کا خواہاں ہے، لیکن دوسری طرف چین کی قیادت میں بننے والے مالی نظام سے محتاط دکھائی دیتا ہے اور اس حوالے سے اپنا کوئی مضبوط متبادل بھی پیش نہیں کر سکا۔

چین سے مسابقت، بھارت کی پالیسی میں تضاد

بھارت اور چین کے درمیان اسٹریٹجک مسابقت بھی برکس کے اندر زیادہ گہرے انضمام کی راہ میں رکاوٹ سمجھی جاتی ہے۔ نئی دہلی ایک طرف خود کو برکس کی بڑی طاقت اور گلوبل ساؤتھ کی قیادت کے امیدوار کے طور پر پیش کرتا ہے، جبکہ دوسری جانب چین کے زیرقیادت مالی اور اقتصادی ڈھانچوں کے قریب جانے سے گریز کرتا ہے۔

روس اس کے برعکس ڈالر پر انحصار کم کرنے کے لیے زیادہ سخت مؤقف رکھتا ہے۔ یوں برکس کے اہم ارکان کی ترجیحات میں نمایاں فرق موجود ہے، جس کے باعث مالی یکجہتی اور مشترکہ اقتصادی حکمت عملی اب بھی ایک مشکل ہدف ہے۔

ایران، خلیجی ممالک کے اختلافات بھی چیلنج

برکس کے اندر اختلافات صرف اقتصادی معاملات تک محدود نہیں۔ ایران اور خلیجی ممالک، خصوصاً متحدہ عرب امارات کے درمیان اختلافات بھی گروپ کے اندر مکمل اتفاق رائے کے لیے ایک پیچیدگی ہیں۔

ایران اور متحدہ عرب امارات کے اختلافات کے باوجود مشترکہ اعلامیے پر اتفاق کو سفارتی ہم آہنگی ضرور قرار دیا جا سکتا ہے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ تمام ارکان کے مفادات اور ترجیحات یکساں ہو چکے ہیں۔

مشترکہ اعلامیہ مفید پیشرفت ہے، تاہم اسے مشرق وسطیٰ کے اختلافات کے خاتمے کا ثبوت قرار نہیں دیا جا سکتا۔

بڑی کانفرنس، مگر بڑے نتائج کہاں؟

بھارت نے برکس کی ایک بڑی سربراہی کانفرنس کی میزبانی کی، اجلاس میں ادائیگیوں کے نظام، مقامی کرنسیوں، مالی تعاون، مصنوعی ذہانت، اقتصادی زونز، سپلائی چین اور اقتصادی انضمام سمیت متعدد معاملات پر بات ہوئی، لیکن اب تک ایسا کوئی بڑا بریک تھرو سامنے نہیں آیا جسے بھارت کی صدارت کی واضح کامیابی قرار دیا جا سکے۔

بہت سے اقدامات ابھی مطالعے، مذاکرات، کمیٹیوں اور مستقبل کے منصوبوں کے مرحلے میں ہیں، جبکہ اصل سوال ان تجاویز پر عمل درآمد کا ہے۔

برکس کے پرانے مسائل، جن میں کمزور اقتصادی انضمام، رکنیت کے معاملات پر غیر واضح صورتحال اور نیو ڈیولپمنٹ بینک کا محدود کردار شامل ہیں، بھی مکمل طور پر حل نہیں ہو سکے۔

چین نے اجلاس میں مصنوعی ذہانت، اقتصادی زونز، سپلائی چین اور اقتصادی انضمام کے حوالے سے نسبتاً زیادہ بلند عزائم پر مبنی تجاویز پیش کیں، جبکہ بھارت کے بارے میں یہ سوال موجود ہے کہ وہ برکس کو مستقبل میں کس واضح سمت میں لے جانا چاہتا ہے۔

سفارتی ہم آہنگی یا حقیقی اسٹریٹجک قیادت؟

بھارت کی ایک اہم کامیابی یہ ضرور رہی کہ وہ مختلف مفادات اور ترجیحات رکھنے والے برکس ارکان کو ایک مشترکہ سفارتی مؤقف پر رکھنے میں کامیاب رہا، تاہم اختلافات کو سنبھال لینا اور ارکان کے درمیان حقیقی اسٹریٹجک یکجہتی پیدا کرنا دو مختلف چیزیں ہیں۔

بھارت کی صدارت میں توجہ زیادہ تر سفارتی ہم آہنگی پیدا کرنے پر مرکوز رہی، جبکہ اسٹریٹجک ترجیحات کو ایک سمت میں لانے کے حوالے سے پیشرفت محدود دکھائی دیتی ہے۔ یہی موجودہ بھارتی قیادت کی سب سے بڑی کمزوری قرار دی جا رہی ہے۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اصلاحات کے معاملے پر بھارت کو ایک مرتبہ پھر حمایت پر مبنی زبان ضرور ملی، تاہم کوئی نیا روڈ میپ یا ٹھوس پیشرفت سامنے نہیں آئی۔

مودی کی سفارت کاری، مگر ادارہ جاتی نتائج محدود

وزیراعظم نریندر مودی کی ذاتی سفارت کاری نے بھارت کو عالمی سطح پر نمایاں ضرور کیا، لیکن یہ سفارتی سرگرمی اب تک بھارت کے لیے بڑے ادارہ جاتی فوائد میں تبدیل ہوتی نظر نہیں آتی۔

مودی خود بھی کہتے ہیں کہ دنیا کو محض خیالات اور وعدوں کے بجائے ’ٹھوس نتائج‘ چاہییں۔ یہی معیار بھارت کی برکس صدارت پر بھی لاگو ہوتا ہے، کیونکہ تقریروں اور سفارتی ملاقاتوں سے توجہ حاصل کی جا سکتی ہے، مگر قیادت کا حقیقی فیصلہ عملی اقدامات اور نتائج سے ہوتا ہے۔

بھارت کے لیے ایک اور مشکل یہ ہے کہ وہ مغربی ممالک کے ساتھ مضبوط تعلقات برقرار رکھتے ہوئے خود کو برکس کی بڑی طاقت کے طور پر پیش کرنا چاہتا ہے۔ یہ توازن طویل مدت تک برقرار رکھنا آسان نہیں، خصوصاً ایسے وقت میں جب روس ڈالر سے دوری چاہتا ہے اور چین برکس کے اقتصادی انضمام کو مزید آگے بڑھانے کے خواہاں ممالک میں شامل ہے۔

قیادت کا دعویٰ، اثر و رسوخ کا اصل امتحان

مجموعی طور پر بھارت کی برکس صدارت کے دوران متعدد اجلاس، تجاویز، کمیٹیاں اور مستقبل کے منصوبے سامنے آئے، لیکن ان کے مقابلے میں ٹھوس اور فوری نتائج محدود رہے۔

بھارت مختلف ممالک کو ایک میز پر رکھنے میں کامیاب ضرور رہا، مگر برکس کو ایک واضح اسٹریٹجک سمت دینے کے حوالے سے اس کی کامیابی اب بھی سوالیہ نشان ہے۔

صدارت باری سے ملتی ہے، لیکن قیادت کا مقام نتائج سے بنتا ہے۔ بھارت کے لیے اصل امتحان یہی ہے کہ 2026 کی صدارت ختم ہونے تک وہ کتنے ایسے ٹھوس اقدامات پیش کرتا ہے جنہیں برکس کے اندر اس کی حقیقی قیادت کا ثبوت قرار دیا جا سکے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp