اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی مانیٹری پالیسی کمیٹی نے پیر کو ہونے والے اجلاس میں شرح سود 11.5 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔
اس فیصلے کا اعلان اسٹیٹ بینک کے گورنر جمیل احمد نے مانیٹری پالیسی سے متعلق پریس کانفرنس کے دوران کیا۔ پریس کانفرنس کے آغاز میں انہوں نے کہا کہ مانیٹری پالیسی کمیٹی نے پالیسی ریٹ میں کوئی تبدیلی نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے آئندہ مانیٹری پالیسی میں شرح سود برقرار رہے گی؟
اس فیصلے سے قبل معاشی تجزیہ کاروں کی اکثریت بھی یہی توقع ظاہر کر رہی تھی کہ مرکزی بینک شرح سود کو موجودہ سطح پر برقرار رکھے گا، کیونکہ سست معاشی نمو کے دوران میکرو اکنامک استحکام کو برقرار رکھنا ایک بڑا چیلنج ہے۔
مختلف بروکریج ہاؤسز کی جانب سے کیے گئے سرویز کے مطابق 90 فیصد سے زائد ماہرین اور اسٹیک ہولڈرز کا خیال تھا کہ اسٹیٹ بینک شرح سود میں کوئی تبدیلی نہیں کرے گا، جبکہ صرف محدود تعداد نے معمولی اضافے کا امکان ظاہر کیا تھا۔
یہ بھی پڑھیے پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں مسلسل تیزی کی وجوہات کیا ہیں؟
واضح رہے کہ اسٹیٹ بینک نے دسمبر 2025 میں پالیسی ریٹ میں 50 بیسس پوائنٹس کی کمی کرتے ہوئے اسے 10.5 فیصد کر دیا تھا، تاہم اپریل 2026 میں اسے 100 بیسس پوائنٹس بڑھا کر دوبارہ 11.5 فیصد کر دیا گیا۔ اس کے بعد سے مرکزی بینک نے شرح سود کو اسی سطح پر برقرار رکھا ہوا ہے، حالانکہ کاروباری برادری مسلسل معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے کے لیے شرح سود میں نمایاں کمی کا مطالبہ کرتی رہی ہے۔













