پاکستان اسٹاک ایکسچینج حالیہ (پی ایس ایکس) عرصے میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کررہی ہے، جہاں انڈیکس تاریخ کی نئی بلند ترین سطحوں کو چھو رہا ہے۔ یہ تیزی نہ صرف مقامی سرمایہ کاروں بلکہ بین الاقوامی مالیاتی اداروں کی توجہ کا مرکز بھی بنی ہوئی ہے۔
مارکیٹ میں جاری مسلسل تیزی کے پیچھے کئی اہم معاشی اور پالیسی عوامل کارفرما ہیں۔
مزید پڑھیں: شیئر بازار کی نئی اڑان، پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں 100 انڈیکس 1 لاکھ 85 ہزار سے آگے
اسٹاک مارکیٹ ایکسپرٹ شہریار بٹ کا کہنا ہے کہ پاکستان اسٹاک مارکیٹ کا مستقبل بہت روشن ہے، آج سے 2 سال پہلے جو اکاؤنٹس ڈھائی لاکھ ہوا کرتے تھے وہ 5 لاکھ 63 ہزار کو پہنچ گئے ہیں، مثبت پہلو یہ ہے کہ نوجوان سرمایہ لگا رہے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کے پروگراموں کے تسلسل اور اقتصادی اصلاحات پر عملدرآمد نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بحال کیا ہے۔ اس سے ملک کے ڈیفالٹ ہونے کا خطرہ ختم ہوا اور مارکیٹ کو اڑان ملی۔
انہوں نے کہاکہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے مانیٹری پالیسی میں نرمی اور شرحِ سود میں کمی نے مارکیٹ کو بڑا سہارا دیا ہے۔ شرح سود کم ہونے سے سرمایہ کار بینکوں اور فکسڈ ڈپازٹس سے پیسہ نکال کر اسٹاک مارکیٹ کا رخ کررہے ہیں، جہاں منافع کی شرح زیادہ ہے۔
سرمایہ کاری کے طریقوں میں جدید اصلاحات
اسٹاک مارکیٹ اکسپرٹ محسن مسیڈیا کا کہنا ہے کہ مارکیٹ میں ’ٹی پلس ون سیٹلمنٹ‘ سائیکل جیسی جدید اصلاحات کی آمد اور ڈیجیٹل اکاؤنٹس نے ٹریڈنگ کو محفوظ، تیز رفتار اور شفاف بنایا ہے، جس سے ریٹیل سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھا ہے۔ پاکستان کی بڑی کمپنیوں نے ریکارڈ منافع کا اعلان کیا ہے، جس کی وجہ سے سرمایہ کاروں کو بھاری ڈیویڈنڈ مل رہے ہیں۔
معیشت کی بہتری میں اسٹاک مارکیٹ کا کردار
محسن مسیڈیا کا کہنا ہے کہ اکثر کہا جاتا ہے کہ اسٹاک مارکیٹ کسی بھی ملک کی معیشت کا تھرما میٹر ہوتی ہے۔ اسٹاک ایکسچینج کمپنیوں کو یہ موقع فراہم کرتی ہے کہ وہ عوام اور اداروں سے کاروبار پھیلانے کے لیے سرمایہ اکٹھا کریں۔ جب کمپنیاں اپنے شیئرز بیچ کر فنڈز حاصل کرتی ہیں، تو وہ نئے پلانٹس لگاتی ہیں جس سے پیداوار بڑھتی ہے۔
انہوں نے کہاکہ جب مارکیٹ کی مدد سے کاروبار پھیلتا ہے، تو ملک میں صنعتی سرگرمیاں تیز ہوتی ہیں، جو براہ راست اور بالواسطہ طور پر روزگار کے ہزاروں نئے مواقع پیدا کرنے کا سبب بنتی ہیں۔
’ایک عام شہری بھی مارکیٹ کے ذریعے ملک کی بڑی کمپنیوں میں شراکت دار بن سکتا ہے۔ یہ ملکی سطح پر سیونگز کو تعمیری کاموں میں لگانے کا بہترین ذریعہ ہے۔‘
حکومتی ریونیو میں اضافہ
اسٹاک مارکیٹ ایکسپرٹ جنید خان کا کہنا ہے کہ اسٹاک مارکیٹ میں ہونے والی اربوں روپے کی روزانہ ٹریڈنگ پر حکومت کو کیپیٹل گینز ٹیکس اور دیگر ڈیوٹیز کی مد میں بھاری ٹیکس ریونیو حاصل ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے کو فائدہ پہنچتا ہے۔ اگر سیاسی استحکام برقرار رہتا ہے اور شرحِ سود میں مزید کمی ہوتی ہے، تو پاکستان اسٹاک ایکسچینج ایشیا کی بہترین پرفارم کرنے والی مارکیٹس میں اپنی جگہ برقرار رکھ سکتی ہے۔
’غیر ملکی پورٹ فولیو سرمایہ کاری میں اضافہ متوقع ہے کیونکہ عالمی سطح پر پاکستانی شیئرز کی قیمتیں اب بھی دیگر علاقائی مارکیٹس کے مقابلے میں کافی سستی اور پرکشش ہیں۔‘
مزید پڑھیں: اقتصادی سروے کے اثرات، پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں تیزی، انڈیکس مثبت زون میں بند
جنید خان کے مطابق پاکستان اسٹاک مارکیٹ کا مستقبل روشن نظر آتا ہے، بشرطیکہ اقتصادی اصلاحات کا تسلسل برقرار رہے۔ یہ صرف سٹے بازی یا امیروں کا کھیل نہیں ہے، بلکہ ملکی معیشت کی ترقی کا انجن ہے۔ اگر حکومت ریٹیل سرمایہ کاروں کے تحفظ کو یقینی بناتی ہے اور مانیٹری پالیسی کو کاروبار دوست رکھتی ہے، تو پاکستان اسٹاک مارکیٹ آنے والے برسوں میں معاشی بحالی کا سب سے بڑا ستون ثابت ہوگی۔












