فیفا فٹبال ورلڈ کپ میں ٹیکنالوجی کے استعمال پر شدید تحفظات، وی اے آر فیصلوں نے نئی بحث چھیڑ دی

جمعہ 10 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

فیفا کی جانب سے فٹبال ورلڈ کپ میں جدید ٹیکنالوجی اور ویڈیو اسسٹنٹ ریفری (وی اے آر) کے وسیع استعمال کا مقصد متنازع ریفری فیصلوں کا خاتمہ تھا، تاہم رواں ٹورنامنٹ میں یہی ٹیکنالوجی سب سے زیادہ تنازعات کا باعث بن گئی ہے، جہاں کئی ٹیموں، کوچز اور کھلاڑیوں نے وی اے آر کے فیصلوں پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

ہر بڑے تنازع میں وی اے آر زیر بحث

رپورٹ کے مطابق ورلڈ کپ کے دوران تقریباً ہر بڑے تنازع کا تعلق وی اے آر سے رہا، جن میں امریکی فارورڈ فولارن بالوگن کو دکھائے گئے ریڈ کارڈ کا معاملہ بھی شامل ہے۔

یہ بھی پڑھیں:کرسٹیانو رونالڈو پرتگال کو فیفا ورلڈ کپ کیوں نہ جتوا سکے؟

جس پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اعتراض کرتے ہوئے فیفا صدر جیانی انفانٹینو سے رابطہ کیا تھا تاکہ بالوگن کی ایک میچ کی پابندی ختم کرائی جا سکے، اگرچہ بعد میں انفانٹینو نے کہا کہ اس فیصلے میں ان کا کوئی کردار نہیں تھا۔

مصر کے کوچ نے وی اے آر کو غیرمنصفانہ قرار دے دیا

پری کوارٹر فائنل میں ارجنٹینا کے ہاتھوں 3-2 سے شکست کے بعد مصر کے ہیڈ کوچ حسام حسن نے وی اے آر پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان کی ٹیم کا ایک گول مخالف ٹیم کے پنالٹی ایریا سے دور ہونے والے فاؤل کی بنیاد پر منسوخ کر دیا گیا جبکہ ان کی ٹیم کے حق میں پنالٹی کی اپیل کا جائزہ بھی نہیں لیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ’جو کچھ ہو رہا ہے وہ منصفانہ نہیں ہے۔‘

فیفا نے ریفریوں کے فیصلوں کا دفاع کیا

فیفا کے سربراہ برائے ریفریز پیئرلوئیجی کولینا نے وی اے آر کے استعمال کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ فاؤل اگر فاؤل ہے تو اس کی نوعیت یا گول سے فاصلے کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی۔

ان کے مطابق اگر ریفری میدان میں کسی فاؤل کو نہ دیکھ سکے تو وی اے آر کو مداخلت کا مکمل اختیار حاصل ہے۔

وی اے آر کا دائرہ اختیار مزید وسیع

رپورٹ کے مطابق وی اے آر کو ابتدا میں صرف واضح اور سنگین ریفری غلطیوں کی اصلاح کے لیے متعارف کرایا گیا تھا، تاہم 2026 کے ورلڈ کپ میں اس کا دائرہ اختیار مزید بڑھا دیا گیا ہے۔

مزید پڑھیں:فیفا ورلڈ کپ: وی اے آر نے ایران کی خوشیاں چھین لیں، مصر ناک آؤٹ مرحلے میں

فیفا نے انٹرنیشنل فٹبال ایسوسی ایشن بورڈ کے تعاون سے مزید چار نئی صورتحال میں بھی وی اے آر کو مداخلت کا اختیار دیا ہے، جبکہ ٹیلی ویژن آپریشن روم میں 4 آفیشلز تعینات کیے گئے ہیں۔

شائقین حد سے زیادہ مداخلت سے نالاں

نارتھ ایسٹرن یونیورسٹی کے نیٹ ورک سائنسدان برینن کلائن نے کہا کہ اگرچہ مصنوعی ذہانت اور کیمروں کے ذریعے ہر لمحے کھیل کی نگرانی ممکن ہے، لیکن شائقین اس حد سے زیادہ نگرانی کو پسند نہیں کر رہے۔ انہوں نے کہا کہ تماشائی اپنی ناپسندیدگی کا اظہار مسلسل ‘ہُوٹنگ’ کے ذریعے کر رہے ہیں۔

موڈرچ نے ‘ٹیکنالوجی کے غلط استعمال’ پر اعتراض اٹھا دیا

کروشیا اور پرتگال کے درمیان میچ میں جوشکو گواردیول کا انجری ٹائم میں کیا گیا گول وی اے آر نے آف سائیڈ قرار دے کر مسترد کر دیا کیونکہ اسمارٹ بال میں نصب سینسر نے گیند کے ساتھی کھلاڑی ایگور ماتانووچ سے معمولی سا ٹکرانے کی نشاندہی کی، حالانکہ یہ رابطہ انسانی آنکھ سے تقریباً دکھائی نہیں دے رہا تھا۔

کروشیا کے اسٹار مڈفیلڈر لوکا موڈرچ نے فیصلے پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وی اے آر بعض معاملات میں مفید ضرور ہے لیکن اس کا استعمال یا تو غلط انداز میں ہو رہا ہے یا پھر منتخب انداز میں کیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:مصر کے ساتھ ناانصافی ہوئی، نیویارک کے میئر ظہران ممدانی  بھی بول پڑے

انہوں نے کہا کہ اگر فیصلہ 2 سو فیصد غلط ہو تو مداخلت ہونی چاہیے، لیکن اگر معاملہ مشتبہ ہو تو وی اے آر کو مداخلت نہیں کرنی چاہیے۔

کروشین فٹبال فیڈریشن نے بھی فیفا کو خط لکھ کر اس فیصلے کی وضاحت طلب کرتے ہوئے اسے ’ٹیکنالوجی کا غلط استعمال‘ قرار دیا ہے۔

ریڈ کارڈز کی تعداد میں نمایاں اضافہ

رپورٹ کے مطابق رواں ورلڈ کپ میں وی اے آر کی مداخلت کے باعث ریڈ کارڈز کی تعداد گزشتہ 2 ورلڈ کپ کے مقابلے میں نمایاں طور پر بڑھ گئی ہے۔

پری کوارٹر فائنل مرحلے تک 94 میچز میں 13 ریڈ کارڈز دکھائے جا چکے ہیں، جبکہ 2018 اور 2022 کے ورلڈ کپ میں 64، 64 میچز کے دوران اس سے کہیں کم کھلاڑی میدان سے باہر بھیجے گئے تھے۔

امریکی اسٹرائیکر فولارن بالوگن اور انگلینڈ کے دفاعی کھلاڑی جاریل کوانسا کو بھی ایسے فاؤلز پر ریڈ کارڈ دکھائے گئے جنہیں ریفری نے میدان میں نہیں دیکھا تھا اور بعد میں وی اے آر نے کارروائی کی۔

تھامس ٹوخل بھی برہم

انگلینڈ کے کوچ تھامس ٹوخل نے میکسیکو کے خلاف 3-2 کی فتح کے باوجود وی اے آر پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ہیری کین کے خلاف دیا گیا پنالٹی فیصلہ ’واضح اور سنگین غلطی‘ کے معیار پر پورا نہیں اترتا تھا۔

مزید پڑھیں:فٹبال ورلڈ کپ:48 سے 8 ٹیمیں رہ گئیں، کوارٹر فائنل مقابلوں کا مکمل شیڈول جاری

انہوں نے کہا کہ ’وی اے آر نے ایسے فیصلے کو بدل دیا جس میں ریفری نے فاؤل تک نہیں دیا تھا۔ ریفریز اور چوتھے آفیشلز کی کارکردگی معیار کے مطابق نہیں ہے۔‘

فیفا کو نئے سوالات کا سامنا

رپورٹ کے مطابق فیفا صدر جیانی انفانٹینو کی جانب سے ٹیکنالوجی کے ذریعے ریفری تنازعات ختم کرنے کی کوشش الٹا نئے سوالات کو جنم دے رہی ہے۔

مخالفین کا کہنا ہے کہ وی اے آر اگرچہ درست فیصلوں میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے، تاہم اس کے موجودہ استعمال میں یکسانیت اور شفافیت کے فقدان نے ٹورنامنٹ کے دوران کئی نئے تنازعات کو جنم دیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پاکستان اور بنگلہ دیش کا خواتین کو بااختیار بنانے اور دوطرفہ تعاون کے فروغ پر اتفاق

شہد کی مکھیوں کے چھتے سے متاثر جدید سولر پینل ڈیزائن تیار، بجلی کی پیداوار میں اضافے کا دعویٰ

پولیس تحقیقات کے بعد فیفا ورلڈ کپ سے نکالے گئے ریفری روب ڈیپرنک چل بسے

پاکستان کی سعودی عرب پر حوثیوں کے بیلسٹک میزائل حملوں کی شدید مذمت، مکمل حمایت کا اعادہ

ایران کو بڑی حد تک ’پتھر کے دور‘ میں پہنچا دیا، ٹرمپ کا دعویٰ

ویڈیو

خوبصورت پنجاب: گوجرانوالہ کے ایمن آباد بازار کی اپ گریڈیشن مکمل

ممنون حسین نے دور صدارت میں اردو، سی پیک کے قومی بیانیے اور کفایت شعاری کو فروغ دیا، ڈاکٹر فاروق عادل

وی ایکسکلوسیو: ایران امریکا جنگ بندی میں پاکستان اور قطر کی ثالثی اب بھی کلیدی حیثیت رکھتی ہے، اعزاز چوہدری

کالم / تجزیہ

ہم چین سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟

بلوچستان: پری ٹیررازم ، ٹیررازم اور پوسٹ ٹیررازم

برداشت کی بھی حد ہوتی ہے