فٹبال ورلڈ کپ 2026: سائنسدان 8 برسوں سے کونسی غیر معمولی چیز تیار کر رہے ہیں؟

پیر 18 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

فیفا ورلڈ کپ 2026 شروع ہونے میں اب صرف چند ہفتے باقی ہیں لیکن اس عالمی ٹورنامنٹ کی تیاری صرف کھلاڑیوں، کوچز اور اسٹیڈیمز تک محدود نہیں۔ اس بار ایک اور چیز بھی غیرمعمولی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے وہ گھاس جس پر ورلڈ کپ کے 104 میچز کھیلے جائیں گے۔

یہ بھی پڑھیں: فیفا ورلڈ کپ فائنل کی تاریخ کا پہلا ’ہاف ٹائم شو‘ شکیرا، میڈونا اور بی ٹی ایس میلہ لوٹنے کو تیار

دنیا بھر کے سائنسدان، زرعی ماہرین اور ٹرف انجینیئرز گزشتہ 8 برس سے ایسی پرفیکٹ گھاس تیار کرنے میں مصروف ہیں جو کھلاڑیوں کی رفتار، گیند کے کنٹرول، میدان کی مضبوطی اور زخمی ہونے کے خطرات کو کم سے کم کر سکے۔

یہ تمام کوشش اس وقت مزید اہم بن گئی جب سنہ 2024 کے کوپا امریکا ٹورنامنٹ میں کئی عالمی کھلاڑیوں نے امریکی اسٹیڈیمز کی گھاس پر شدید تنقید کی تھی۔

ارجنٹینا اور کینیڈا کے درمیان ایک میچ میں صرف 8 منٹ بعد ہی مسئلہ واضح ہوگیا تھا۔ ارجنٹائن کے اسٹار فٹبالر اینخل دی ماریا گیند پر مکمل کنٹرول برقرار نہ رکھ سکے اور ایک یقینی گول کا موقع ضائع ہوگیا۔ میچ کے بعد ارجنٹائن کے کھلاڑیوں اور کوچ نے خراب گھاس کو اپنی کارکردگی متاثر ہونے کی بڑی وجہ قرار دیا۔

اٹلانٹا کے اس اسٹیڈیم میں عام طور پر مصنوعی ٹرف استعمال ہوتا ہے مگر ٹورنامنٹ سے چند روز پہلے عارضی قدرتی گھاس بچھائی گئی تھی۔ کھلاڑیوں نے شکایت کی کہ گیند اسپرنگ بورڈ کی طرح اچھل رہی تھی جبکہ کچھ نے میدان کو تباہی قرار دیا۔

مزید پڑھیے: فیفا ورلڈ کپ 2026 کا آفیشل ترانہ جاری، شکیرا نے رائلٹی بچوں کی تعلیم پر خرچ کرنے کا اعلان کردیا

اسی تنقید سے بچنے کے لیے امریکا، کینیڈا اور میکسیکو نے ورلڈ کپ 2026 کے لیے خصوصی ماہرین کی ٹیم مقرر کی ہے۔

گھاس پر 8 سالہ تحقیق

فیفا کے لیے تمام 16 اسٹیڈیمز کی گھاس کی نگرانی کرنے والے یونیورسٹی آف ٹینیسی کے پروفیسر جان سوروچن کہتے ہیں کہ اس منصوبے پر بہت دباؤ ہے، خاص طور پر ان 5 اسٹیڈیمز کے لیے جو مکمل طور پر ڈھکے ہوئے ہیں۔

ان کے مطابق پودوں کو بڑھنے کے لیے روشنی، خاص طور پر سورج کی روشنی درکار ہوتی ہے لیکن ڈوم اسٹیڈیمز میں سورج اندر نہیں آتا۔

ماہرین نے ہزاروں تجربات کیے جن میں گیندوں کو مختلف رفتار سے مارنا، گھاس پر جوتوں سے دباؤ ڈالنا، نمی اور سختی کی پیمائش کرنا اور گھاس کی اونچائی ملی میٹر کے حساب سے جانچنا شامل تھا۔

مزید پڑھیں: امریکی گلوکارہ کیٹی پیری فیفا ورلڈکپ کی افتتاحی تقریب میں پرفارم کریں گی

تحقیق سے معلوم ہوا کہ صرف 5 ملی میٹر کی تبدیلی میدان کو یا تو ویلکرو جیسا چپکنے والا بنا سکتی ہے یا پھر ایسا ہموار قدرتی قالین جو تیز رفتار فٹبال کے لیے موزوں ہو۔

مختلف شہروں کے لیے مختلف گھاس

ورلڈ کپ کے میچز میامی، میکسیکو سٹی، ٹورنٹو اور بوسٹن جیسے مختلف موسمی علاقوں میں ہوں گے اس لیے ہر مقام کے لیے الگ گھاس تیار کی گئی ہے۔

گرم علاقوں میں برمودا گھاس استعمال ہوگی جبکہ سرد علاقوں میں کینٹکی بلو گراس اور پرینیئل رائے گراس کا امتزاج بچھایا جائے گا۔

ماہرین نے ہر اسٹیڈیم کے لیے الگ آبپاشی نظام، جڑوں کی ساخت

کھاد کا شیڈول اور گھاس کی کٹائی کی اونچائی تیار کی ہے تاکہ تمام میدان تقریباً ایک جیسے محسوس ہوں۔

مصنوعی فائبرز بھی شامل

گھاس کو زیادہ مضبوط اور یکساں بنانے کے لیے اس میں مصنوعی پلاسٹک فائبرز بھی شامل کیے گئے ہیں جو عام مصنوعی ٹرف میں استعمال ہوتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: فیفا ورلڈ کپ 2026: 3 ممالک میں علیحدہ افتتاحی تقریبات کا اعلان

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سے میدان زیادہ دیر تک برقرار رہے گا اور کھیل کے دوران گھاس اکھڑنے کے امکانات کم ہوں گے۔

سنہ 1994  سے سنہ 2026 تک کا سفر

اس منصوبے کے مرکزی کردار پروفیسر ٹری راجرز اور جان سوروچن ہیں جنہوں نے سنہ 1994 کے ورلڈ کپ میں بھی امریکا کے پونٹیاک سلورڈوم اسٹیڈیم میں قدرتی گھاس نصب کی تھی۔

اس وقت یہ پہلی مرتبہ تھا کہ مصنوعی ٹرف کے اوپر قدرتی گھاس بچھائی گئی تھی۔

راجرز کہتے ہیں کہ میں نے اس وقت پہلی بار پوچھا تھا کہ ورلڈ کپ کیا ہوتا ہے؟

مزید پڑھیں: ایران فیفا مذاکرات: عالمی باڈی نے ایران کو 20 مئی کی ڈیڈ لائن دے دی

بعد میں یہی منصوبہ اتنا کامیاب ہوا کہ راجرز کو گرو آف گراس یعنی گھاس کا گرو کہا جانے لگا۔

گھاس اگانے کا جدید طریقہ

ورلڈ کپ 2026 کے لیے گھاس امریکا کے مختلف فارمز خصوصاً ڈینور کے قریب گرین ویلی ٹرف کمپنی میں اگائی جا رہی ہے۔

یہ گھاس ریت پر اگائی جاتی ہے، پلاسٹک تہہ کے اوپر رکھی جاتی ہے اور خصوصی کھاد، سمندری کیلپ، سیلیکا اور فنگس کش ادویات سے تیار کی جاتی ہے۔ علاوہ ازیں ورکرز روزانہ گھاس کو پانی دیتے اور کاٹتے ہیں۔

گھانس کبھی چھٹی نہیں کرتی

فارم کے مالک جو ولکنز کہتے ہیں کہ گھاس کبھی چھٹی نہیں کرتی۔

رات کو کٹائی، ریفریجریٹڈ ٹرکوں میں منتقلی اور میچز سے صرف دس دن پہلے گھاس کو بڑے پیزا کٹر نما آلات سے کاٹا جاتا ہے۔

مزید پڑھیے: فلسطینی فٹبال ایسوسی ایشن کی فیفا کے خلاف اپیل، اسرائیل پر پابندی نہ لگانے کا فیصلہ چیلنج

سورج غروب ہونے کے بعد جب گھاس خشک ہوجاتی ہے اسے رول کرکے ریفریجریٹڈ ٹرکوں میں لوڈ کیا جاتا ہے اور شمالی امریکا بھر کے اسٹیڈیمز تک پہنچایا جاتا ہے۔

سورج کے بغیر گھاس کیسے زندہ رہے گی؟

ڈوم اسٹیڈیمز میں سب سے بڑا مسئلہ سورج کی روشنی نہ ہونا ہے۔

اس کے حل کے لیے جدید ایل ای ڈی گرو لائٹس استعمال کی جا رہی ہیں جو جامنی روشنی کے ذریعے گھاس کو بڑھنے کے لیے ضروری توانائی فراہم کرتی ہیں۔

ڈلاس کے اسٹیڈیم میں یہ لائٹس چھت سے نیچے آتی ہیں اور پورے میدان کو روشنی فراہم کرتی ہیں۔

کوپا امریکا والی غلطی دوبارہ نہیں ہوگی؟

جان سوروچن کے مطابق کوپا امریکا میں اصل مسئلہ یہ تھا کہ قدرتی گھاس اور نیچے موجود مصنوعی ٹرف کے درمیان مناسب فاصلہ نہیں رکھا گیا تھا جس سے ٹرامپولین ایفیکٹ پیدا ہوا۔

فیفا نے سال 2026 کے لیے اس فاصلے کو زیادہ رکھنے کی ہدایت دی ہے تاکہ گیند غیر معمولی طور پر نہ اچھلے۔

گھاس پر اب تک 50 لاکھ ڈالر صرف ہوچکے

فیفا اب تک ورلڈ کپ 2026 کی گھاس پر 50 لاکھ ڈالر سے زیادہ خرچ کر چکا ہے۔

اگرچہ ناظرین عموماً گھاس پر توجہ نہیں دیتے لیکن ماہرین کے مطابق یہی سطح کھیل کے معیار، کھلاڑیوں کی حفاظت اور میچ کے حسن کا بنیادی عنصر ہے۔

پروفیسر الزبتھ گورٹل کا کہنا ہے کہ اس تحقیق کے فوائد مستقبل میں صرف ورلڈ کپ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ اسکولوں، کالجوں اور دیگر کھیلوں کے میدانوں میں بھی استعمال کیے جا سکیں گے۔

مزید پڑھیں: فیفا کا ورلڈ کپ 2026 کے انعامی رقم میں مزید اضافے پر غور

اب تمام تیاری مکمل ہو چکی ہے۔ سائنسدانوں نے میدان تیار کر دیا ہے تاہم اب دیکھنا یہ ہے کہ اس میدان پر کون سی ٹیم اپنے خواب پورے کرتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

سینیئر صحافیوں کا ’وی نیوز‘ اسلام آباد دفتر کا دورہ، استقبال اور تحائف پیش

  اسلام آباد میں فیفا ورلڈ کپ 2026 کی تقریبات کا آغاز، سیالکوٹ کی فٹبال نے میلہ لوٹ لیا

عمران خان کی حکومت کے خاتمے میں بیرونی سازش ثابت نہیں، سائفر پر بحث پرانا سیاسی بیانیہ

ایران پر حملے کا فیصلہ ایک گھنٹے میں کرنے والا تھا لیکن پھر معاملہ مؤخر کردیا، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ

پاکستان اور ایشیائی بینک کے درمیان بڑا معاہدہ، این-5 کی تعمیرِ نو کے لیے 32 کروڑ ڈالر قرض کی منظوری

ویڈیو

سینیئر صحافیوں کا ’وی نیوز‘ اسلام آباد دفتر کا دورہ، استقبال اور تحائف پیش

بلوچستان کے نوجوانوں کی سماجی و اقتصادی ترقی کے پروگرام میں بھرپور شرکت

سعد رفیق کیخلاف سوشل میڈیا مہم، شیخ سائرہ کی روتے ہوئے لیگی رہنما سے اپیل، ایران پر حملے کی تیاری، امریکا کا پیغام

کالم / تجزیہ

سندھ طاس: ثالثی عدالت کے فیصلے کے بعد کیا ہو گا؟

وزیر آغا‘ ایک عہد جو مکالمہ بن گیا

قدم قدم سوئے حرم