انسان ٹیکنالوجی کے ذریعے اب رات کو مصنوعی روشنی سے دن میں بدلنے کے تجربے کی جانب بڑھ رہا ہے، امریکی کمپنی ریفلیکٹ آربیٹل نے سورج کی روشنی کو زمین پر واپس منعکس کرنے والے خلائی سیٹلائٹ کے تجربے کی تیاری شروع کردی ہے، جس کے ذریعے خلا سے زمین کے مخصوص حصوں کو روشن کرنے کا منصوبہ ہے۔
امریکی وفاقی مواصلاتی کمیشن نے کیلیفورنیا کی کمپنی ریفلیکٹ آربیٹل کو ایک ایسے سیٹلائٹ کی آزمائش کی اجازت دی ہے جس میں تقریباً 60 فٹ چوڑا آئینہ نصب ہوگا۔ یہ آئینہ سورج کی روشنی کو پکڑ کر زمین کے تاریک حصے کی جانب منعکس کرے گا۔
یہ بھی پڑھیں: یورپی سیٹلائٹس نے مصنوعی سورج گرہن پیدا کرکے تاریخ رقم کردی
کمپنی کا پہلا تجرباتی سیٹلائٹ ‘ایرینڈل ون’ رواں موسم گرما میں روانہ کیا جا سکتا ہے۔ کمپنی کے مطابق ابتدائی مرحلے میں یہ سیٹلائٹ تقریباً 6 ہزار ایکڑ رقبے پر چاندنی جتنی روشنی فراہم کرے گا، تاہم یہ روشنی صرف چند منٹ تک برقرار رہے گی۔
ریفلیکٹ آربیٹل کا کہنا ہے کہ مستقبل میں ایسے سیٹلائٹس کا بڑا نظام قائم کرنے کا منصوبہ ہے۔ کمپنی کے مطابق اگلے سال تک 36 سیٹلائٹس، 2030 تک 5 ہزار اور 2035 تک 50 ہزار سیٹلائٹس خلا میں بھیجنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔
کمپنی کا مؤقف ہے کہ یہ ٹیکنالوجی امدادی کارروائیوں، تلاش اور بچاؤ کے مشن، رات کے وقت تعمیراتی کام، شمسی توانائی کے منصوبوں اور زرعی پیداوار میں اضافے کے استعمال کی جاسکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: چین سورج کی سمت سے آنے والے خطرناک خلائی پتھروں کا سراغ لگائے گا
تاہم ماہرین فلکیات اور ماحولیات کے ماہرین نے اس منصوبے پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مصنوعی روشنی انسانوں، جانوروں اور پودوں کے قدرتی نظام کو متاثر کر سکتی ہے، جبکہ رات کے آسمان کے مشاہدے میں بھی مشکلات پیدا ہوں گی۔
ماہرین کے مطابق خلا میں موجود روشن سیٹلائٹس فلکیاتی تحقیق، پائلٹس اور ڈرائیورز کے بھی مسائل پیدا کر سکتے ہیں، کیونکہ مصنوعی روشنی آنکھوں کو متاثر کرنے یا توجہ ہٹانے کا سبب بن سکتی ہے۔
امریکن ایسٹرونومیکل سوسائٹی نے بھی اس منصوبے پر اعتراض کرتے ہوئے کہا ہے کہ سورج کی روشنی جان بوجھ کر زمین پر منعکس کرنے والے سیٹلائٹس سے فلکیاتی تحقیق کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں: انسان ایک مصنوعی دنیا میں رہ رہے ہیں، سائنسدان کا حیران کن دعویٰ
کمپنی کے سربراہ بین نوواک کا کہنا ہے کہ سیٹلائٹس کو اس انداز میں تیار کیا جا رہا ہے کہ روشنی صرف مطلوبہ علاقوں تک محدود رہے، جبکہ ایسے صارفین کو سروس دینے سے انکار کیا جا سکتا ہے جن کے قریب رہنے والے افراد کو اعتراض ہو۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ زمین کا ماحول روشنی کو پھیلاتا اور منتشر کرتا ہے، اس لیے اسے مکمل طور پر ایک محدود علاقے تک رکھنا آسان نہیں ہوگا۔
خلائی آئینے کا یہ منصوبہ اگر کامیاب ہو جاتا ہے تو یہ انسانی تاریخ میں پہلی بار ہوگا کہ انسان خلا سے سورج کی روشنی کو کنٹرول کرکے زمین کے مخصوص حصوں کو روشن کرنے کی کوشش کرے گا۔














