کیا نیتن یاہو کا ‘ٹرمپ کارڈ’ اب اپنی طاقت کھو رہا ہے؟

بدھ 29 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو نے طویل عرصے سے امریکا کے ساتھ اپنے قریبی تعلقات کو اپنی سیاسی طاقت کا اہم ذریعہ بنا رکھا ہے۔ امریکی سیاست سے واقفیت اور مختلف امریکی صدور کے ساتھ مضبوط روابط کی بدولت وہ خود کو اسرائیل اور واشنگٹن کے درمیان سب سے مؤثر رابطہ قرار دیتے رہے ہیں۔

تاہم بدلتے علاقائی حالات اور امریکی پالیسی میں آنے والی تبدیلیوں نے ان کی اس حیثیت پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ کے دورِ صدارت میں نیتن یاہو کے تعلقات غیرمعمولی طور پر مضبوط سمجھے جاتے تھے، خاص طور پر اس وقت جب امریکا نے ایران کے خلاف اسرائیل کے ساتھ مشترکہ فوجی کارروائی میں حصہ لیا۔

لیکن ایران جنگ کے مطلوبہ نتائج نہ نکلنے اور مشرقِ وسطیٰ میں ٹرمپ کی نئی حکمت عملی نے دونوں رہنماؤں کے تعلقات میں فاصلے کا تاثر پیدا کیا ہے۔

اسی دوران امریکا میں غزہ جنگ، مغربی کنارے میں اسرائیلی آبادکاروں کے بڑھتے تشدد اور دیگر پالیسیوں پر اسرائیل کو شدید تنقید کا سامنا ہے۔

مبصرین کے مطابق ان عوامل نے نیتن یاہو کی اس سیاسی طاقت کو کمزور کیا ہے جس کی بنیاد وہ ہمیشہ امریکی حمایت کو بناتے رہے ہیں۔

یہ صورتحال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب نیتن یاہو کو اکتوبر کے آخر میں متوقع انتخابات، بدعنوانی کے مقدمات اور خطے میں جاری کشیدگی جیسے بڑے چیلنجز درپیش ہیں۔

ایسے میں ان کا حالیہ دورۂ واشنگٹن اور صدر ٹرمپ سے ملاقات نہ صرف سفارتی بلکہ داخلی سیاست کے لیے بھی اہم سمجھی جا رہی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ نیتن یاہو اس ملاقات کے ذریعے اسرائیلی عوام کو یہ تاثر دینا چاہتے ہیں کہ ان کے امریکا کے ساتھ تعلقات بدستور مضبوط ہیں۔

اسرائیل کے سابق سفیر ایلون پنکاس کے مطابق اس دورے کا اصل مقصد سیاسی فائدہ حاصل کرنا ہے۔ ان کے بقول نیتن یاہو ایک طرف اسرائیل میں اپنے ناقدین کو مطمئن کرنا چاہتے ہیں، جبکہ دوسری جانب وہ امید رکھتے ہیں کہ ٹرمپ ایک بار پھر ان کے خلاف جاری بدعنوانی کے مقدمات پر ان کے حق میں مؤقف اختیار کریں گے۔

دوسری جانب امریکا میں قدامت پسند شخصیات، نائب صدر جے ڈی وینس اور دیگر سیاسی حلقوں کی تنقید نے بھی نیتن یاہو کی پوزیشن کو متاثر کیا ہے۔

حال ہی میں ٹرمپ نے ترکیہ کو ایف 35 طیاروں کی ممکنہ فروخت پر اسرائیلی اعتراضات مسترد کرتے ہوئے کہا کہ امریکا کیا فروخت کرے گا، اس کا فیصلہ کوئی اور نہیں کرے گا۔

ماہرین کا خیال ہے کہ اگرچہ ٹرمپ اور نیتن یاہو عوامی سطح پر خوشگوار تعلقات کا تاثر برقرار رکھیں گے، لیکن واشنگٹن میں ہونے والی یہ ملاقات اس بات کا اہم امتحان ہے کہ آیا نیتن یاہو اب بھی امریکا کے ساتھ اپنے خصوصی تعلقات کو سیاسی سرمایہ بنا سکتے ہیں یا یہ برتری ماضی کا قصہ بنتی جا رہی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ملک بھر میں بارشوں کا نیا سلسلہ شروع، 5 اگست تک وقفے وقفے سے بارش کی پیشگوئی

بنگلہ دیشی طلبہ کے لیے علامہ محمد اقبال اسکالرشپ پروگرام کے دوسرے مرحلے کا آغاز

پی ٹی وی کی سابق نیوز کاسٹر اور معروف سماجی شخصیت جہاں آرا معین انتقال کرگئیں

طالبان حکومت وطن واپس آنے والے افغان مہاجرین کی آبادکاری میں ناکام، انسانی بحران کا خدشہ

اسمارٹ واچ پہننا کہیں خطرناک تو نہیں؟ ماہرین کا بڑا انکشاف

ویڈیو

راولاکوٹ میں فورسز پر حملے منظم سازش کا حصہ، متعدد ملزمان گرفتار، اسلحہ برآمد، ایس ایس پی پونچھ خاور علی شوکت

اہلِ کشمیر پاکستان سے محبت کرتے ہیں، ن لیگ کی جیت یقینی، ثاقب مجید راجا نے ایکشن کمیٹی کو ’فتنہ و فساد کمیٹی‘ قرار دے دیا

مراد علی شاہ کارکردگی میں بہتر اور مریم نواز ایڈورٹائزنگ میں، ترجمان سندھ حکومت سعدیہ جاوید

کالم / تجزیہ

اے ٹی ایم مشین 

28 جولائی 2010: وہ دن جب میرے قدموں تلے زمین نکل گئی

جاوید ہاشمی جواب دیں