اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو نے طویل عرصے سے امریکا کے ساتھ اپنے قریبی تعلقات کو اپنی سیاسی طاقت کا اہم ذریعہ بنا رکھا ہے۔ امریکی سیاست سے واقفیت اور مختلف امریکی صدور کے ساتھ مضبوط روابط کی بدولت وہ خود کو اسرائیل اور واشنگٹن کے درمیان سب سے مؤثر رابطہ قرار دیتے رہے ہیں۔
تاہم بدلتے علاقائی حالات اور امریکی پالیسی میں آنے والی تبدیلیوں نے ان کی اس حیثیت پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ کے دورِ صدارت میں نیتن یاہو کے تعلقات غیرمعمولی طور پر مضبوط سمجھے جاتے تھے، خاص طور پر اس وقت جب امریکا نے ایران کے خلاف اسرائیل کے ساتھ مشترکہ فوجی کارروائی میں حصہ لیا۔
🚨 AWESOME! Prof. Paul Musgrave drops a massive reality check.
He confirms Benjamin Netanyahu's stock has completely plumeted in the US.
He reveals the Zionist regime's disastous war choices have led to a humiliating quagmire, making Trump a much more skeptical audience! pic.twitter.com/g7eXjFeYH3
— BRICS+TODAY (@Afrijustice4all) July 28, 2026
لیکن ایران جنگ کے مطلوبہ نتائج نہ نکلنے اور مشرقِ وسطیٰ میں ٹرمپ کی نئی حکمت عملی نے دونوں رہنماؤں کے تعلقات میں فاصلے کا تاثر پیدا کیا ہے۔
اسی دوران امریکا میں غزہ جنگ، مغربی کنارے میں اسرائیلی آبادکاروں کے بڑھتے تشدد اور دیگر پالیسیوں پر اسرائیل کو شدید تنقید کا سامنا ہے۔
مبصرین کے مطابق ان عوامل نے نیتن یاہو کی اس سیاسی طاقت کو کمزور کیا ہے جس کی بنیاد وہ ہمیشہ امریکی حمایت کو بناتے رہے ہیں۔
🚨 JUST IN: Hours before Netanyahu's arrival in DC, President Trump makes clear Israel would NOT survive without America
"You know who wouldn't survive without us? ISRAEL."
"If I didn't get involved, and if I didn't blow up those soon-to-be nuclear weapons—the dust, as I call… pic.twitter.com/kLbpxIhhEv
— Nick Sortor (@nicksortor) July 27, 2026
یہ صورتحال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب نیتن یاہو کو اکتوبر کے آخر میں متوقع انتخابات، بدعنوانی کے مقدمات اور خطے میں جاری کشیدگی جیسے بڑے چیلنجز درپیش ہیں۔
ایسے میں ان کا حالیہ دورۂ واشنگٹن اور صدر ٹرمپ سے ملاقات نہ صرف سفارتی بلکہ داخلی سیاست کے لیے بھی اہم سمجھی جا رہی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ نیتن یاہو اس ملاقات کے ذریعے اسرائیلی عوام کو یہ تاثر دینا چاہتے ہیں کہ ان کے امریکا کے ساتھ تعلقات بدستور مضبوط ہیں۔
اسرائیل کے سابق سفیر ایلون پنکاس کے مطابق اس دورے کا اصل مقصد سیاسی فائدہ حاصل کرنا ہے۔ ان کے بقول نیتن یاہو ایک طرف اسرائیل میں اپنے ناقدین کو مطمئن کرنا چاہتے ہیں، جبکہ دوسری جانب وہ امید رکھتے ہیں کہ ٹرمپ ایک بار پھر ان کے خلاف جاری بدعنوانی کے مقدمات پر ان کے حق میں مؤقف اختیار کریں گے۔
"Prime Minister Netanyahu opposes sending the F-35s to Turkey…"@POTUS: "Nobody tells me what we should be selling or not. Turkey has been a tremendous ally." pic.twitter.com/8gSzavJ6Ce
— Rapid Response 47 (@RapidResponse47) July 27, 2026
دوسری جانب امریکا میں قدامت پسند شخصیات، نائب صدر جے ڈی وینس اور دیگر سیاسی حلقوں کی تنقید نے بھی نیتن یاہو کی پوزیشن کو متاثر کیا ہے۔
حال ہی میں ٹرمپ نے ترکیہ کو ایف 35 طیاروں کی ممکنہ فروخت پر اسرائیلی اعتراضات مسترد کرتے ہوئے کہا کہ امریکا کیا فروخت کرے گا، اس کا فیصلہ کوئی اور نہیں کرے گا۔
ماہرین کا خیال ہے کہ اگرچہ ٹرمپ اور نیتن یاہو عوامی سطح پر خوشگوار تعلقات کا تاثر برقرار رکھیں گے، لیکن واشنگٹن میں ہونے والی یہ ملاقات اس بات کا اہم امتحان ہے کہ آیا نیتن یاہو اب بھی امریکا کے ساتھ اپنے خصوصی تعلقات کو سیاسی سرمایہ بنا سکتے ہیں یا یہ برتری ماضی کا قصہ بنتی جا رہی ہے۔














