حکومت نے ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کا نیا نظام نافذ کر دیا ہے جس کے تحت اب آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) روزانہ کی بنیاد پر پیٹرول اور ڈیزل کی نئی قیمتوں کا اعلان کرے گی۔
یہ بھی پڑھیں: اوگرا روزانہ کی بنیاد پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین کرے گی، علی پرویز ملک
اس فیصلے کے بعد پہلی مرتبہ پیٹرول کی قیمت میں 35 پیسے فی لیٹر کمی کی گئی تاہم اس نئے نظام پر کاروباری اور ٹرانسپورٹ شعبے کی جانب سے مختلف خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
قبل ازیں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں پہلے ہر ماہ کی پہلی سے 15 تاریخ تک اور پھر 16 سے اگلے ماہ کی یکم تاریخ تک کے لیے مقرر کی جاتی تھیں تاہم پھر ایران امریکا کشیدگی کے بعد مہینے میں 2 مرتبہ کی بجائے ہر ہفتے ردوبدل کیا جانے لگا لیکن اب یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں کے اتار چڑھاؤ کے پیش نظر روزانہ کی بنیاد پر نرخ طے ہوا کریں گے۔
حکومت کا مؤقف ہے کہ اس اقدام سے قیمتوں کے تعین میں شفافیت آئے گی، ذخیرہ اندوزی اور مصنوعی قلت کی حوصلہ شکنی ہوگی اور عالمی مارکیٹ میں کمی کا فائدہ صارفین تک فوری پہنچ سکے گا۔
مزید پڑھیے: ہائی اسپیڈ ڈیزل مہنگا، پیٹرول معمولی سستا، حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اعلان کردیا
عوامی حلقوں میں کڑی تنقید کی جاتی رہی تھی کہ جب عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بڑھتی ہیں تو حکومت فوری طور پر قیمت بڑھا دیتی ہے تاہم تیل سستا ہونے پر قیمتیں فوری کم نہیں کی جاتیں۔ لہٰذا حکومت کے اس فیصلے کے اب بعد روزانہ قیمتوں کے تعین کے سبب عوام کو تیل کی قیمت گرنے پر فوری ریلیف مل جانے کا امکان ہے۔
گڈز ٹرانسپورٹرز کو کس مشکل کا سامنا ہے؟
گڈز ٹرانسپورٹرز، تاجروں اور کاروباری حلقوں نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں روزانہ کی بناید پر ردوبدل کے فیصلے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ روزانہ بدلتی قیمتیں تجارتی سرگرمیوں میں غیر یقینی صورتحال پیدا کر سکتی ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ کراچی سے اسلام آباد، پشاور، کوئٹہ یا گلگت جیسے دور دراز علاقوں تک سامان کی ترسیل میں کئی دن لگ جاتے ہیں اس دوران ڈیزل کی قیمت میں ممکنہ ردوبدل کے باعث ٹرانسپورٹ لاگت کا درست اندازہ لگانا مشکل ہوگا۔
ٹرانسپورٹرز کا کہنا ہے کہ ممکنہ مالی نقصان سے بچنے کے لیے انہیں پہلے ہی زیادہ کرایہ وصول کرنا پڑ سکتا ہے جس کے نتیجے میں اشیائے ضروریہ سمیت دیگر مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ پیدا ہوگا۔
مزید پڑھیں: کیا ملک بھر میں پیٹرولیم مصنوعات کی قلت کا خدشہ ہے؟
کاروباری برادری کے مطابق اگر نقل و حمل کے اخراجات بڑھتے ہیں تو اس کا بوجھ بالآخر عام صارفین پر منتقل ہوگا جس سے مہنگائی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔
دوسری طرف پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن نے حکومت کے اس فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے یومیہ قیمتوں کے نظام کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔
وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک سے پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کے وفد نے ملاقات میں ایسوسی ایشن کے چیف ایڈوائزر ملک خدا بخش نے آبنائے ہرمز کے بحران کے دوران ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنانے پر حکومت کی کارکردگی کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر سپلائی کے مسائل کے باوجود پاکستان میں ایندھن کی فراہمی مؤثر انداز میں برقرار رکھی گئی۔
حکومت کا مؤقف ہے کہ یومیہ قیمتوں کا نیا نظام 7 روزہ رولنگ ایوریج کی بنیاد پر ترتیب دیا گیا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ گو سابقہ ہفتہ وار نظام بھی 7 روزہ اوسط قیمت پر مبنی تھا تاہم روزانہ قیمتوں کے اعلان سے مارکیٹ زیادہ شفاف ہوگی مصنوعی اتار چڑھاؤ میں کمی آئے گی اور ذخیرہ اندوزی کی حوصلہ شکنی ہوگی۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت کا مقصد ایک شفاف، مسابقتی اور صارف دوست پیٹرولیم مارکیٹ قائم کرنا ہے تاکہ عالمی منڈی میں قیمتوں میں کمی یا اضافے کے اثرات بروقت صارفین تک منتقل کیے جا سکیں۔
یہ بھی پڑھیے: پیٹرولیم ڈیلرز کی یومیہ قیمتوں کے نظام کی حمایت، حکومت کے اصلاحاتی اقدامات کا خیرمقدم
پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کے وفد نے ملاقات میں مطالبہ کیا کہ پیٹرولیم ڈیلرز اور آئل مارکیٹنگ کمپنیوں (او ایم سیز) کے درمیان ضوابط کی تیاری میں ڈیلرز کو بھی شامل کیا جائے۔ اس پر وفاقی وزیر نے یقین دہانی کرائی کہ قواعد و ضوابط مرتب کرتے وقت ڈیلرز کی تجاویز کو بھی مدنظر رکھا جائے گا۔
وفد نے ڈیلرز کا مارجن 8 فیصد کرنے کا مطالبہ بھی پیش کیا جس پر علی پرویز ملک نے مثبت غور کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ اس حوالے سے پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن اور اوگرا کے حکام کے درمیان اجلاس بھی منعقد کیا جائے گا تاکہ متعلقہ معاملات کو مشاورت سے حل کیا جا سکے۔
واضح رہے کہ اوگرا نے پیر کی شب سے یومیہ بنیادوں پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل کا نیا نظام نافذ کر دیا ہے۔ نئی قیمتیں عالمی مارکیٹ میں خام تیل کے نرخوں اور 7 روزہ رولنگ ایوریج کو مدنظر رکھتے ہوئے روزانہ مقرر کی جائیں گی جبکہ اوگرا ہر روز نئی قیمتیں اپنی ویب سائٹ پر جاری کرے گا۔
ماہرین کے مطابق اس پالیسی کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ آیا عالمی منڈی میں قیمتوں میں کمی کا فائدہ فوری طور پر عوام تک منتقل ہوتا ہے یا روزانہ کی تبدیلیوں سے کاروباری لاگت اور مہنگائی میں مزید اضافہ دیکھنے میں آتا ہے۔ آئندہ چند ہفتوں میں اس نئے نظام کے عملی اثرات واضح ہو سکیں گے۔













