ضلعی انتظامیہ میرپور نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ان خبروں کی سختی سے تردید کی ہے جن میں کرفیو کے نفاذ، بلال مسجد کے امام کی شہادت اور مظاہروں کے دوران خواتین و بچوں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا گیا تھا۔
ترجمان ضلعی انتظامیہ میرپور نے ایک واضح بیان میں کہا ہے کہ سوشل میڈیا پر بلال مسجد کے امام عنایت اللہ (ساکن کھاریاں) کی مسجد میں شہادت کے حوالے سے پھیلائی جانے والی خبریں سراسر غلط، بے بنیاد اور حقائق کے منافی ہیں۔ اسی طرح شہر میں کرفیو کے نفاذ یا حکومت کی جانب سے کسی بھی غیر معمولی اقدام کی اطلاعات میں بھی کوئی صداقت نہیں ہے۔
یہ بھی پڑھیے ایکشن کمیٹی دہشتگردی پر اتر آئی، آزاد کشمیر میں قیام امن کے لیے حکومت کی ہرممکن مدد کریں گے، وفاقی حکومت
واقعات کی حقیقی صورتحال اور جانی نقصان
ترجمان کے مطابق گزشتہ روز میرپور کے مختلف مقامات پر پولیس اور مظاہرین کے درمیان پیش آنے والے افسوسناک تصادم میں کوئی خاتون یا بچہ جاں بحق نہیں ہوا۔ تاہم ان ناخوشگوار واقعات کے نتیجے میں مجموعی طور پر 3 افراد جاں بحق ہوئے ہیں۔
شہر کی صورتحال اور عوامی معمولات
ترجمان ضلعی انتظامیہ نے بتایا کہ آج میرپور شہر مکمل طور پر کھلا ہے اور امن و امان کی صورتحال انتہائی تسلی بخش ہے۔ شہری اپنے تمام روزمرہ کے کام کاج اور تجارتی سرگرمیاں حسبِ معمول بلا رکاوٹ انجام دے رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے مریم نواز کا ایک اور وعدہ پورا، مظفرآباد کے بعد میرپور میں بھی الیکٹرک بسیں پہنچ گئیں
ضلعی انتظامیہ نے شہریوں سے پرزور اپیل کی ہے کہ گزشتہ روز کے واقعات سے متعلق معلومات صرف اور صرف مستند و متعلقہ سرکاری ذرائع سے حاصل کریں۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی غیر مصدقہ خبروں اور افواہوں پر ہرگز یقین نہ کریں۔ شہر میں امن و امان کے قیام، سماجی ہم آہنگی اور قانون کی پاسداری کے لیے اپنا مثبت کردار ادا کریں۔ غیر تصدیق شدہ اطلاعات کو آگے شیئر کرنے سے مکمل اجتناب کریں تاکہ افواہوں کا سدِ باب کیا جا سکے اور شہر کا امن برباد نہ ہو۔













