پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں محمد نواز شریف نے آزاد جموں و کشمیر کے سینیئر رہنما اور سابق صوبائی وزیر ڈاکٹر نجیب نقی کو صدرِ آزاد کشمیر کے عہدے کے لیے اپنا امیدوار نامزد کر دیا ہے۔
مسلم لیگ (ن) کی اعلیٰ قيادت اور قائد نواز شریف نے پارٹی مشاورت کے بعد ڈاکٹر نجیب نقی کے نام کی منظوری دی۔
ڈاکٹر نجیب نقی کا تعلق آزاد کشمیر کے پونچھ ڈویژن کے حلقہ سدھنوتی/پلندری سے ہے۔
وہ آزاد کشمیر کے سیاسی منظر نامے میں ایک نمایاں مقام رکھتے ہیں اور ماضی میں بطور وزیر حکومت مختلف اہم و کلیدی وزارتوں پر خدمات سرانجام دے چکے ہیں۔
واضح رہے کہ قبل ازیں آزاد جموں و کشمیر میں آئینی عمل کو آگے بڑھاتے ہوئے چیف الیکشن کمشنر نے گزشتہ روز ریاست کے نئے صدر کے انتخاب کا باقاعدہ شیڈول جاری کر دیا تھا، جس کے تحت نئے صدرِ ریاست کا انتخاب 24 ستمبر 2026 کو عمل میں لایا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیے آزاد کشمیر کے نئے صدر کے انتخاب کا شیڈول جاری
الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کردہ شیڈول کے مطابق صدرِ ریاست کے انتخاب کے لیے کاغذاتِ نامزدگی 19 ستمبر 2026 کو جمع کرائے جائیں گے اور اسی روز ان کی جانچ پڑتال (اسکروٹنی) کا عمل مکمل کیا جائے گا۔ نامزدگی کے امیدوار 23 ستمبر تک اپنے کاغذات واپس لے سکیں گے۔ صدارتی انتخاب کے لیے پولنگ 24 ستمبر 2026
واضح رہے کہ گزشتہ برس صدر بیرسٹر سلطان محمود کے انتقال کے بعد سے یہ آئینی عہدہ خالی ہے۔ صدر کی عدم موجودگی میں اسپیکر قانون ساز اسمبلی قائم مقام صدر کی ذمے داریاں انجام دے رہے ہیں۔
کو صبح 10 بجے سے دوپہر 1 بجے تک قانون ساز اسمبلی سیکریٹریٹ مظفرآباد میں ہو گی، جہاں قانون ساز اسمبلی کے ارکان اپنا حقِ رائے دہی استعمال کریں گے۔
یہ بھی پڑھیے آصف زرداری کی زیرصدارت اہم اجلاس، آزاد کشمیر میں جیالا صدر لانے کا فیصلہ
آزاد جموں و کشمیر کی آئینی ساخت کے تحت صدرِ ریاست کا انتخاب قانون ساز اسمبلی کے ارکان کے ذریعے عمل میں آتا ہے۔ حال ہی میں آزاد کشمیر میں عام انتخابات کے بعد نئی اسمبلی کا قیام اور حکومت سازی کا عمل مکمل ہوا ہے، جس کے بعد نو منتخب وزیراعظم نے اپنے عہدے کا حلف اٹھایا ہے۔
نئی حکومت کے قیام کے بعد اب آئینی تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے اعلیٰ ترین آئینی عہدے یعنی صدرِ ریاست کا انتخاب کروایا جا رہا ہے تاکہ انتظامی و آئینی تسلسل کو مکمل کیا جا سکے۔ صدارتی انتخاب کے نتیجے میں منتخب ہونے والے نئے صدر، آئین کے مطابق اپنے عہدے کا حلف اٹھائیں گے۔














