ہالی ووڈ فلم پروڈیوسر سائمن افرام نے معروف اسٹریمنگ کمپنی نیٹ فلکس کے خلاف 10 کروڑ 50 لاکھ ڈالر ہرجانے کا مقدمہ دائر کر دیا ہے۔ پروڈیوسر کا الزام ہے کہ ان کی غیر ریلیز شدہ فلم کی ماسٹر کاپی نیٹ فلکس کے ہالی ووڈ اسٹوڈیوز سے چوری ہو گئی، جس سے فلم کی مالیت متاثر ہوئی۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق سائمن افرام نے کیلیفورنیا کی عدالت میں دائر درخواست میں مؤقف اختیار کیا کہ فلم سازوں نے نیٹ فلکس کی درخواست پر جون میں دوسری جنگ عظیم کے پس منظر پر بننے والی فلم ’فورٹی ٹیوڈ‘ کی غیر محفوظ ماسٹر کاپی کمپنی کو فراہم کی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: نیٹ فلکس اور ‘کپل شرما شو’ پر کاپی رائٹ خلاف ورزی کا مقدمہ
پروڈیوسر کے مطابق انہوں نے اس فلم کی تیاری پر 4 کروڑ 50 لاکھ ڈالر سے زیادہ خرچ کیے اور یہ منصوبہ مکمل ہونے میں 7 سال لگے۔ وہ فلم کو نیٹ فلکس یا کسی اور تقسیم کار ادارے کو فروخت کرنے کے لیے بات چیت کر رہے تھے۔
درخواست میں کہا گیا کہ فلم کی ماسٹر کاپی فراہم کرنے کے 9 دن بعد نیٹ فلکس کی جانب سے ایک ای میل کے ذریعے اطلاع دی گئی کہ اسٹوڈیو سے کئی ہارڈ ڈرائیوز چوری ہو گئی ہیں، جن میں ایک ڈرائیو وہ بھی تھی جس میں فلم ’فورٹی ٹیوڈ‘ موجود تھی۔
پروڈیوسر کے وکلا کا مؤقف ہے کہ فلم کی قدر متاثر ہوچکی ہے کیونکہ کوئی بھی تقسیم کار ایسی فلم خریدنے میں ہچکچائے گا جو ممکنہ طور پر غیر قانونی ویب سائٹس پر دستیاب ہوسکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: نیٹ فلکس کی حکمت عملی میں بڑی تبدیلی، ’نارنیا‘ 45 روز تک صرف بڑے پردے کی زینت بنے گی
مقدمے میں کہا گیا کہ نیٹ فلکس کو ہارڈ ڈرائیو کی حفاظت کے لیے بہتر اقدامات کرنے چاہییں تھے۔ پروڈیوسر نے عدالت سے کم از کم 10 کروڑ 50 لاکھ ڈالر ہرجانے کا مطالبہ کیا ہے۔
نیٹ فلکس نے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ایسے کسی بھی دعوے سے اختلاف کرتا ہے جس میں فلم کی غیر محفوظ فراہمی کے نقصان کی ذمہ داری کمپنی پر عائد کی جائے۔
کمپنی نے اپنے بیان میں کہا کہ اگرچہ ’فورٹی ٹیوڈ‘ کے حقوق اس کے پاس نہیں ہیں، تاہم مواد کے تحفظ کو سنجیدگی سے لیا جاتا ہے اور فلم سازوں کی مدد کے لیے اضافی اقدامات کیے گئے ہیں، جن میں چوری کی تحقیقات اور غیر قانونی تقسیم کی نگرانی شامل ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بالی ووڈ کے کپور خاندان پر ڈاکیومنٹری جلد نیٹ فلیکس پر ریلیز کی جائے گی
نیٹ فلکس کا کہنا ہے کہ اس نے تحقیقات سے متعلق کچھ معلومات پروڈیوسر کے وکلا کے ساتھ شیئر نہیں کیں کیونکہ ان کے بقول پروڈیوسر کی جانب سے تعاون کے بجائے کمپنی سے رقم وصول کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔














