افغانستان کے صوبہ بدخشاں کے ضلع یفتلِ پایین میں طالبان نے مظاہرین پر فائرنگ کر دی، جس کے نتیجے میں متعدد افراد ہلاک اور زخمی ہوگئے۔ بین الاقوامی میڈیا کے مطابق ہلاکتوں اور زخمیوں کی حتمی تعداد تاحال سامنے نہیں آ سکی۔
بین الاقوامی میڈیا کے مطابق بدخشاں کے ضلع یفتلِ پایین میں ہفتے کے روز مقامی شہریوں نے طالبان کے مبینہ مظالم اور کارروائیوں کے خلاف احتجاج کیا، جس پر طالبان اہلکاروں نے مظاہرین پر فائرنگ کر دی۔ سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی ویڈیوز میں فائرنگ کی آوازیں اور زخمیوں کو جائے وقوع سے منتقل کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔
مقامی رہائشیوں کا کہنا ہے کہ احتجاج اس وقت شروع ہوا جب طالبان اہلکاروں نے یفتل بازار میں ایک خاتون کی مبینہ طور پر جسمانی تلاشی لی، جس پر عوام میں شدید غم و غصہ پھیل گیا۔ مظاہرین کا مؤقف تھا کہ گزشتہ چند ہفتوں کے دوران طالبان نے ضلع میں بڑی تعداد میں اہلکار تعینات کیے، من مانی گرفتاریاں کیں، گھروں کی تلاشی لی اور مقامی آبادی کو ہراساں کیا۔
🚨 🇦🇫 – 𝗧𝗔𝗝𝗜𝗞𝗦 𝗣𝗥𝗢𝗧𝗘𝗦𝗧𝗦 𝗔𝗚𝗔𝗜𝗡𝗦𝗧 𝗧𝗛𝗘 𝗧𝗔𝗟𝗜𝗕𝗔𝗡 𝗜𝗡 𝗬𝗔𝗙𝗧𝗔𝗟
Tajik locals have stood up with sticks and stones against the Taliban regime in Yaftal, Badakhshan. At least 3 civillians have been killed by the Taliban (1 August 2026) pic.twitter.com/ZcYkkXwcGT
— NRF Forum (@NRFForum) August 1, 2026
یہ کشیدگی اس وقت مزید بڑھ گئی جب گزشتہ ماہ نو قائم ہونے والے طالبان مخالف گروپ ’سپاہِ میہن فرنٹ‘ نے مختصر وقت کے لیے یفتلِ پایین پر قبضہ کر لیا تھا۔ گروپ نے طالبان اہلکاروں کو غیر مسلح کرنے اور سرکاری عمارتوں پر اپنا پرچم لہرانے کے بعد ضلع سے پسپائی اختیار کر لی تھی۔
اس واقعے کے بعد طالبان نے ضلع میں مزید نفری تعینات کرتے ہوئے بڑے پیمانے پر گرفتاریاں اور گھر گھر تلاشی کا سلسلہ شروع کر دیا۔ مقامی افراد کا الزام ہے کہ طالبان اہلکاروں نے شہریوں کو تشدد کا نشانہ بنایا، ان کی تذلیل کی اور انہیں ہراساں کیا۔
یہ بھی پڑھیں:بدخشاں طالبان مخالف مزاحمت کا نیا مرکز بننے لگا،امریکی رپورٹ
مظاہرین نے اپنے احتجاج کے دوران مطالبہ کیا کہ بدخشاں سے غیر مقامی طالبان اہلکاروں کو واپس بھیجا جائے۔ حالیہ ہفتوں میں بدخشاں میں سیکیورٹی کی صورتحال مسلسل کشیدہ رہی ہے، جہاں طالبان مخالف مزاحمتی گروپوں اور طالبان کے درمیان جھڑپوں کے علاوہ داعش خراسان بھی حملوں کی ذمہ داری قبول کرتی رہی ہے۔ حال ہی میں داعش خراسان نے بدخشاں میں طالبان کے محکمہ اطلاعات و ثقافت کے سربراہ ذبیح اللہ امیری کے قتل کی ذمہ داری بھی قبول کی تھی۔












