سپریم کورٹ نے غیر قانونی بھرتیوں سے متعلق کیس میں سابق وزیراعلیٰ پنجاب پرویز الہیٰ کی جانب سے جسمانی ریمانڈ کے خلاف دائر اپیل واپس لینے کی بنیاد پر خارج کر دی۔
مزید پڑھیں:نگراں حکومت کی سانحہ 9 مئی سے متعلق رپورٹ میں پرویز الہیٰ اور شاہ محمود قریشی بری الذمہ قرار؟
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔ دوران سماعت پرویز الہیٰ کے وکیل عامر سعید راں نے مؤقف اختیار کیا کہ مقدمے میں ایک اہم قانونی سوال موجود ہے۔
اس پر جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ کیا یہ اپیل غیر مؤثر نہیں ہو چکی؟ انہوں نے کہا کہ آپ ایک غیر مؤثر معاملے پر محض علمی (اکیڈمک) بحث کرنا چاہتے ہیں۔
وکیل عامر سعید راں نے عدالت کو بتایا کہ پرویز الہیٰ کی ضمانت کے خلاف حکومت کی اپیل بھی خارج ہو چکی ہے۔ اس پر جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اپیل واپس لے کر متعلقہ فورم سے رجوع کریں۔
مزید پڑھیں:سپریم کورٹ: حمزہ شہباز نظر ثانی کیس میں پرویز الہیٰ کو نوٹس جاری
بعد ازاں پرویز الہیٰ کی قانونی ٹیم نے جسمانی ریمانڈ سے متعلق اپیل واپس لے لی، جس پر سپریم کورٹ نے درخواست واپس لینے کی بنیاد پر خارج کر دی۔













