’ساڑھے 10 کا مطلب 11 ہوتا ہے، جانا ہے تو چلی جائیں‘، دیر سے آنے پر خاتون صحافی نے احتجاج کیا تو مصطفیٰ کمال بھڑک اٹھے

منگل 4 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال ایک میڈیا بریفنگ میں مقررہ وقت سے تاخیر سے پہنچنے اور بعد ازاں ایک خاتون صحافی سے ہونے والے مکالمے کے باعث تنقید کی زد میں آ گئے۔ واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد صحافی برادری اور صارفین کی جانب سے وقت کی پابندی اور میڈیا کے ساتھ حکومتی شخصیات کے رویے پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

وائرل ویڈیو کے مطابق وزیرِ صحت نے میڈیا بریفنگ کے لیے صبح ساڑھے 10 بجے کا وقت دیا تھا تاہم وہ تقریباً 11 بجے پہنچے۔ اس دوران شدید گرمی میں انتظار کرنے والے صحافیوں میں بے چینی پائی گئی۔

وزیرِ صحت کی آمد پر ایک خاتون صحافی نے احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ میڈیا نمائندگان ساڑھے 10 بجے سے شدید گرمی میں ان کے منتظر ہیں۔ اس پر مصطفیٰ کمال نے جواب دیا ’گرمی میں نے کی ہے؟‘ بعد ازاں انہوں نے کہا ’ساڑھے 10 بجے کا مطلب 11 بجے ہوتا ہے‘، اور مزید کہا ’اگر جانا ہے تو آپ چلی جائیں‘۔

یہ مکالمہ سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہوگیا جس کے بعد صحافیوں، سوشل میڈیا صارفین اور مختلف مبصرین نے وزیرِ صحت کے رویے پر تنقید کی۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ عوامی عہدوں پر فائز شخصیات سے نہ صرف وقت کی پابندی بلکہ میڈیا کے ساتھ پیشہ ورانہ، شائستہ اور ذمہ دارانہ رویے کی بھی توقع کی جاتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ’اف ہم تو ڈر گئے‘، بلاول کی جانب سے حکومت کو الٹی میٹم دینے پر عظمیٰ بخاری کا طنز

کئی صارفین نے کہا کہ اگر وفاقی وزراء کیمروں کے سامنے میڈیا کے ساتھ ایسا رویہ اختیار کریں تو اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ ماتحت سرکاری افسران عوام کے ساتھ کیسا سلوک کرتے ہوں گے۔ پھر یہی سوال اٹھتا ہے کہ آخر نظام کیوں ناکام ہوتا ہے؟ جس ملک میں وفاقی وزیر خود وقت کی پابندی کو سنجیدگی سے نہ لے، وہاں نظام فیل ہی ہو گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp