اسلامی تعلیمات کی روشنی میں جاری ایک آگاہی پیغام میں واضح کیا گیا ہے کہ ریاستی نظم کے خلاف مسلح بغاوت کو جہاد قرار دینا قرآن و سنت کی درست تعبیر نہیں۔ پیغام میں متعدد قرآنی آیات اور احادیثِ نبویؐ کے حوالے دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اسلام امن، نظم، اتحاد اور قانون کی پاسداری کا دین ہے، جبکہ بے گناہ انسانوں کا قتل، مسلح تصادم اور فتنہ و فساد کسی صورت جائز نہیں۔
اسلامی تعلیمات پر مبنی ایک آگاہی پیغام میں کہا گیا ہے کہ ریاستی نظم کے خلاف مسلح بغاوت کو جہاد قرار دینا قرآن و سنت کی تعلیمات کے منافی ہے۔ پیغام میں سورۂ النساء (4:59) کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ اہلِ ایمان کو اللہ، رسولؐ اور اولی الامر کی اطاعت کا حکم دیتے ہیں، جبکہ اختلاف کی صورت میں معاملہ اللہ اور اس کے رسولؐ کی طرف لوٹانے کی ہدایت فرماتے ہیں۔
اس ضمن میں رسول اللہ کا یہ ارشاد بھی نقل کیا گیا کہ ’جو ہمارے خلاف ہتھیار اٹھائے وہ ہم میں سے نہیں‘ (صحیح مسلم: 100)، جسے ریاست اور معاشرے کے خلاف مسلح کارروائی کی واضح ممانعت قرار دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:بلوچستان: فتنہ الہندوستان کے دہشتگردوں نے 2 افراد کو اغوا کرلیا، ڈھائی کروڑ روپے تاوان طلب
پیغام میں کہا گیا کہ بے گناہ جانوں کو نشانہ بنانا کسی بھی دینی مقصد کو جائز نہیں بنا سکتا۔ اس حوالے سے سورۂ المائدہ (5:32) کا حوالہ دیا گیا، جس میں انسانی جان کی حرمت کو انتہائی بلند مقام دیا گیا ہے۔ اسی طرح نبی کریمؐ کا فرمان نقل کیا گیا کہ ’مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں‘ (صحیح بخاری: 10)۔
آگاہی پیغام میں فتنہ و فساد سے اجتناب پر زور دیتے ہوئے سورۂ البقرہ (2:195) کی آیت ’اپنے آپ کو ہلاکت میں نہ ڈالو‘ کا حوالہ دیا گیا۔ اس کے ساتھ رسول اکرمؐ کی وہ ہدایت بھی بیان کی گئی جس میں فتنوں کے دور میں ان سے دور رہنے اور پناہ اختیار کرنے کی تلقین کی گئی ہے (صحیح بخاری: 7082)۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ اسلام باہمی خونریزی، مسلح تصادم اور انتشار کے بجائے اتحاد، نظم و ضبط اور اصلاح کی تعلیم دیتا ہے۔ اس ضمن میں سورۂ الانفال (8:46) کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ باہمی نزاع قوم کی قوت کو کمزور کر دیتی ہے، جبکہ رسول اللہ نے مسلمانوں کو ایک دوسرے کی گردنیں مارنے سے سختی سے منع فرمایا ہے (صحیح بخاری: 7079)۔
پیغام میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ اختلافِ رائے یا شکایات کا مطلب قانون ہاتھ میں لینا یا ہتھیار اٹھانا نہیں۔ سورۂ النساء (4:59) کے مطابق اسلام نظم و اطاعت کی تعلیم دیتا ہے، جبکہ نبی کریمؐ نے فرمایا کہ حکام کی اطاعت معروف امور میں واجب ہے، البتہ اگر گناہ کا حکم دیا جائے تو اس میں اطاعت نہیں (صحیح مسلم: 1839)۔
آگاہی پیغام میں زور دیا گیا کہ اسلامی تعلیمات کے مطابق اصلاح کا راستہ ہمیشہ شرعی، آئینی، پُرامن اور ذمہ دارانہ ہونا چاہیے، نہ کہ مسلح بغاوت، انتشار اور فتنہ و فساد۔













