وفاقی حکومت نے جاپان کی بین الاقوامی تعاون ایجنسی (جائیکا) کو اربوں ڈالر مالیت کے مین لائن ون یعنی ایم ایل-1 ریلوے منصوبے میں مشترکہ مالی معاونت کی باضابطہ دعوت دیدی ہے۔
حکومت کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد جاپان کے ساتھ ترقیاتی تعاون کو مزید وسعت دینا اور پاکستان کے اہم انفراسٹرکچر منصوبوں کے لیے بین الاقوامی شراکت داری کو مضبوط بنانا ہے۔
یہ پیشرفت وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور احد چیمہ اور جائیکا کے صدر ڈاکٹر تاناکا آکی ہیکو کے درمیان اسلام آباد میں ہونے والی ملاقات کے دوران سامنے آئی۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم شہباز شریف سے جائیکا کے صدر کی ملاقات، معدنیات، ہنرمندی اور ایس ایم ایز میں تعاون بڑھانے پر اتفاق
ملاقات میں دونوں ممالک کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی اور پاکستان کے مختلف ترقیاتی شعبوں میں تعاون بڑھانے، نئے منصوبوں کی نشاندہی اور مستقبل کی مشترکہ حکمت عملی پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔
احد چیمہ نے جائیکا کے صدر اور ان کے وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ جاپان گزشتہ 7 دہائیوں سے پاکستان کا ایک قابل اعتماد ترقیاتی شراکت دار رہا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ جاپان کی جانب سے تقریباً 11.7 ارب ڈالر کی سرکاری ترقیاتی امداد کے ذریعے توانائی، ٹرانسپورٹ، صنعت، زراعت، آبی وسائل، صحت، تعلیم اور سیکیورٹی سمیت متعدد شعبوں میں اہم منصوبے مکمل کیے گئے، جن سے پاکستان کی سماجی اور اقتصادی ترقی میں نمایاں مدد ملی۔
مزید پڑھیں: جاپان کے تعاون سے سندھ کے دیہی علاقوں میں 20 گرلز پرائمری اسکولوں کی اپ گریڈیشن مکمل
وفاقی وزیر نے ملاقات کے دوران جائیکا پر زور دیا کہ وہ ایم ایل-1 ریلوے منصوبے میں مشترکہ مالی معاونت پر غور کرے، ان کا کہنا تھا کہ ایشیائی ترقیاتی بینک اور دیگر ترقیاتی شراکت دار پہلے ہی اس منصوبے میں دلچسپی رکھتے ہیں، جبکہ جائیکا کی شمولیت سے منصوبے کی رفتار اور استعداد میں مزید اضافہ ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ ایم ایل-1 کی اپ گریڈیشن سے ریلوے کا نظام جدید تقاضوں سے ہم آہنگ ہوگا، مال برداری اور مسافر ٹرینوں کی کارکردگی بہتر ہوگی، صنعتی مراکز کے درمیان رابطے مضبوط ہوں گے اور ملکی و بین الاقوامی تجارت کو فروغ ملے گا، جس سے پائیدار اقتصادی ترقی کی راہ ہموار ہوگی۔
ڈاکٹر تاناکا آکی ہیکو نے منصوبے کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ جائیکا حکومت پاکستان کی اس تجویز کا تفصیلی جائزہ لے گی۔













