بلوچستان اسمبلی نے بھارت کے 5 اگست 2019 کے اقدامات کے خلاف مذمتی قرارداد متفقہ منظور کرلی

بدھ 5 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے یومِ استحصالِ کشمیر کے موقع پر بلوچستان اسمبلی میں مقبوضہ جموں و کشمیر کی صورتحال اور بھارت کے 5 اگست 2019 کے یکطرفہ اقدامات کے خلاف مشترکہ مذمتی قرارداد پیش کی، جسے ایوان نے متفقہ طور پر منظور کرلیا۔

قرارداد وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی، صوبائی وزرا میر محمد صادق عمرانی، میر ظہور احمد بلیدی، میر شعیب نوشیروانی، فیصل خان جمالی اور پارلیمانی سیکرٹری برکت علی رند نے مشترکہ طور پر پیش کی۔

یہ بھی پڑھیں: یوم استحصال کشمیر پر صدر زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف کے خصوصی پیغامات

قرارداد میں کہا گیا کہ 5 اگست 2019 کو بھارت کی جانب سے بھارتی آئین کے آرٹیکل 370 اور آرٹیکل 35 اے کی یکطرفہ منسوخی غیر آئینی، غیر قانونی اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کی صریح خلاف ورزی ہے، جس کی بلوچستان اسمبلی شدید مذمت کرتی ہے۔

قرارداد کے مطابق آرٹیکل 370 مقبوضہ جموں و کشمیر کو خصوصی آئینی حیثیت، اپنا آئین، اپنا پرچم اور داخلی خودمختاری فراہم کرتا تھا، جبکہ آرٹیکل 35 اے ریاست کے مستقل باشندوں کو سرکاری ملازمت، جائیداد کی ملکیت اور سکونت کے خصوصی حقوق دیتا تھا۔ ان دفعات کے خاتمے سے کشمیری عوام کی شناخت، آئینی حیثیت اور بنیادی حقوق سلب کرنے کی کوشش کی گئی۔

ایوان نے تشویش کا اظہار کیا کہ ان اقدامات کے ذریعے مقبوضہ جموں و کشمیر کی متنازع حیثیت کو یکطرفہ طور پر تبدیل کرنے اور آبادی کا تناسب بدلنے کی کوشش کی جا رہی ہے، جبکہ غیر کشمیری افراد کو زمینوں کی خریداری اور سرکاری ملازمتوں تک رسائی دے کر بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کی جارہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: یوم استحصال کشمیر: 7 برس گزر گئے، مقبوضہ وادی آج بھی پابندیوں، گرفتاریوں اور غیر یقینی مستقبل کی تصویر

قرارداد میں مقبوضہ جموں و کشمیر میں ریاستی دہشت گردی، محاصروں، ماورائے عدالت گرفتاریوں، انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور میڈیا پر عائد پابندیوں کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا گیا کہ یہ اقدامات کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت اور ان کی جائز امنگوں کو دبانے کی ناکام کوشش ہیں۔

بلوچستان اسمبلی نے مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے عزم ظاہر کیا کہ پاکستان کشمیری عوام کی سیاسی، سفارتی، اخلاقی اور قانونی حمایت جاری رکھے گا اور انہیں کبھی تنہا نہیں چھوڑے گا۔

قرارداد میں ہر سال 5 اگست کو یومِ استحصالِ کشمیر کے طور پر منانے کی توثیق کرتے ہوئے کہا گیا کہ اس دن ملک بھر میں مختلف تقریبات کے ذریعے عالمی برادری کو بھارتی مظالم سے آگاہ کیا جائے گا اور کشمیری عوام کی جدوجہدِ آزادی کو اجاگر کیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں: یوم استحصال کشمیر: افواج پاکستان کا کشمیری عوام کے حق خودارادیت کی مکمل حمایت کا اعادہ

ایوان نے صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ وفاقی حکومت سے رجوع کرے تاکہ مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ، اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) اور دیگر بین الاقوامی فورمز پر مؤثر سفارتکاری کے ذریعے مزید بھرپور انداز میں اٹھایا جائے، جبکہ مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کی قانونی اور سفارتی معاونت کے لیے جامع قومی حکمتِ عملی بھی تشکیل دی جائے۔

قرارداد کے اختتام پر مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کی قربانیوں، ثابت قدمی اور جدوجہدِ آزادی کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے دعا کی گئی کہ اللہ تعالیٰ کشمیری عوام کو ظلم و جبر سے نجات اور آزادی، امن و انصاف کی نعمت عطا فرمائے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

نئے انتظامی یونٹس وقت کی ضرورت، ہم مطالبہ نہیں بلکہ تجویز کی حمایت کر رہے ہیں، مصطفیٰ کمال

پیٹرولیم لیوی کے خلاف جماعت اسلامی کے کراچی، لاہور اور پشاور میں دھرنے

آزاد کشمیر کی مخصوص نشستوں پر پولنگ 24 اگست کو، امیدواروں کے نام بھی سامنے آگئے

نئے انتظامی یونٹس سے گورننس بہتر ہوسکتی ہے، ایس ڈی پی آئی کے قومی مباحثے میں ماہرین کی رائے

نئے انتظامی یونٹس کے بغیر بہتر گورننس ممکن نہیں، ایس ڈی پی آئی کے قومی مباحثے میں ماہرین کا اتفاق

ویڈیو

نئے انتظامی یونٹس سے گورننس بہتر ہوسکتی ہے، ایس ڈی پی آئی کے قومی مباحثے میں ماہرین کی رائے

اسلام ماخا چیف کی ’یو ایف سی‘ فائٹ میں مسلسل 17 ویں فتح، نیا عالمی ریکارڈ بھی قائم کردیا

ایران کا ہرمز کھولنے سے قبل امریکا سے معاہدے کی پاسداری کا مطالبہ، خطے میں کشیدگی بڑھ گئی

کالم / تجزیہ

انکار کا اعزاز

چربیلی آگ پر چل کر سچائی ثابت کرنا

مایوس ہونے سے پہلے یہ حساب کتاب بھی کر لیں