پاکستان کے مایہ ناز سابق ٹیسٹ اوپنر صادق محمد نے ویسٹ انڈیز کے خلاف دوسرے ٹیسٹ میں پاکستانی بلے بازوں کی بیٹنگ پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے سیم ہوتی گیند کے خلاف بنیادی تکنیک کا درست استعمال نہیں کیا اور نہ ہی حریف بولرز پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کی۔
یہ بھی پڑھیں: اب صرف بلا اور گیند ہی نہیں چلیں گے، پاکستانی کرکٹرز کی کارکردگی کے لیے ہائی ٹیک فارمولا بھی تیار
سنہ1969 سے سنہ 1981 کے درمیان پاکستان کی جانب سے 41 ٹیسٹ میچ کھیلنے والے 81 سالہ صادق محمد نے اپنے پیغامات میں کہا کہ پاکستانی بلے بازوں کو سیم ہوتی گیند کا بہتر انداز میں مقابلہ کرنے کے لیے کریز سے تقریباً 2 فٹ آگے کھڑے ہو کر بیٹنگ کرنی چاہیے۔
انہوں نے پاکستان ٹیم کے بیٹنگ کوچ اسد شفیق سے کہا کہ وہ یہ پیغام بابر اعظم اور دیگر بلے بازوں تک پہنچائیں۔
صادق محمد کے مطابق اگر بیٹرز کریز سے آگے کھڑے ہوں گے تو اچھی لینتھ کی گیند فل لینتھ میں تبدیل ہو جائے گی جس پر ڈرائیو کھیلنا آسان ہوگا جبکہ اس سے ویسٹ انڈین بولرز کی لائن اور لینتھ بھی متاثر ہوگی اور گیند کو پچ سے زیادہ موومنٹ لینے کا موقع نہیں ملے گا۔
مزید پڑھیے: ٹیسٹ کرکٹ کی دوسری اننگز میں پاکستانی بیٹرز کی بدترین کارکردگی، حیران کن اعداد و شمار
سابق اوپنر نے پاکستانی بلے بازوں کی تکنیک پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ بیشتر بیٹرز گیند کو بہت دیر سے کھیل رہے تھے جس کے باعث زیادہ تر شاٹس اسکوائر کے پیچھے کی سمت گئے۔
انہوں نے کہا کہ بلے بازوں کو بیک فٹ یا فرنٹ فٹ پر کھیلتے وقت بیٹ کو اگلے پاؤں کے قریب رکھنا چاہیے نہ کہ پچھلے پاؤں کے پیچھے کیونکہ ایسا کرنے سے ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے گیند خود بیٹ سے ٹکرا رہی ہو جبکہ اچھا بلے باز گیند کو خود کھیلتا ہے۔

صادق محمد نے مزید کہا کہ پاکستان کے ابتدائی 5 بلے باز ضرورت سے زیادہ محتاط رہے اور ڈرائیو یا جارحانہ شاٹس کھیلنے سے گریز کرتے رہے حالانکہ انہیں مناسب مواقع پر خطرہ مول لیتے ہوئے رنز بنانے کی کوشش کرنی چاہیے تھی۔
مزید پڑھیں: بابر اعظم گلوکار بن گئے، نسیم شاہ، سلمان علی آغا اور ساتھی کرکٹرز کا دلچسپ ردعمل
انہوں نے بیٹنگ کوچ اسد شفیق پر بھی زور دیا کہ وہ دوران میچ میدان میں موجود بلے بازوں تک تکنیکی ہدایات بروقت پہنچائیں تاکہ وہ اپنی غلطیوں کو فوری طور پر درست کر سکیں۔
بعد ازاں صادق محمد نے اس نمائندے سے گفتگو کرتے ہوئے اسد شفیق کی بھی تعریف کی اور کہا کہ ان جیسے تجربہ کار سابق بلے بازوں کو قومی ٹیم کے ساتھ ضرور ہونا چاہیے کیونکہ وہ اپنی ذمہ داری احسن انداز میں نبھا رہے ہیں اور ان کی رہنمائی ٹیم کے لیے مفید ثابت ہو سکتی ہے۔
واضح رہے کہ ویسٹ انڈیز کے خلاف دوسرے ٹیسٹ میچ میں پاکستانی ٹیم کی کارکردگی اب تک کچھ بہتر ہی ہے۔ پاکستان نے پہلی اننگز میں عبداللہ شفیق کی شاندار 160 اور بابر اعظم کی 88 رنز کی اننگز کی بدولت ویسٹ انڈیز پر 43 رنز کی برتری حاصل کی تھی۔
یہ بھی پڑھیے: ’ سوشل میڈیا پر مہم چلاؤ اور ٹیم میں آجاؤ‘، پاکستانی ٹیم میں تبدیلیوں پر صارفین کے تبصرے
ویسٹ انڈیز نے اپنی دوسری اننگز میں 103 رنز پر 6 وکٹیں گنوا کر مجموعی طور پر 60 رنز کی برتری حاصل کر لی ہے جبکہ پاکستان کے آف اسپنر ساجد خان نے عمدہ بولنگ کرتے ہوئے 4 وکٹیں 32 رنز کے عوض حاصل کیں۔














