’اولڈ از گولڈ‘: ویسٹ انڈین بولرز سے کیسے نپٹنا ہے؟ سابق ٹیسٹ اوپنر صادق محمد کے پاکستانی بیٹرز کو مفید مشورے

بدھ 5 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان کے مایہ ناز سابق ٹیسٹ اوپنر صادق محمد نے ویسٹ انڈیز کے خلاف دوسرے ٹیسٹ میں پاکستانی بلے بازوں کی بیٹنگ پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے سیم ہوتی گیند کے خلاف بنیادی تکنیک کا درست استعمال نہیں کیا اور نہ ہی حریف بولرز پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کی۔

یہ بھی پڑھیں: اب صرف بلا اور گیند ہی نہیں چلیں گے، پاکستانی کرکٹرز کی کارکردگی کے لیے ہائی ٹیک فارمولا بھی تیار

سنہ1969  سے سنہ 1981 کے درمیان پاکستان کی جانب سے 41 ٹیسٹ میچ کھیلنے والے 81 سالہ صادق محمد نے اپنے پیغامات میں کہا کہ پاکستانی بلے بازوں کو سیم ہوتی گیند کا بہتر انداز میں مقابلہ کرنے کے لیے کریز سے تقریباً 2 فٹ آگے کھڑے ہو کر بیٹنگ کرنی چاہیے۔

انہوں نے پاکستان ٹیم کے بیٹنگ کوچ اسد شفیق سے کہا کہ وہ یہ پیغام بابر اعظم اور دیگر بلے بازوں تک پہنچائیں۔

صادق محمد کے مطابق اگر بیٹرز کریز سے آگے کھڑے ہوں گے تو اچھی لینتھ کی گیند فل لینتھ میں تبدیل ہو جائے گی جس پر ڈرائیو کھیلنا آسان ہوگا جبکہ اس سے ویسٹ انڈین بولرز کی لائن اور لینتھ بھی متاثر ہوگی اور گیند کو پچ سے زیادہ موومنٹ لینے کا موقع نہیں ملے گا۔

مزید پڑھیے: ٹیسٹ کرکٹ کی دوسری اننگز میں پاکستانی بیٹرز کی بدترین کارکردگی، حیران کن اعداد و شمار

سابق اوپنر نے پاکستانی بلے بازوں کی تکنیک پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ بیشتر بیٹرز گیند کو بہت دیر سے کھیل رہے تھے جس کے باعث زیادہ تر شاٹس اسکوائر کے پیچھے کی سمت گئے۔

انہوں نے کہا کہ بلے بازوں کو بیک فٹ یا فرنٹ فٹ پر کھیلتے وقت بیٹ کو اگلے پاؤں کے قریب رکھنا چاہیے نہ کہ پچھلے پاؤں کے پیچھے کیونکہ ایسا کرنے سے ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے گیند خود بیٹ سے ٹکرا رہی ہو جبکہ اچھا بلے باز گیند کو خود کھیلتا ہے۔

صادق محمد نے مزید کہا کہ پاکستان کے ابتدائی 5 بلے باز ضرورت سے زیادہ محتاط رہے اور ڈرائیو یا جارحانہ شاٹس کھیلنے سے گریز کرتے رہے حالانکہ انہیں مناسب مواقع پر خطرہ مول لیتے ہوئے رنز بنانے کی کوشش کرنی چاہیے تھی۔

مزید پڑھیں: بابر اعظم گلوکار بن گئے، نسیم شاہ، سلمان علی آغا اور ساتھی کرکٹرز کا دلچسپ ردعمل

انہوں نے بیٹنگ کوچ اسد شفیق پر بھی زور دیا کہ وہ دوران میچ میدان میں موجود بلے بازوں تک تکنیکی ہدایات بروقت پہنچائیں تاکہ وہ اپنی غلطیوں کو فوری طور پر درست کر سکیں۔

بعد ازاں صادق محمد نے اس نمائندے سے گفتگو کرتے ہوئے اسد شفیق کی بھی تعریف کی اور کہا کہ ان جیسے تجربہ کار سابق بلے بازوں کو قومی ٹیم کے ساتھ ضرور ہونا چاہیے کیونکہ وہ اپنی ذمہ داری احسن انداز میں نبھا رہے ہیں اور ان کی رہنمائی ٹیم کے لیے مفید ثابت ہو سکتی ہے۔

واضح رہے کہ ویسٹ انڈیز کے خلاف دوسرے ٹیسٹ میچ میں پاکستانی ٹیم کی کارکردگی اب تک کچھ بہتر ہی ہے۔ پاکستان نے پہلی اننگز میں عبداللہ شفیق کی شاندار 160 اور بابر اعظم کی 88 رنز کی اننگز کی بدولت ویسٹ انڈیز پر 43 رنز کی برتری حاصل کی تھی۔

یہ بھی پڑھیے: ’ سوشل میڈیا پر مہم چلاؤ اور ٹیم میں آجاؤ‘، پاکستانی ٹیم میں تبدیلیوں پر صارفین کے تبصرے

ویسٹ انڈیز نے اپنی دوسری اننگز میں 103 رنز پر 6 وکٹیں گنوا کر مجموعی طور پر 60 رنز کی برتری حاصل کر لی ہے جبکہ پاکستان کے آف اسپنر ساجد خان نے عمدہ بولنگ کرتے ہوئے 4 وکٹیں 32 رنز کے عوض حاصل کیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

صدر آصف علی زرداری کی جانب سے 355 شخصیات کے لیے سول اعزازات کی سفارشات

14 اگست، پاکستان کا آزادی کی جانب سفر، 79 سالہ قربانیوں اور ترقی کا سفر

پاکستان اور فرانس کا کثیرالجہتی امور پر تعاون اور عالمی فورمز پر رابطہ مزید مضبوط بنانے پر اتفاق

آزادی محض سرزمین کے حصول کا نام نہیں بلکہ عوام کے حقوق کا وعدہ پورا  کرنا  بھی ہے، بلاول بھٹو کا پیغام

پاکستان ٹیسٹ اسکواڈ نے بیکنہم میں یوم آزادی منایا، کھلاڑیوں کے قوم کے نام خصوصی پیغامات

ویڈیو

14 اگست، پاکستان کا آزادی کی جانب سفر، 79 سالہ قربانیوں اور ترقی کا سفر

آزادی محض سرزمین کے حصول کا نام نہیں بلکہ عوام کے حقوق کا وعدہ پورا  کرنا  بھی ہے، بلاول بھٹو کا پیغام

پاکستان ٹیسٹ اسکواڈ نے بیکنہم میں یوم آزادی منایا، کھلاڑیوں کے قوم کے نام خصوصی پیغامات

کالم / تجزیہ

مایوس ہونے سے پہلے یہ حساب کتاب بھی کر لیں

سن 47، 1200 پاکستانی اور ایک چابی

انڈین خارجہ پالیسی کی ارتھی