ٹیسلا اور اسپیس ایکس کے سربراہ ایلون مسک نے نیویارک سٹی کے میئر ظہران ممدانی کے کم قیمت سرکاری گروسری اسٹورز کے منصوبے کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہیں ’چور اور جھوٹا‘ قرار دیا ہے۔
ایلون مسک نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر ایک صارف کی پوسٹ کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ممدانی کا منصوبہ عملی طور پر کامیاب نہیں ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ مستقبل میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور روبوٹکس ہی اشیا اور خدمات کی قیمتیں اس حد تک کم کر دیں گے کہ وہ تقریباً مفت دستیاب ہوں گی نہ کہ حکومتی سبسڈی والے منصوبے۔
یہ بھی پڑھیں: ایلون مسک اور سیم آلٹ مین میں مصنوعی ذہانت کے مستقبل پر اختلاف، دولت اور پیسے کے کردار پر بحث
انہوں نے کہا کہ ’ممدانی ایک چور اور جھوٹا ہے، بس یہی حقیقت ہے‘۔ ایلون مسک کا کہنا تھا کہ ’مصنوعی ذہانت اور روبوٹس وہ مفت اشیا اور خدمات فراہم کریں گے جن کا یہ لوگ صرف دعویٰ کرتے ہیں جبکہ حقیقت میں دوسروں کے وسائل پر انحصار کرتے ہیں‘۔
دوسری جانب ظہران ممدانی کی انتظامیہ نے نیویارک سٹی کے پانچوں اضلاع میں ایک ایک شہر کی سرپرستی میں گروسری اسٹور قائم کرنے کا منصوبہ پیش کیا ہے، جس کے لیے 7 کروڑ ڈالر مختص کیے گئے ہیں۔ منصوبے کے تحت نجی کمپنیاں اسٹورز کا روزمرہ انتظام سنبھالیں گی جبکہ شہر جگہ، بڑے اخراجات اور قیمتوں سے متعلق پالیسی فراہم کرے گا۔
یہ بھی پڑھیں: اوپن اے آئی کی ایلون مسک سے لڑائی کیا ہے اور 10 لاکھ ڈالر کا ہرجانے کا مطالبہ کیوں کیا گیا؟
انتظامیہ کے مطابق اس منصوبے کے ذریعے شہری بنیادی اشیائے خورونوش تقریباً 30 فیصد کم قیمت پر خرید سکیں گے جس سے ایک اوسط خاندان کو سالانہ تقریباً ایک ہزار ڈالر تک کی بچت ہو سکتی ہے۔
تاہم ماہرین معاشیات اور کاروباری حلقوں نے اس منصوبے پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ گروسری اسٹورز پہلے ہی کم منافع پر کام کرتے ہیں اس لیے اتنی بڑی رعایت صرف سرکاری مالی معاونت کے ذریعے ہی ممکن ہوگی جس کا بوجھ بالآخر ٹیکس دہندگان پر پڑ سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اسپیس ایکس کے اے آئی فون کی آمد، ایلون مسک کیا کہتے ہیں؟
اس کے برعکس ممدانی انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ چونکہ شہر کرایہ اور دیگر بڑے آپریشنل اخراجات برداشت کرے گا اس لیے کم قیمت پر اشیائے خورونوش کی فراہمی ممکن بنائی جا سکے گی۔ یہ منصوبہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کووڈ-19 وبا کے بعد نیویارک میں خوراک کی قیمتیں اب بھی نمایاں طور پر بلند ہیں۔














