اسپیس ایکس کے اے آئی فون کی آمد، ایلون مسک کیا کہتے ہیں؟

جمعرات 2 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکی ارب پتی ایلون مسک نے ان خبروں کی سختی سے تردید کی ہے جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ اسپیس ایکس مصنوعی ذہانت یا اے آئی سے لیس ایک نئے اسمارٹ فون پر کام کر رہی ہے اور اس کا ابتدائی نمونہ سرمایہ کاروں کے سامنے پیش کیا جا چکا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ایلون مسک کی 55ویں سالگرہ پر بڑا اعلان، گروک 4.5 بیٹا ٹیسٹنگ میں داخل

ایلون مسک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ان رپورٹس پر ردعمل دیتے ہوئے انہیں مکمل طور پر غلط قرار دیا تاہم انہوں نے اس حوالے سے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

اس سے قبل بعض میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ اسپیس ایکس نے ایک ایسے اے آئی اسمارٹ فون کا پروٹوٹائپ تیار کیا ہے جو ڈیزائن کے لحاظ سے ایپل کے آئی فون سے بھی زیادہ باریک ہے اور اس میں ایلون مسک کی مصنوعی ذہانت کی کمپنی ایکس اے آئی کی ٹیکنالوجی کو شامل کیا جائے گا۔

رپورٹس کے مطابق مبینہ ڈیوائس ایک مخصوص آپریٹنگ سسٹم پر کام کرے گی اور اس میں کوالکوم کے اسنیپ ڈریگن پروسیسرز استعمال کیے جائیں گے۔ یہ بھی کہا گیا تھا کہ اسپیس ایکس نے بعض سرمایہ کاروں کو آگاہ کیا ہے کہ یہ منصوبہ ابھی ابتدائی مراحل میں ہے، ڈیزائن مسلسل تبدیل ہو رہا ہے اور اس بات کی کوئی ضمانت نہیں کہ یہ مصنوعات کبھی تجارتی سطح پر متعارف کرائی جائیں گی۔

مزید پڑھیے: ایلون مسک 2 ہفتے بعد ہی کھرب پتی کا درجہ کیوں کھو بیٹھے؟

مبصرین کے مطابق اگر ایسی کوئی ڈیوائس متعارف کرائی جاتی تو یہ اسپیس ایکس کی خلائی لانچنگ اور اسٹارلنک انٹرنیٹ سروسز سے آگے بڑھ کر مصنوعی ذہانت کے شعبے میں توسیع کی ایک اہم کوشش سمجھی جاتی۔

رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اسپیس ایکس نے حالیہ برسوں میں مصنوعی ذہانت کے بنیادی ڈھانچے، ایکس اے آئی کے گروک بڑے زبان ماڈل اور خلائی کمپیوٹنگ سے متعلق منصوبوں میں نمایاں سرمایہ کاری کی ہے کیونکہ ایلون مسک اے آئی کے شعبے میں اپنے کردار کو مزید مضبوط بنانا چاہتے ہیں۔

واضح رہے کہ رواں سال جنوری میں ایلون مسک نے ایک بیان میں کہا تھا کہ مستقبل میں اسٹارلنک فون متعارف کرانے کے امکان کو مکمل طور پر رد نہیں کیا جا سکتا تاہم انہوں نے اشارہ دیا تھا کہ ایسی ڈیوائس روایتی اسمارٹ فونز سے مختلف ہوگی۔

دوسری جانب دنیا بھر میں اے آئی پر مبنی ہارڈویئر کی تیاری میں دلچسپی بڑھ رہی ہے۔ اوپن اے آئی سابق ایپل ڈیزائن چیف جونی آئیو کے ساتھ مل کر ایک اے آئی ڈیوائس پر کام کر رہی ہے جبکہ مائیکروسافٹ بھی حال ہی میں مصنوعی ذہانت سے لیس ایک پہننے کے قابل ڈیوائس کا ابتدائی نمونہ متعارف کرا چکی ہے۔

مزید پڑھیں: اسپیس ایکس کے ہزاروں شیئر ہولڈرز کی دولت میں غیرمعمولی اضافہ، ایلون مسک کھرب پتی بن گئے

تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ صارفین کے لیے مخصوص اے آئی ہارڈویئر ابھی تک تجارتی سطح پر نمایاں کامیابی حاصل نہیں کر سکا اور متعدد اسٹارٹ اپ کمپنیوں کی مصنوعات کو محدود پذیرائی ملی ہے جس کے باعث اے آئی فرسٹ ڈیوائسز کی طویل المدتی مانگ کے حوالے سے سوالات برقرار ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp