امریکی ادارہ خوراک و ادویات (ایف ڈی اے) نے بزرگ شہریوں کے لیے موڈرنا کی تیار کردہ ایک نئی طرز کی فلو ویکسین کو منظوری دے دی ہے۔
‘ایم فلوسیوا’ کے نام سے مارکیٹ میں آنے والی یہ ویکسین ایم آر این اے ٹیکنالوجی پر مبنی پہلی ایسی فلو ویکسین ہے جسے امریکا میں باقاعدہ منظوری ملی ہے اور یہی ٹیکنالوجی کورونا وبا کے دوران بنائی گئی ویکسینز کی بنیاد بھی رہی تھی۔
یہ بھی پڑھیں:شدید کورونا وائرس جسم میں سوئے دیگر وائرسز کو بھی بیدار کر سکتا ہے، نئی تحقیق میں اہم انکشاف
میسا چوسٹس کی کیمبرج میں قائم کمپنی موڈرنا کورونا وبا کے دوران اپنی ایم آر این اے ویکسین کی بدولت عالمی شہرت حاصل کر چکی ہے۔
کمپنی گزشتہ کچھ عرصے سے اسی ٹیکنالوجی کو دیگر بیماریوں، خصوصاً موسمی فلو کے خلاف بھی استعمال کرنے کی کوششوں میں مصروف تھی۔
فلو کی روایتی ویکسینز کے برعکس ایم آر این اے ٹیکنالوجی پر مبنی ویکسینز کہیں تیز رفتاری سے تیار کی جا سکتی ہیں، جس سے سائنسدانوں کو موسمی فلو کی گردش کرنے والی اقسام کے مطابق ویکسین کو بروقت ڈھالنے میں مدد ملتی ہے۔
منظوری سے قبل تنازع اور یوٹرن
‘ایم فلوسیوا’ کی منظوری کا سفر ہموار نہیں رہا۔ رواں سال فروری میں ایف ڈی اے کے حیاتیاتی مصنوعات کے شعبے کے اُس وقت کے سربراہ ڈاکٹر ونے پرساد نے ادارے کے اپنے تکنیکی ماہرین کی سفارش کو نظرانداز کرتے ہوئے موڈرنا کی درخواست پر غور کرنے سے ہی انکار کر دیا تھا۔
انہوں نے کہا تھا کہ کمپنی کے فراہم کردہ اعداد و شمار کا معیار جائزے کے قابل نہیں۔ تاہم موڈرنا کی جانب سے اس فیصلے پر عوامی سطح پر ناراضی کے اظہار کے ایک ہفتے بعد ہی ایف ڈی اے نے اپنا فیصلہ واپس لے لیا۔
مزید پڑھیں:اب ویکسین فریج کی محتاج نہیں رہے گی، سائنسدانوں نے دوا ضائع ہوجانے کے بڑے مسئلے پر قابو پالیا
ڈاکٹر پرساد بعد ازاں اپریل کے آخر میں ادارے سے رخصت ہو گئے تھے۔ جون میں ایف ڈی اے کی آزاد مشاورتی کمیٹی نے متفقہ طور پر ووٹ دیا کہ نئی ویکسین کے فوائد اس کے ممکنہ خطرات سے کہیں زیادہ ہیں، جس کے بعد بدھ کو باقاعدہ منظوری جاری کر دی گئی۔
کن عمر کے افراد کے لیے دستیاب ہوگی؟
‘ایم فلوسیوا’ فی الحال صرف 50 سال یا اس سے زیادہ عمر کے بالغ افراد کے لیے مختص ہے۔ موڈرنا کے مطابق 40 ہزار سے زیادہ افراد پر کیے گئے مطالعے میں یہ ویکسین ایک دیگر روایتی فلو ویکسین کے مقابلے میں فلو کے کیسز روکنے میں تقریباً 27 فیصد زیادہ مؤثر پائی گئی۔
ایف ڈی اے نے 50 سے 64 سال کی عمر کے گروپ کے لیے مکمل منظوری دی ہے، جبکہ 65 سال یا اس سے زیادہ عمر کے افراد کے لیے یہ منظوری ‘فاسٹ ٹریک’ یعنی مشروط بنیادوں پر دی گئی ہے اور موڈرنا کو اس عمر کے گروپ کے حوالے سے مزید کلینیکل مطالعہ مکمل کرنے کی شرط بھی عائد کی گئی ہے۔
ممکنہ ضمنی اثرات
موڈرنا کے مطابق دیگر ایم آر این اے ویکسینز کی طرح ‘ایم فلوسیوا’ کے استعمال سے بھی وقتی نوعیت کے ضمنی اثرات سامنے آ سکتے ہیں، جن میں انجکشن والی جگہ پر درد، بخار، سر درد، تھکاوٹ اور جسم میں درد شامل ہیں۔
کمپنی اور ایف ڈی اے کے جائزہ کاروں کے مطابق ٹرائلز کے دوران کوئی نئی یا سنگین حفاظتی تشویش سامنے نہیں آئی۔
آئندہ کے امکانات
موڈرنا کا کہنا ہے کہ یہ نئی ویکسین آئندہ 27-2026 کے فلو سیزن کے لیے امریکی مارکیٹ میں دستیاب ہوگی، جبکہ یورپی یونین، کینیڈا اور آسٹریلیا سمیت دیگر ممالک میں بھی اسے ریگولیٹری منظوری کے لیے پیش کیا جا چکا ہے۔
مزید پڑھیں:ویکسین کی مقامی تیاری میں انڈونیشیا پاکستان کا ’کلیدی شراکت دار بن گیا، مصطفیٰ کمال
ماہرین کا کہنا ہے کہ فلو وائرس کی مسلسل تبدیل ہوتی نوعیت، جسے ‘اینٹی جینک شفٹ’ کہا جاتا ہے، کے پیشِ نظر ایم آر این اے ٹیکنالوجی پر مبنی ویکسینز مستقبل میں وبائی امراض سے نمٹنے کے لیے زیادہ لچکدار اور تیزرفتار حل ثابت ہو سکتی ہیں۔














