ایران جنگ: ٹرمپ مشکل دوراہے پر، نہ جنگ سے نکلنے کا راستہ نہ آسان معاہدے کی گنجائش

جمعہ 7 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

 

امریکا اور ایران کے درمیان جاری جنگ چھٹے مہینے میں داخل ہونے کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایسے سیاسی اور سفارتی چیلنج کا سامنا ہے جہاں ان کے پاس کوئی آسان راستہ دکھائی نہیں دے رہا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق ٹرمپ کو یا تو ایران کو بڑی رعایت دینا ہوگی یا پھر جنگ میں مزید شدت لانے کا خطرہ مول لینا پڑے گا، جس کے سیاسی نتائج بھی سنگین ہو سکتے ہیں۔

رائٹرز کی ایک تجزیاتی رپورٹ کے مطابق ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز سے متعلق زیر غور مجوزہ معاہدہ ٹرمپ انتظامیہ کے لیے ایک بڑا امتحان بن گیا ہے۔ اس معاہدے کے تحت ایران کو خلیج میں داخل ہونے والے بحری جہازوں پر کسی حد تک نگرانی یا کنٹرول حاصل ہو سکتا ہے، حالانکہ امریکا پہلے ہی واضح کر چکا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز پر ایران کے کنٹرول کو قبول نہیں کرے گا۔

رپورٹ کے مطابق اگر امریکا اس معاہدے کو قبول کرتا ہے تو اسے ایران کے لیے بڑی سفارتی کامیابی تصور کیا جائے گا، جبکہ معاہدہ مسترد کرنے کی صورت میں نئی فضائی کارروائیوں اور جنگ میں مزید شدت کا خدشہ ہے، جس سے تنازع مزید طویل ہو سکتا ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ تیسرا راستہ موجودہ صورتحال کو برقرار رکھنا ہے، یعنی ایران کی بندرگاہوں پر دباؤ برقرار رکھا جائے اور بحری جہازوں پر حملوں کی صورت میں محدود جوابی کارروائیاں کی جائیں، تاہم یہ حکمت عملی بھی ٹرمپ کو اس جنگ سے باعزت انداز میں نکالنے کے لیے کافی نہیں ہوگی۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو بدستور اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ آبنائے ہرمز ایک آزاد بین الاقوامی آبی گزرگاہ رہے اور اس پر کسی بھی ملک کی اجارہ داری یا محصولات عائد نہ ہوں، تاہم ماضی میں صدر ٹرمپ کئی مواقع پر اپنی انتظامیہ کے مؤقف سے مختلف بیانات دے چکے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:ٹرمپ کی ننھے بچے کے پیچھے دوڑ، جوبائیڈن پر طنز، حاضرین کے زوردار قہقہے اور بھرپور تالیاں

ماہرین کے مطابق نومبر میں ہونے والے امریکی وسط مدتی انتخابات، مہنگے ایندھن، کم ہوتی عوامی مقبولیت اور جنگ کے خلاف بڑھتی عوامی رائے نے ٹرمپ کے لیے فیصلے مزید مشکل بنا دیے ہیں۔ ایسے میں اگر ایران اور عمان کے درمیان معاہدہ طے پا جاتا ہے تو یہ امریکا اور ایران کے درمیان جوہری مذاکرات کی بحالی کی راہ ہموار کر سکتا ہے، تاہم مستقل امن معاہدے کے امکانات اب بھی غیر یقینی دکھائی دیتے ہیں۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ایران پہلے ہی خبردار کر چکا ہے کہ اگر امریکا نے دوبارہ حملے کیے تو خلیجی ممالک کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے، جبکہ امریکی اور بین الاقوامی ماہرین کا خیال ہے کہ اس تنازع کے نتائج پر چین، روس اور شمالی کوریا بھی گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

شہباز گل نے عمران خان کے موبائل چوری کر کے بگڈ فون دیا، شفیع جان کا تہلکہ خیز دعویٰ

اسکول لنچ باکس میں ‘صرف آلو’: وائرل ویڈیو نے بچوں کی غذائیت اور پروٹین کی کمی پر نئی بحث چھیڑ دی

جنوبی سوڈان میں پائیدار امن کے لیے پاکستان کی عالمی کوششوں کی حمایت کا اعادہ

خیبرپختونخوا میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائیاں، بھارتی سرپرستی میں سرگرم 10 خوارج ہلاک، آئی ایس پی آر

بھارت: گجرات کا پراسرار کنواں ایک بار پھر توجہ کا مرکز، پانی خود بخود لہریں لینے لگا

ویڈیو

آزاد کشیر کے عوام نے مسلم لیگ ن پر اعتماد کیا، ہم پیپلز پارٹی کی بلیک میلنگ میں نہیں آئیں گے، شاہ غلام قادر

شہبازشریف کا مستقبل کیا؟ بڑی خبر، کراچی میں ایم کیو ایم کی جگہ پی ٹی آئی کیوں؟ نئے صوبوں کا قیام، اندر کی خبر

براڈ پیک سانحہ: نرمل پرجا سمیت 5 بین الاقوامی کوہ پیماؤں کی لاشیں اسکردو منتقل، 2 لاپتا افراد کی تلاش جاری

کالم / تجزیہ

اپنی زندگی کے ایڈیٹر بنیں، رائٹر نہیں

گلا سڑا نظام اور وزیر داخلہ کی تقریر

کشمیر: بین الاقوامی قانون کیا کہتا ہے؟