ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافے کے پیش نظر پاکستان میں بھی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں مزید کمی، خام تیل 78 ڈالر فی بیرل کی سطح پر آگیا
اسی دوران وفاقی حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں 15 روزہ کی بنیاد پر مقرر کرنے کے بجائے پہلے ہفتہ وار اور پھر روزانہ کی بنیاد پر طے کرنے کا نیا نظام متعارف کراتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ عالمی منڈی میں قیمتوں میں جس رفتار سے ردوبدل ہوگا اسی تناسب سے عوام کو بھی ریلیف یا اضافی بوجھ منتقل کیا جائے گا۔
حکومتی فیصلے کے بعد ابتدا میں پیٹرول کی قیمت میں 5 روپے جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 31 روپے فی لیٹر اضافہ کیا گیا اور نئی قیمت 367 روپے ہو گئی تھی۔ بعد ازاں 21 جولائی کو پیٹرول کی قیمت میں صرف 35 پیسے فی لیٹر کمی کی گئی اور قیمت 320 روپے فی لیٹر ہو گئی اس وقت عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 84 ڈالر تھی۔
اوگرا کی جانب سے روزانہ 4 سے 6 روپے کے مختلف اضافے کیے گئے اور ایک ہفتےمیں پیٹرول کی قیمت 15 روپے اضافے کے بعد 335 روپے اور ڈیزل کی قیمت 23 روپے اضافے کے بعد 390 روپے فی لیٹر تک پہنچ گئی تاہم حیران کن طور پے اس عرصے میں خام تیل کی قیمت میں 6 ڈالر فی بیرل کم ہوئی اور قیمت 78 ڈالر فی بیرل ہو گئی۔
27 جولائی کو پہلی مرتبہ پیٹرول کی قیمت میں صرف ایک روپے فی لیٹر کمی کی گئی جبکہ اسی روز ڈیزل کی قیمت میں 3 روپے 37 پیسے فی لیٹر اضافہ کر دیا گیا۔ اس کے بعد بھی مختلف اوقات میں پیٹرول کی قیمتوں میں کمی گئی اور اب جمعے اور ہفتے (8 اگست) کی درمیانی شب اس کی قیمت 327 روپے 62 پیسے کی گئی ہے۔ اسی طرح ڈیزل کی قیمت کم ہونے کے بعد 380 روپے 86 پیسے فی لیٹر ہو گئی ہے جبکہ خام تیل کی قیمت تقریباً 79 ڈالر فی بیرل ہے۔
مزید پڑھیے: عالمی منڈی میں خام تیل سستا، مگر پاکستان میں پیٹرول مہنگا؟
حکومت نے روزانہ قیمتوں کے تعین کا نظام متعارف کراتے وقت مؤقف اختیار کیا تھا کہ عالمی منڈی میں خام تیل مہنگا ہوگا تو پاکستان میں بھی قیمتیں بڑھیں گی اور اگر عالمی منڈی میں کمی آئے گی تو عوام کو فوری ریلیف دیا جائے گا۔
معاشی ماہر ڈاکٹر بشارت حسن سمجھتے ہیں کہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں تقریباً 12 فیصد کمی کے بعد اسی تناسب سے عوام کو بھی ریلیف ملنا چاہیے تھا۔
ان کے مطابق حکومت نے روزانہ قیمتوں کے تعین کا نظام اسی وعدے کے ساتھ متعارف کرایا تھا کہ عالمی مارکیٹ میں کمی بیشی کا اثر فوری طور پر عوام تک منتقل کیا جائے گا لیکن عملی طور پر اضافہ تو فوری کیا جاتا ہے جبکہ کمی نہ ہونے کے برابر دی جاتی ہے۔
ڈاکٹر بشارت حسن کے مطابق اس وقت پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں تقریباً 126 روپے مختلف ٹیکسوں، لیویز اور مارجنز کی مد میں شامل ہیں۔
مزید پڑھیں: حکومت نے 4 سالوں میں بجلی کے بل اور 2 سالوں میں پیٹرولیم لیوی سے کتنے ارب روپے کمائے؟ حیران کن اعداد و شمار
ان کے بقول پیٹرولیم لیوی تقریباً 80 روپے، کسٹمز ڈیوٹی، ڈیلرز کا کمیشن، آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کا مارجن ان لینڈ فریٹ ایکولائزیشن مارجن اور کلائمیٹ سپورٹ لیوی سمیت دیگر محصولات عوام پر اضافی بوجھ ڈال رہے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کو ریونیو حاصل کرنے کا بڑا ذریعہ بنا لیا ہے جبکہ عام شہری خصوصاً موٹر سائیکل استعمال کرنے والا طبقہ روزانہ سینکڑوں روپے ٹیکس کی مد میں ادا کر رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کے پاس تقریباً ایک ماہ کا تیل کا ذخیرہ موجود ہوتا ہے اس لیے پہلے سے درآمد کیے گئے تیل کی قیمت کا فائدہ بھی عوام کو منتقل ہونا چاہیے لیکن موجودہ نظام میں عالمی قیمتوں میں کمی کے باوجود صارفین کو اس کا مکمل فائدہ نہیں مل رہا۔
یہ بھی پڑھیے: بڑھتی ہوئی پیٹرولیم لیوی کے خلاف، جماعت اسلامی کا ملک بھر کے 510مقامات پر آج دھرنا دینے کا اعلان
ان کے مطابق حکومت مالی خسارے، پیٹرولیم لیوی سے حاصل ہونے والی آمدن اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں سے کیے گئے مالیاتی وعدوں کو مدنظر رکھتے ہوئے محصولات کم کرنے سے گریز کر رہی ہے جس کا براہِ راست بوجھ عوام پر منتقل ہو رہا ہے۔














