تائیوان میں سالانہ جنگی مشقیں، صدر لائی نے ساحلی دفاعی کارروائیوں کا جائزہ لیا

ہفتہ 8 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تائیوان کے صدر لائی چنگ تے نے ہفتے کے روز سالانہ ’ہان کوانگ‘ جنگی مشقوں کے دوران ساحلی دفاعی کارروائیوں کا جائزہ لیا اور چینی حملے کو پسپا کرنے کی فرضی مشق دیکھی۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق تائیوان میں ’ہان کوانگ‘ فوجی مشقوں کا آغاز بدھ کو ہوا تھا، جو 10 روز تک جاری رہیں گی۔ ان مشقوں کا مقصد ممکنہ چینی حملے کی صورت میں تائیوان کی فوجی تیاری، کمانڈ نظام، فوری جوابی کارروائی اور دفاعی صلاحیتوں کو جانچنا ہے۔

صدر لائی چنگ تے نے جنوبی شہر کاؤشیونگ کے ایک بحری اڈے پر تیز رفتار میزائل بردار کشتی میں سوار ہو کر مشقوں کا جائزہ لیا اور شریک فوجیوں سے خطاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ ’ہان کوانگ‘ مشقوں کا مقصد حقیقی فوجی اہلکاروں، حقیقی جغرافیائی ماحول اور حقیقی فوجی سازوسامان کے ذریعے کمانڈ اور رابطہ کاری، جنگی ردعمل اور ملکی دفاع کی صلاحیتوں کو جانچنا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:چینی حملے کے خدشے پر تائیوان کی بڑی جنگی مشق، ناکہ بندی، زلزلے اور حملے کا فرضی منظرنامہ

انہوں نے کہا کہ بیرونی خطرات اور چیلنجز کے پیشنظر حکومت دفاعی صلاحیتوں کو مزید مضبوط بنانے کے لیے کام جاری رکھے گی اور فوج اور کوسٹ گارڈ کو بھرپور معاونت فراہم کرے گی۔

تائیوانی صدر نے فوجی اہلکاروں پر زور دیا کہ وہ مشقوں میں بھرپور حصہ لیں اور مختلف ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے باہمی رابطہ اور تعاون کو مزید بہتر بنائیں تاکہ ملکی خودمختاری اور عوام کے تحفظ کو مؤثر جنگی صلاحیت کے ذریعے یقینی بنایا جا سکے۔

مشقوں کے دوران صدر لائی نے ساحل اور سمندر کے اوپر کم بلندی پر پرواز کرتے چھوٹے حملہ آور ڈرونز کی کارروائی بھی دیکھی۔ تائیوان کے کوسٹ گارڈ کی نئی ’این پنگ‘ کلاس کی ایک تیز رفتار جنگی کشتی نے بھی مشق میں حصہ لیا۔ جنگ کی صورت میں کوسٹ گارڈ کو بحریہ کی معاونت کے لیے استعمال کیا جائے گا۔

’این پنگ‘ کلاس کی کشتیاں تائیوان کی بحریہ کے ’ٹو چیانگ‘ کلاس کے تیز رفتار جنگی جہازوں کی بنیاد پر تیار کی گئی ہیں اور ان پر جہاز شکن میزائل نصب ہیں۔ تائیوانی فوج انہیں اپنی تیز رفتار اور میزائل بردار صلاحیتوں کے باعث ’ایئر کرافٹ کیریئر کلر‘ بھی قرار دیتی ہے۔

رائٹرز کے مطابق صدر لائی نے جمعرات کو بھی کوسٹ گارڈ کی ایک ’این پنگ‘ کلاس کشتی پر میزائل لانچر نصب کیے جانے کا مشاہدہ کیا تھا۔

چین جمہوری طور پر حکومت کرنے والے تائیوان کو اپنی سرزمین کا حصہ قرار دیتا ہے اور ضرورت پڑنے پر طاقت کے ذریعے اسے اپنے کنٹرول میں لینے کا عزم ظاہر کر چکا ہے۔ تائیوان کی حکومت بیجنگ کے خودمختاری کے دعوے کو مسترد کرتی ہے، جبکہ چین تائیوان کے صدر لائی چنگ تے کو ’علیحدگی پسند‘ قرار دیتا ہے اور ان کی مذاکرات کی پیشکشیں مسترد کرتا رہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp