مودی کی پالیسیوں سے بھارت سفارتی تنہائی کا شکار، پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے دفاعی معاہدے نے نئی دہلی کے لیے مشکلات بڑھا دیں

ہفتہ 8 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان مکہ مکرمہ میں مشترکہ دفاعی معاہدے کے بعد جنوبی ایشیا اور مشرق وسطیٰ کی علاقائی سیاست میں اہم تبدیلی سامنے آئی ہے۔ اس معاہدے کے تحت تینوں ممالک نے اجتماعی دفاع اور سلامتی کے شعبوں میں تعاون مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا ہے، جسے بھارت میں بھی تشویش کی نظر سے دیکھا جا رہا ہے۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق بھارتی تجزیہ کاروں، صحافیوں اور سابق اعلیٰ حکام نے معاہدے کے بعد نئی دہلی کی خارجہ پالیسی اور علاقائی حکمت عملی پر سوالات اٹھائے ہیں۔ بعض بھارتی حلقوں کا کہنا ہے کہ نریندر مودی حکومت کی اسرائیل پر بڑھتی ہوئی انحصاری اور مسلم ممالک کے ساتھ تعلقات میں پیدا ہونے والی دوری نے بھارت کے لیے سفارتی مشکلات میں اضافہ کیا ہے۔

رپورٹ میں سابق بھارتی پولیس سربراہ پرکاش سنگھ کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ پاکستان نے اس معاہدے کے ذریعے ایک اہم سفارتی پیشرفت کی ہے۔ ان کے مطابق پاکستان نے علاقائی اور عالمی سطح پر اپنی سفارتی پوزیشن مضبوط کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے درمیان ’مکہ مکرمہ مشترکہ دفاعی معاہدہ‘ طے، کسی ایک پر حملہ تینوں پر حملہ تصور ہوگا

بھارتی صحافی وکرم چندرا نے بھی نئے دفاعی تعاون کو نئی دہلی کے لیے ایک اہم سیکیورٹی چیلنج قرار دیا۔ ان کے مطابق پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کا قریب آنا خطے میں طاقت کے توازن پر اثر انداز ہوسکتا ہے اور بھارت کو اپنی دفاعی و خارجہ پالیسی پر نظرثانی کرنا پڑ سکتی ہے۔

دوسری جانب بھارتی تزویراتی امور کے ماہر کبیر نے معاہدے میں موجود اجتماعی دفاع کی شق کو خاص اہمیت دی ہے۔ ان کے مطابق اگر تینوں ممالک میں سے کسی ایک پر مسلح حملہ دیگر 2 پر بھی حملہ تصور کیا جائے گا تو اس سے اس دفاعی تعاون کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔

رپورٹ میں صحافی تنزنگ لامسانگ کے تجزیے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ پاکستان نے خطے میں سفارتی سرگرمیوں کے ذریعے اپنی پوزیشن مستحکم کی ہے، جبکہ بھارت اور اسرائیل کے بڑھتے ہوئے تعلقات نے نئی دہلی کے مسلم ممالک کے ساتھ روایتی روابط کو متاثر کیا ہے۔

بھارتی وزارت خارجہ کی جانب سے معاہدے پر محتاط ردعمل کو بھی رپورٹ میں اہم قرار دیا گیا ہے۔ تجزیے کے مطابق نئی دہلی کو اب اس امر کا جائزہ لینا ہوگا کہ خطے میں تیزی سے بدلتے ہوئے دفاعی اور سفارتی تعلقات کے درمیان بھارت اپنی علاقائی پوزیشن کس طرح برقرار رکھ سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:مشترکہ دفاعی معاہدہ: پاک فوج کے لڑاکا طیارے سعودی عرب کے کنگ عبدالعزیز ایئربیس پہنچ گئے، سعودی وزارت دفاع

رپورٹ میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ بھارت کی موجودہ سفارتی مشکلات صرف دفاعی معاملات تک محدود نہیں بلکہ اس کے معاشی مفادات پر بھی اثر انداز ہوسکتی ہیں۔ اس کے مطابق ماضی میں بھی علاقائی کشیدگی اور سفارتی تنہائی کے دوران غیر ملکی سرمایہ کاری میں کمی اور بھارتی کرنسی پر دباؤ دیکھا گیا۔

رپورٹ کے مطابق بھارت نے گزشتہ برسوں میں جدید جنگی طیاروں، میزائلوں اور دیگر دفاعی سازوسامان پر خطیر رقم خرچ کی ہے، تاہم صرف فوجی طاقت میں اضافہ کسی ملک کو اس وقت مکمل تحفظ فراہم نہیں کرسکتا جب اس کی خارجہ پالیسی کے نتیجے میں اہم علاقائی شراکت دار اس سے دور ہوجائیں۔

تجزیے میں مودی حکومت کی خارجہ پالیسی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ قریبی تعلقات کے ساتھ ساتھ مسلم دنیا کے اہم ممالک کے ساتھ تعلقات میں پیدا ہونے والی دوری نے بھارت کے لیے ایک پیچیدہ سفارتی صورت حال پیدا کردی ہے۔

مکہ مکرمہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے بعد خطے میں بدلتی ہوئی صف بندی نے بہرحال بھارت کے لیے نئی سفارتی اور سیکیورٹی ترجیحات کا سوال ضرور پیدا کردیا ہے، جبکہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان بڑھتا ہوا دفاعی تعاون علاقائی طاقت کے توازن میں ایک اہم پیشرفت کے طور پر سامنے آیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp