اسرائیل نے مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں اور ان کی املاک پر اسرائیلی آبادکاروں کے حملوں کے خلاف احتجاج میں شرکت کرنے والے امریکی یہودی کارکنوں کے ایک گروپ کے داخلے کے اجازت نامے منسوخ کردیے۔
امریکا کے یہودی اشاعتی ادارے ’دی فارورڈ‘ کے مطابق یہ کارکن مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں کی حمایت میں احتجاجی سرگرمیوں میں شریک تھے، جس کے بعد اسرائیلی حکام نے ان کے داخلے کے اجازت نامے منسوخ کردیے۔
مزید پڑھیں: اسحاق ڈار کی اردن کے شاہ عبداللہ دوم سے ملاقات، فلسطین اور مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر تبادلۂ خیال
ایک کارکن نے اخبار کو بتایا کہ انہیں مقبوضہ مغربی کنارے کے علاقے مسافر یطا میں 7 ہفتوں پر مشتمل رضاکارانہ پروگرام میں شرکت کے دوران سفری اجازت نامہ منسوخ کیے جانے سے متعلق ای میل موصول ہوئی، جہاں وہ فلسطینیوں کی حمایت کر رہے تھے۔
ان کے مطابق یہ کارروائی ان کے ساتھ ساتھ ان کے گروپ کے چند دیگر افراد کے خلاف بھی اسی وقت کی گئی۔
انہوں نے بتایا ’یہ میرے ساتھ اور میرے گروپ کے چند دیگر افراد کے ساتھ ہوا، اور چند منٹ میں ہی سب کو ای میل موصول ہوئی۔‘
آبادکاروں کے ساتھ جھڑپوں کے دوران پاسپورٹ کی تصاویر بنائی گئیں
ان کا کہنا تھا کہ آبادکاروں کی جانب سے شروع کیے گئے تصادم کے دوران فوجیوں، پولیس اہلکاروں اور مسلح آبادکاروں نے ان کے پاسپورٹ کی تصاویر بنائیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم بنیادی طور پر وہاں لوگوں کے ساتھ وقت گزار رہے تھے، لیکن ہمارے ساتھ ایسا سلوک کیا گیا جیسے وہاں موجود ہونا تقریباً ایک مجرمانہ عمل ہو۔
انہوں نے کہاکہ زیادہ تجربہ رکھنے والے یہودی کارکنوں نے انہیں کہا کہ اگر وہ مستقل طور پر اسرائیل منتقل نہ ہوں تو انہیں دوبارہ اسرائیل میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا، ’اگر میں اسرائیل کے لیے غلط قسم کا یہودی ہوں تو ٹھیک ہے، بہت اچھا۔‘
اسرائیلی حکام نے امریکی یہودی کارکنوں کے سفری اجازت نامے منسوخ کرنے کی کوئی وضاحت فراہم نہیں کی۔
مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے خلاف ہزاروں حملے
فلسطینی حکام کے مطابق مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی آبادکار فلسطینیوں کے خلاف متعدد حملے کرچکے ہیں۔
سرکاری فلسطینی اعداد و شمار کے مطابق 2026 کے پہلے 6 ماہ کے دوران آبادکاروں نے فلسطینیوں اور ان کی املاک کے خلاف 3 ہزار 488 حملے کیے۔
مزید پڑھیں: اسرائیلی عدالت نے فلسطینی قیدیوں کی جیل کے گرد مگرمچھ چھوڑنے کا منصوبہ عارضی طور پر روک دیا
ان حملوں میں افراد اور املاک پر حملے، غیر قانونی نئی آبادکار چوکیوں کا قیام اور فلسطینی کسانوں کو اپنی زمینوں تک رسائی سے روکنے کے واقعات شامل ہیں۔














