روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ میں جولائی کے دوران روسی فوج کو بھاری جانی نقصان اٹھانے کا دعویٰ سامنے آیا ہے، جبکہ ماسکو نے یوکرین کے خلاف ریکارڈ تعداد میں گلائیڈ بم اور میزائل استعمال کیے۔ دوسری جانب یوکرین نے بھی روس کے اندر تیل تنصیبات، فوجی اڈوں اور دیگر اہم مراکز پر ڈرون حملوں میں تیزی لائی ہے۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق یوکرین کی مسلح افواج کے جنرل اسٹاف نے دعویٰ کیا ہے کہ جولائی میں روسی فوج کے 42 ہزار 800 اہلکار ہلاک یا زخمی ہوئے، جو رواں سال کے دوران روسی نقصانات کی بلند ترین ماہانہ شرح ہے۔ تاہم جنگ میں دونوں جانب سے جاری کیے جانے والے جانی نقصان کے اعداد و شمار کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوسکی۔
🔴Headline: 🇺🇦❌🇷🇺Heavy casualties reported in Ukraine as Russian forces drop a record number of glide bombs, while Kyiv retaliates with long-range drone strikes hitting major logistics hubs. pic.twitter.com/Lpg7bsiQTQ
— HorizonArchive (@horizn_archive) August 7, 2026
رپورٹ کے مطابق یوکرینی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ روس نے جولائی میں تقریباً 8 ہزار 300 گلائیڈ بم استعمال کیے، جو جنگ کے دوران کسی ایک ماہ میں استعمال ہونے والے ان بموں کی سب سے زیادہ تعداد ہے۔ یہ بم طیاروں سے داغے جانے کے بعد دور تک گلائیڈ کرتے ہوئے اپنے ہدف کو نشانہ بنا سکتے ہیں اور بعض بموں میں تین ٹن تک دھماکا خیز مواد موجود ہوتا ہے۔
الجزیرہ کے مطابق روس نے جولائی میں یوکرین کے مختلف شہروں اور تنصیبات پر 376 میزائل داغے، جن میں 120 بیلسٹک میزائل شامل تھے۔ یوکرین کے لیے بیلسٹک میزائلوں کو روکنا خاصا مشکل ثابت ہورہا ہے، جبکہ روسی حملوں میں بنیادی ڈھانچے کو بھی نقصان پہنچا۔
یہ بھی پڑھیں:امریکی دباؤ پر یوکرین کا اہم تیل تنصیبات کو نشانہ نہ بنانے پر اتفاق
دوسری جانب یوکرین نے روس کے اندر اپنی ڈرون کارروائیوں میں اضافہ کیا۔ یوکرینی حکام کے مطابق 40 روزہ فضائی مہم کے دوران روس کی متعدد ریفائنریوں، تیل ذخائر، ٹرمینلز، فوجی تنصیبات اور ایئرفیلڈز کو نشانہ بنایا گیا۔ یوکرین کا دعویٰ ہے کہ ان حملوں سے روس کی تقریباً ایک تہائی تیل صاف کرنے کی صلاحیت متاثر ہوئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق روسی فوج کو بھاری جانی نقصان کے باوجود جولائی میں محدود علاقائی پیش قدمی حاصل ہوئی اور تقریباً 37.85 مربع کلومیٹر یوکرینی علاقے پر قبضہ کیا گیا۔
یوکرینی صدر ولودیمیر زیلنسکی نے روس کے خلاف فضائی کارروائیوں کو کامیاب قرار دیتے ہوئے حملوں کا سلسلہ جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے، جس سے جنگ میں مزید شدت کا امکان ظاہر کیا جارہا ہے۔













