کراچی کے جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ایف آئی اے نے مختلف کارروائیوں کے دوران جعلی میڈیکل دستاویزات کے ذریعے ملائیشیا جانے والے 2 مسافروں اور باکو جانے والی ایک خاتون کو مشکوک سفری مقاصد اور ممکنہ انسانی اسمگلنگ و جنسی استحصال کے شبہے میں آف لوڈ کردیا۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق ایف آئی اے امیگریشن سرکل نے کارروائی کے دوران ملائیشیا جانے والے وسیم حیدر اور ساجد پرویز کو اصل سفری مقصد چھپانے کے لیے مبینہ جعلی میڈیکل دستاویزات استعمال کرنے پر روکا، جبکہ باکو جانے والی حمنہ شکیل کو مشکوک سفری مقصد اور ممکنہ جنسی استحصال کے معاملے پر مزید تفتیش کے لیے حراست میں لیا گیا۔
حکام کے مطابق وسیم حیدر نے ابتدائی طور پر بتایا کہ وہ ریڑھ کی ہڈی کے علاج کے لیے ملائیشیا جا رہا ہے اور ساجد پرویز اس کا اٹینڈنٹ ہے، تاہم تفصیلی پوچھ گچھ کے دوران دونوں نے بتایا کہ ان کا اصل مقصد ملائیشیا میں ملازمت حاصل کرنا تھا۔
یہ بھی پڑھیں:ایف آئی اے امیگریشن کی کارروائی، کمبوڈیا میں سرگرم انسانی اسمگلنگ نیٹ ورک کا ملزم گرفتار
تحقیقات میں مبینہ طور پر سامنے آیا کہ ریحان اور عمران نامی سہولت کاروں نے دونوں کے وزٹ ویزوں اور ٹکٹوں کا انتظام کیا جبکہ سفری مقصد چھپانے کے لیے وسیم حیدر کے نام سے مبینہ جعلی ایم آر آئی رپورٹ بھی تیار کی گئی۔ دونوں مسافروں کو سہولت کاروں سمیت مزید قانونی کارروائی کے لیے انسداد انسانی اسمگلنگ سرکل کراچی منتقل کردیا گیا۔
دوسری کارروائی میں حمنہ شکیل کو آذربائیجان کے شہر باکو جاتے ہوئے روکا گیا۔ تفتیش کے دوران خاتون نے بتایا کہ وہ ایک ڈیٹنگ ایپ کے ذریعے رابطے میں آنے والے شخص سے ملاقات کے لیے باکو جا رہی تھی، جس کے عوض اسے مبینہ طور پر 3 لاکھ روپے ملنے تھے، جبکہ سفر اور رہائش کے اخراجات بھی مذکورہ شخص نے برداشت کرنے تھے۔
ایف آئی اے کے مطابق خاتون کے موبائل فون کی رضاکارانہ جانچ کے دوران مشتبہ چیٹس اور ایسے رابطوں کا بھی انکشاف ہوا جن میں رقم کے عوض جنسی ملاقاتوں سے متعلق گفتگو موجود تھی۔
ابتدائی معلومات کی بنیاد پر ایف آئی اے خاتون کے معاملے میں ممکنہ جنسی استحصال اور انسانی اسمگلنگ کے پہلوؤں کی تحقیقات کر رہی ہے۔ حکام کے مطابق خاتون کو ممکنہ متاثرہ فرد کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے تاکہ معاملے کے قانونی اور حفاظتی پہلوؤں کا جائزہ لیا جاسکے۔














