پنجاب میں ہر 4 میں سے ایک بچے کا قد چھوٹا کیوں ہوتا ہے؟

بدھ 12 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پنجاب میں بچوں میں قد کی نشوونما رکنے کی شرح 2018 کے 36 فیصد سے کم ہو کر 27 فیصد جبکہ کم وزنی کی شرح 15 سے کم ہو کر 10 فیصد ہوگئی۔

یونیسف پاکستان اور پنجاب کے محکمہ صحت کے زیر اہتمام عالمی ہفتۂ رضاعت کے موقع پر سیمینار میں پیش کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق صوبے میں قریباً 52 فیصد مائیں بچوں کو 2 سال کی عمر تک دودھ پلاتی ہیں۔

مزید پڑھیں:پنجاب میں بلدیاتی انتخابات: الیکشن کمیشن کی صوبائی حکومت کو مشاورتی کمیٹی تشکیل دینے کی ہدایت

صوبائی وزیر صحت خواجہ عمران نذیر نے کہا کہ بچے کو پہلے 6 ماہ تک صرف ماں کا دودھ پلانا انتہائی ضروری ہے، جبکہ 6 ماہ کے بعد مناسب اضافی غذا کے ساتھ دودھ پلانے کا عمل دو سال یا اس سے زائد عرصے تک جاری رہنا چاہیے۔

حکومت کے مطابق پنجاب میں ماں اور بچے کی صحت بہتر بنانے کے لیے 2500 سے زائد بنیادی مراکز صحت اپ گریڈ کیے گئے ہیں، کمزور نومولود بچوں کے لیے 29 ’کینگرو مدر کیئر‘ مراکز قائم کیے گئے ہیں، جبکہ غذائی قلت کے علاج کے لیے قریباً 3000 آؤٹ پیشنٹ تھیراپیوٹک پروگرام مراکز اور 60 غذائی بحالی مراکز کام کر رہے ہیں۔

مزید پڑھیں:پنجاب میں صاف پانی کی فراہمی کا منصوبہ، 2 کروڑ سے زائد افراد مستفید ہوں گے، عظمیٰ بخاری

حکام کے مطابق 911 ’کلینکس آن ویلز‘ کے ذریعے بھی طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں اور 2024 سے اب تک قریباً 26 لاکھ بچوں کی غذائی اسکریننگ کی جا چکی ہے۔

یونیسف حکام اور ماہرین صحت نے ماؤں کو گھروں، ہسپتالوں اور کام کی جگہوں پر بہتر سہولیات اور معاونت فراہم کرنے پر زور دیا تاکہ بچوں کو زندگی کی بہترین ابتدائی غذا اور نگہداشت مل سکے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp