کے ٹو بیس کیمپ سے اسکردو تک 275 کلومیٹر دوڑ، جمال سید نے قومی ریکارڈ قائم کردیا

اتوار 9 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستانی الٹرا رنر جمال سید نے کے ٹو بیس کیمپ سے اسکردو تک 275 کلومیٹر کا انتہائی کٹھن فاصلہ 74 گھنٹوں میں مکمل کرکے قومی ریکارڈ قائم کردیا، جس سے پاکستان میں ایڈونچر اسپورٹس اور اسپورٹس ٹورازم کے امکانات بھی اجاگر ہوئے ہیں۔

بیک یارڈ الٹرا ایشیا چیمپیئن اور تین مرتبہ پاکستان کے قومی چیمپیئن جمال سید نے یہ مشکل سفر ایک ہی مسلسل کوشش میں مکمل کیا، اس دوران انہوں نے طویل وقفہ نہیں لیا اور نہ ہی سونے کے لیے رکے۔

مزید پڑھیں: تریچ میر سمٹ: کے پی حکومت کا ایڈونچر ٹورازم کے فروغ کے لے بڑا قدم

خراب موسم کے باعث عالمی ریکارڈ کا منصوبہ تبدیل

یہ چیلنج ابتدائی طور پر 6 ہزار میٹر کی بلندی سے شروع کرنے کی منصوبہ بندی کے ساتھ ترتیب دیا گیا تھا اور جمال سید کا ہدف عالمی ریکارڈ قائم کرنا تھا، تاہم شدید موسمی حالات کے باعث مقررہ مقام سے دوڑ کا آغاز ممکن نہ ہوسکا۔

خراب موسم کے بعد جمال سید نے عالمی ریکارڈ کے بجائے قومی ریکارڈ قائم کرنے کی کوشش کا فیصلہ کیا۔

جمال سید نے کہاکہ یہ کامیابی ذاتی شہرت کے لیے نہیں تھی بلکہ پاکستان میں ایڈونچر اسپورٹس، ٹریل رننگ اور الٹرا میراتھن کو فروغ دینے اور نوجوانوں کو برداشت پر مبنی کھیلوں کی جانب راغب کرنے کے لیے تھی۔

’یہ سفر میرے لیے نہیں، پاکستان اور پاکستانی نوجوانوں کے لیے تھا‘

جمال سید نے کہاکہ یہ سفر میرے لیے ذاتی طور پر نہیں تھا، یہ پاکستان اور پاکستان کی نوجوان نسل کے لیے تھا۔

انہوں نے کہاکہ فلاحی تنظیم لوک سہائتا کے تعاون سے ان کا مقصد پاکستان میں ایڈونچر اسپورٹس کے لیے ایک نئی راہ کھولنا، نوجوان ٹیلنٹ کی حوصلہ افزائی کرنا اور پاکستانی ایتھلیٹس کے لیے بین الاقوامی سطح پر ملک کی نمائندگی کے مواقع پیدا کرنا ہے۔

جمال سید کو امید ہے کہ یہ کامیابی بین الاقوامی ٹریل رنرز اور الٹرا رنرز کو پاکستان کی جانب راغب کرنے میں بھی مددگار ثابت ہوگی، جس سے انہیں پاکستان کے پہاڑی مناظر کا تجربہ کرنے کا موقع ملے گا اور ایڈونچر ٹورازم کو بھی فروغ ملے گا۔

انہوں نے کہاکہ ان کا طویل مدتی وژن باصلاحیت پاکستانی ایتھلیٹس کے لیے ایسا راستہ تیار کرنا ہے جس کے ذریعے وہ بین الاقوامی مقابلوں میں شرکت کر سکیں اور پاکستان کو عالمی سطح پر مزید شناخت دلا سکیں۔

کے ٹو بیس کیمپ سے اسکردو تک کا یہ چیلنج جمال سید کے برداشت پر مبنی دوڑ کے کیریئر میں تازہ ترین سنگ میل ہے اور ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان ایڈونچر اسپورٹس کے میدان میں اپنی موجودگی کو وسعت دینے کی کوشش کر رہا ہے۔

مزید پڑھیں: ماحول دوستی کے لیے شعور بیداری، ایڈونچر فاؤنڈیشن کا نیشنل ماؤنٹین کیمپ اختتام پذیر

جمال سید نے کہاکہ اس مشن کا مقصد سادہ ہے، ’پاکستان کے لیے دوڑیں، اگلی نسل کو متاثر کریں اور پاکستان کو ایڈونچر اسپورٹس کی دنیا کے لیے کھولیں۔‘

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ایمی ایوارڈز میں ’وِڈوز بے‘ کا راج، ایک سیزن میں ریکارڈ 14 ایوارڈز

انگلینڈ کے خلاف چھکوں کی برسات کرنے والے رضا اللہ وطن پہنچ گئے، ایئرپورٹ پر شاندار استقبال

وزیراعظم  شہباز شریف سے گورنر خیبر پختونخوا  فیصل کریم کنڈی کی اہم ملاقات، کیا کچھ زیر بحث آیا؟

آئینی عدالت کا عمران خان کی اسپتال منتقلی کیس سے جڑے تمام مقدمات کی سماعت کا فیصلہ

’اسٹریٹ موومنٹ نہیں کرسکتے تو واپس آجاؤ مگر پشتو فلموں والے سین چھوڑ دو‘، سہیل آفریدی کی جعلی گرفتاری پر لوگوں کا ردعمل

ویڈیو

کھیل میں سیاست کی گنجائش نہیں، بھارتی ٹیم کا رویہ ناقابل قبول ہے، پاکستانی شہریوں کی رائے

جمہوریت ہی پاکستان کے لیے بہترین نظام ہے، یوم جمہوریہ پر ارکان پارلیمنٹ کی متفقہ رائے

پیپلزپارٹی کی سندھ حکومت کو وفاق سے ملنے والے 22 ہزار ارب روپے عوام پر خرچ نہیں ہوئے، رکن صوبائی اسمبلی نجم مرزا

کالم / تجزیہ

جین زی ماضی کی طرف کیوں جھانک رہی ہے؟

ایک سانس کی قیمت

’ساڈا دل توڑ کے توں ویں پچھتاویں گا‘