مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور تیزی سے بڑھتی ہوئی آٹومیشن جنوبی ایشیا کی لیبر مارکیٹ کو تیزی سے تبدیل کر رہی ہے، جس کے نتیجے میں پاکستان سمیت خطے کے نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہونے کے ساتھ ساتھ متعدد موجودہ ملازمتوں کو خطرات بھی لاحق ہو گئے ہیں۔
واضح رہے کہ ورلڈ بینک کی رپورٹ ’ ساؤتھ ایشیا ڈویلپمنٹ اپ ڈیٹ: جابز، اے آئی اینڈ ٹریڈ‘کے مطابق جنوبی ایشیا میں مصنوعی ذہانت کا اثر دیگر خطوں کے مقابلے میں مجموعی طور پر محدود ہے، تاہم وہ نوجوان اور نسبتاً کم تجربہ کار کارکن زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں جو ایسے شعبوں سے وابستہ ہیں جہاں روایتی دفتری اور ذہنی نوعیت کے کام اب اے آئی کے ذریعے تیزی سے انجام دیے جا رہے ہیں۔
کن ملازمتوں کو زیادہ خطرہ؟
ورلڈ بینک کے مطابق جنوبی ایشیا میں تقریباً 7 فیصد ملازمتیں ایسی ہیں جن میں اے آئی سے متاثر ہونے اور انسانی کام کی جگہ لینے کا خطرہ زیادہ ہے۔ ان میں کال سینٹر ایجنٹس، سیکریٹریز اور بعض ڈیجیٹل ایپلی کیشن پروگرامنگ جیسے معمول کے کام شامل ہیں۔
یاد رہے کہ رپورٹ میں خاص طور پر نشاندہی کی گئی ہے کہ درمیانی تعلیم رکھنے والے نوجوان کارکن، بالخصوص بزنس سروسز اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبوں سے وابستہ افراد، اے آئی کے باعث پیدا ہونے والی تبدیلیوں سے زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے مصنوعی ذہانت کی کہانیاں انسانی تحریروں پر بازی لے گئیں، نئی تحقیق کے حیران کن نتائج
ورلڈ بینک کے مطابق چیٹ جی پی ٹی کے آنے کے بعد ایسے شعبوں میں ملازمتوں کے اشتہارات میں تقریباً 20 فیصد کمی دیکھی گئی ہے جو اے آئی کے ذریعے تبدیل کیے جانے کے لیے زیادہ موزوں سمجھے جاتے ہیں۔
پاکستان کے لیے خطرے کی گھنٹی کیوں؟
پاکستان میں ہر سال بڑی تعداد میں نوجوان تعلیم مکمل کرکے روزگار کی تلاش میں مارکیٹ میں داخل ہوتے ہیں۔ ایسے میں اگر معیشت مطلوبہ رفتار سے نئی ملازمتیں پیدا نہ کر سکے اور دوسری جانب کمپنیوں میں اے آئی اور آٹومیشن کا استعمال بڑھتا جائے تو روایتی انٹری لیول ملازمتوں کے مواقع محدود ہونے کا خدشہ ہے۔
خاص طور پر وہ نوجوان جو صرف بنیادی کمپیوٹر، ڈیٹا انٹری، کسٹمر سروس، کال سینٹر، معمول کی پروگرامنگ یا دیگر بار بار دہرائے جانے والے کاموں پر انحصار کرتے ہیں، انہیں مستقبل میں اپنی مہارتوں کو اپ گریڈ کرنے کی ضرورت ہوگی۔
ورلڈ بینک کی پاکستان سے متعلق سابقہ مہارتوں کی جائزہ رپورٹ بھی اس بات پر زور دے چکی ہے کہ ٹیکنالوجی کے پھیلاؤ کے ساتھ معمول کی نوعیت کی ملازمتوں کی طلب کم ہو رہی ہے، جبکہ تخلیقی، تجزیاتی، سماجی اور تکنیکی مہارتوں کی اہمیت بڑھ رہی ہے۔
تاہم اے آئی صرف خطرہ نہیں، بڑا موقع بھی ہے
ورلڈ بینک نے اے آئی کو صرف روزگار ختم کرنے والی ٹیکنالوجی قرار نہیں دیا بلکہ اسے پیداوار، آمدنی اور نئی ملازمتوں میں اضافے کا ذریعہ بھی قرار دیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق جنوبی ایشیا کے تقریباً 15 فیصد کارکن ایسے شعبوں میں کام کرتے ہیں جہاں اے آئی انسانی صلاحیتوں کو ختم کرنے کے بجائے انہیں زیادہ مؤثر بنا سکتی ہے۔ ان میں ڈاکٹرز، اساتذہ، وکلا اور انتظامی سطح کے ماہرین سمیت ایسے پیشے شامل ہیں جہاں انسانی تجربہ، فیصلہ سازی اور باہمی رابطہ اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اے آئی سے متعلق مہارتیں رکھنے والے افراد کے لیے روزگار کی مارکیٹ میں اجرت کا پریمیم بھی تقریباً 30 فیصد تک دیکھا جا رہا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اے آئی کے دور میں صرف ڈگری کافی نہیں ہوگی بلکہ ٹیکنالوجی کو استعمال کرنے کی صلاحیت بھی آمدنی اور ملازمت کے امکانات میں اہم کردار ادا کرے گی۔
پاکستان کو کیا کرنا ہوگا؟
ماہرین کے مطابق پاکستان کے لیے سب سے اہم چیلنج یہ ہے کہ نوجوانوں کو صرف روایتی ڈگریاں دینے کے بجائے انہیں بدلتی ہوئی عالمی مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق تیار کیا جائے۔
ورلڈ بینک نے روزگار کے تحفظ اور نئے مواقع پیدا کرنے کے لیے ڈیجیٹل انفراسٹرکچر بہتر بنانے، نوجوانوں کی اپ اسکلنگ اور ری اسکلنگ، بہتر ملازمتوں سے رابطے کے نظام اور متاثرہ کارکنوں کے لیے سماجی تحفظ جیسے اقدامات کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے نوکری سے برطرفی کے خوف نے میٹا کی ملازمہ کو بچوں کی منصوبہ بندی ترک کرنے پر مجبور کردیا
پاکستان کے لیے اس کا مطلب یہ ہے کہ یونیورسٹیوں، ٹیکنیکل اداروں اور تربیتی مراکز میں اے آئی، ڈیٹا اینالیٹکس، سائبر سیکیورٹی، جدید پروگرامنگ، ڈیجیٹل مارکیٹنگ، تخلیقی ٹیکنالوجی اور دیگر مستقبل کی مہارتوں کو ترجیح دینا ہوگی۔
نوجوانوں کے لیے واضح پیغام
ورلڈ بینک کی رپورٹ کا بنیادی پیغام یہ نہیں کہ اے آئی ہر ملازمت ختم کر دے گی، بلکہ یہ ہے کہ ملازمتوں کی نوعیت تبدیل ہو رہی ہے۔
جو نوجوان اے آئی کو اپنے کام کا متبادل سمجھنے کے بجائے اسے اپنی صلاحیت بڑھانے کے لیے استعمال کرنا سیکھیں گے، ان کے لیے نئے مواقع پیدا ہو سکتے ہیں۔ اس کے برعکس صرف روایتی اور بار بار دہرائے جانے والے کاموں تک محدود رہنے والے کارکنوں کے لیے مستقبل کی لیبر مارکیٹ زیادہ مشکل ہو سکتی ہے۔
یوں پاکستان کے تعلیم یافتہ نوجوانوں کے لیے اصل مقابلہ صرف انسان بمقابلہ اے آئی نہیں بلکہ اے آئی استعمال کرنے والا انسان بمقابلہ اے آئی استعمال نہ کرنے والا انسان بنتا جا رہا ہے۔
ورلڈ بینک کے مطابق حکومتوں اور نجی شعبے کو ایسی پالیسیاں بنانا ہوں گی جو کارکنوں کو نئی مہارتیں سیکھنے، شعبہ تبدیل کرنے اور نئی پیدا ہونے والی ملازمتوں تک رسائی حاصل کرنے میں مدد دیں۔













