افغانستان: طالبان حکومت کی صحافت کے خلاف 5 سالہ جنگ، سنسرشپ اور اطلاعات پر کنٹرول عروج پر

پیر 10 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

صحافیوں کی سرگرم تنظیم رپورٹرز ودآؤٹ بارڈرز (آر ایس ایف) نے 10 اگست 2026 کو افغانستان میں طالبان حکومت کے اقتدار کے 5 سال مکمل ہونے پر جاری کردہ اپنی جائزہ رپورٹ میں کہا ہے کہ طالبان حکومت نے گزشتہ 5 برس کے دوران ملک میں آزادی صحافت کو منظم انداز میں ختم کرنے کے لیے 20 سے زیادہ قومی ہدایات اور متعدد صوبائی احکامات نافذ کیے۔

رپورٹ کے مطابق جو عمل انتظامی سنسرشپ سے شروع ہوا تھا، وہ اب دھمکی، تنقید کو خاموش کرنے، سیاسی مباحثے پر کنٹرول، خواتین کو میڈیا سے بے دخل کرنے اور آزاد صحافت کو جرم قرار دینے کے ایک مضبوط نظام میں تبدیل ہو چکا ہے۔ آر ایس ایف نے افغانستان کو ’اطلاعات کے لیے جیل‘ قرار دیا ہے۔

صحافیوں کی رپورٹنگ پر سخت پابندیاں

19 ستمبر 2021 کو طالبان حکومت نے صحافت سے متعلق 11 قواعد نافذ کیے، جن کے ذریعے حکام کو اس بات پر وسیع اختیارات حاصل ہوگئے کہ صحافی کیا شائع یا نشر کر سکتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق مواد، عوامی رائے، تنقید اور رپورٹنگ پر عائد پابندیوں نے مؤثر طور پر صحافت کو آزادانہ نگرانی کے بجائے طالبان حکومت کی نگرانی میں انجام دی جانے والی سرگرمی بنا دیا۔

صحافیوں کے ذرائع اور انٹرویوز بھی حکومتی کنٹرول میں

طالبان حکومت نے جلد ہی صحافیوں کی رپورٹنگ کو کنٹرول کرنے کے ساتھ ساتھ یہ طے کرنا بھی شروع کردیا کہ وہ کن لوگوں سے بات کر سکتے ہیں۔

نومبر 2021 میں صحافیوں کو طالبان حکومت پر تنقید کرنے والے تجزیہ کاروں کے انٹرویوز سے روک دیا گیا، جبکہ ستمبر 2024 میں عائد پابندیوں کے تحت براہ راست سیاسی پروگراموں پر پابندی لگا دی گئی، مہمانوں کو طالبان کی جانب سے منظور شدہ ماہرین تک محدود کر دیا گیا اور طالبان کے قوانین اور پالیسیوں پر تنقید بھی ممنوع قرار دے دی گئی۔

خواتین کو افغان میڈیا سے منظم انداز میں بے دخل کیا گیا

رپورٹ کے مطابق افغان میڈیا سے خواتین کو بھی منظم طریقے سے نکالا گیا۔

نومبر 2021 میں عائد پابندیوں کے تحت خواتین ٹیلی ویژن میزبانوں کو چہرہ ڈھانپنے پر مجبور کیا گیا، جبکہ مارچ 2025 میں قندھار میں جاری کی گئی ہدایات کے تحت ریڈیو نشریات میں خواتین کی آوازوں پر بھی پابندی عائد کردی گئی۔

آر ایس ایف کے مطابق اس طرح صنفی امتیاز خواتین صحافیوں اور میزبانوں کے خلاف براہ راست سنسرشپ میں تبدیل ہوگیا۔

عالمی ذرائع ابلاغ پر بھی پابندیاں

طالبان حکومت نے معلومات کے آزاد اور بین الاقوامی ذرائع کو بھی نشانہ بنایا۔

مارچ 2022 میں وائس آف امریکا اور ریڈیو فری یورپ/ریڈیو لبرٹی کے مواد کو دوبارہ نشر کرنے پر پابندی عائد کردی گئی، جبکہ جولائی 2024 میں جانداروں کی تصاویر نشر کرنے پر پابندی عائد کرنے والا قانون نافذ کیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق اس قانون پر عملدرآمد بعد ازاں 20 سے زیادہ صوبوں تک پھیل گیا۔ یوں اطلاعات پر کنٹرول وسیع، سخت اور بتدریج ادارہ جاتی شکل اختیار کرتا گیا۔

حکمرانوں پر تنقید کو اسلامی قانون کے منافی قرار دیا گیا

جولائی 2022 میں طالبان کے سپریم لیڈر ہیبت اللہ اخوندزادہ کے اس اعلان نے کہ سیاسی عہدیداروں پر تنقید اسلامی قانون کے منافی ہے، جواب دہی کے حوالے سے طالبان حکومت کے بنیادی رویے کو واضح کیا۔

رپورٹ کے مطابق ایسے نظام میں حکمرانوں سے سوال کرنا جائز صحافت نہیں بلکہ حکومت کے نظریے کے خلاف جرم تصور کیا جاتا ہے۔

2015 کا پریس قانون منسوخ

اپریل 2024 میں طالبان حکومت کی وزارت انصاف نے 2015 کے پریس قانون کو منسوخ کرنے کا اعلان کیا، جس کے نتیجے میں صحافت کے لیے موجود قانونی فریم ورک مزید کمزور ہوگیا، جبکہ آزاد میڈیا پر پابندیوں کا دائرہ مسلسل بڑھتا رہا۔

2026 میں سنسرشپ سے قانونی جبر کی جانب خطرناک پیشرفت

رپورٹرز ودآؤٹ بارڈرز کے مطابق جنوری 2026 میں صورتحال سنسرشپ سے آگے بڑھ کر قانونی جبر کے ایک نئے مرحلے میں داخل ہوگئی۔

آر ایس ایف نے طالبان حکومت کے نئے ضابطہ فوجداری کے حوالے سے بتایا کہ اس کے تحت صحافیوں اور دیگر آزاد آوازوں کو سخت سزاؤں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

ضابطے کی شق 23 کے تحت امارت کی قیادت کی توہین پر 20 کوڑوں اور 6 ماہ قید کی سزا مقرر کی گئی ہے، جبکہ شق 19 کے تحت طالبان کے سپریم لیڈر کی توہین پر 39 کوڑوں اور ایک سال قید کی سزا رکھی گئی ہے۔

حکومتی مخالفین سے رابطہ بھی قابل سزا

شق 24 معاشرے کو نگرانی کے ایک نظام میں تبدیل کرتی ہے، جس کے تحت حکومت مخالفین سے رابطے کی اطلاع دینا لازم قرار دیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق بغاوت، تخریب کاری اور بدعت جیسے مبہم جرائم کی دفعات طالبان ججوں کو وسیع اختیارات فراہم کرتی ہیں، جنہیں حکومت کے بیانیے کو چیلنج کرنے والوں کو خوفزدہ کرنے، ان کے خلاف مقدمات چلانے اور انہیں خاموش کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

آر ایس ایف کا کہنا ہے کہ نئے ضابطے میں میڈیا سے وابستہ افراد کو کوئی تحفظ یا استثنیٰ حاصل نہیں۔

صحافت کو آزاد نگران سے حکومتی پروپیگنڈا مشینری میں تبدیل کرنے کا الزام

آر ایس ایف کی پانچ سالہ جائزہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالبان حکومت نے جان بوجھ کر صحافت کو ایک آزاد نگرانی کرنے والے ادارے سے تبدیل کرکے ایک کنٹرول شدہ پروپیگنڈا مشینری میں تبدیل کیا۔

رپورٹ کے مطابق تنقید پر پابندی، انٹرویو کے لیے افراد کے انتخاب پر کنٹرول، خواتین کو خاموش کرنا، بین الاقوامی نشریاتی اداروں کو روکنا، تصاویر پر سنسرشپ اور اختلافِ رائے کو جرم قرار دینے کے ذریعے طالبان حکومت نے یہ ظاہر کیا ہے کہ ذمہ دار حکمرانی کا اس کا دعویٰ آزادی اظہار کے ساتھ مطابقت نہیں رکھتا۔

سینکڑوں افغان صحافی ملک چھوڑنے پر مجبور

رپورٹرز ودآؤٹ بارڈرز کے مطابق طالبان حکومت کے جبر کے باعث سینکڑوں افغان صحافی ملک چھوڑنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جو حکومت صحافیوں سے خوفزدہ ہو، تنقید کو جرم قرار دے اور آزاد آوازوں کو سزا دے، وہ باخبر معاشرے کی حکمرانی نہیں کر رہی بلکہ اطلاعات کے ایک ایسے قید خانے کو کنٹرول کر رہی ہے جہاں معلومات اور آزادی اظہار محدود کردی گئی ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp