بھارتی ریاست جھارکھنڈ کے دارالحکومت رانچی میں بھرتی امتحانات میں اصلاحات کے لیے جاری احتجاج کے دوران 2024 کے جے ایس ایس سی-سی جی ایل (JSSC-CGL) پیپر لیک کیس کی سی آئی ڈی رپورٹ منظر عام پر آ گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق 21 اور 22 ستمبر 2024 کو منعقد ہونے والے اس امتحان کے سوالات واٹس ایپ پر لیک کیے گئے جبکہ رقم ادا کرنے والے امیدواروں کو ہزار باغ، جمشید پور، پٹنہ، مغربی بنگال اور نیپال تک جوابات فراہم کیے گئے۔
یہ بھی پڑھیے میڈیکل انٹری ٹیسٹ پیپر لیک اسکینڈل، بھارت میں کم از کم 20 طلبہ کی خودکشی
تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق امتحان کے دوران انٹرنیٹ کی معطلی کے باوجود پیپر لیک گینگ نے لینڈ لائن فونز کے ذریعے جوابات بول کر لکھوائے۔ ایک امیدوار جیت کمار نے بتایا کہ امتحان سے قبل ہی 120 سوالات کے صحیح جوابات کاغذی صورت میں موصول ہو چکے تھے، جس کی ٹائم اسٹیمپ والی تصاویری ثبوت بھی عدالت میں جمع کرائے گئے ہیں۔ مارچ 2025 میں سی آئی ڈی نے اپنی رپورٹ مکمل کرتے ہوئے 150 میں سے 120 سوالات کے لیک ہونے کی تصدیق کی تھی۔
یہ بھی پڑھیے بھارت: کاکروچ تحریک نے نئی ملک گیر مہم کا اعلان کردیا، مودی حکومت شدید دباؤ کا شکار
تاہم، ریاستی حکومت نے سی آئی ڈی کی ابتدائی رپورٹ کو پسِ پشت ڈالتے ہوئے ایک دوسری ‘ایس آئی ٹی’ (SIT) تشکیل دی جس نے پیپر لیک کے تمام الزامات کو مسترد کرتے ہوئے امتحانات کو شفاف قرار دے دیا۔ بعد ازاں جے پی ایس سی (JPSC) امتحانات میں بھی اسی نوعیت کا پیپر لیک ہونے پر طلبہ کا غصہ بھڑک اٹھا اور ریاست گیر احتجاج شروع ہو گیا۔
طلبہ رہنما دیویندر ناتھ مہتو کی قیادت میں رانچی کے جے پال سنگھ منڈا اسٹیڈیم میں دھرنا 16ویں روز میں داخل ہو چکا ہے۔ حکومت اور طلبہ کے نمائندوں کے درمیان مذاکرات کے متعدد ادوار بے نتیجہ رہے ہیں، تاہم جھارکھنڈ کی وزیر دیپیکا سنگھ نے تسلیم کیا کہ طلبہ کے تحفظات درست ہیں اور حکومت جلد اس کا ممکنہ حل نکال لے گی۔














