نیویارک کے میئرظہران ممدانی نے سٹی ہال میں مختلف یہودی برادریوں سے تعلق رکھنے والے 10 ربیوں سے ملاقات کی، جس میں اسرائیل سے متعلق ان کے بیانات اور یہودی شہریوں کے تحفظات پر گفتگو کی گئی۔
میئر آفس برائے انسدادِ یہود مخالف تعصب کی جانب سے منعقد کی گئی اس بند کمرہ ملاقات میں اصلاح پسند، قدامت پسند، تعمیر نو پسند اور آرتھوڈوکس یہودی برادریوں کے نمائندوں نے شرکت کی۔
یہ بھی پڑھیں: نیتن یاہو جنگی مجرم، اس کی جگہ جیل ہے، ظہران ممدانی ستمبر میں اسرائیلی وزیراعظم کو گرفتار کرنے پر بضد
ملاقات کے دوران یہودی رہنماؤں نے میئر ظہران ممدانی پر زور دیا کہ وہ اسرائیل کے حوالے سے اپنے عوامی بیانات پر نظرثانی کریں۔ شرکا کا کہنا تھا کہ اسرائیل پر ان کی سخت تنقید سے نیویارک میں بعض یہودی شہریوں میں عدم تحفظ کا احساس بڑھا ہے۔
View this post on Instagram
یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی جب شہر کے اعداد و شمار کے مطابق حالیہ عرصے میں یہودی مخالف نفرت انگیز واقعات میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
ربی رِک جیکبز نے میئر سے براہ راست گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان کی انتظامیہ کے ساتھ تعاون کے لیے تیار ہیں، تاہم ان کے بقول اسرائیل کے بارے میں ظہران ممدانی کے مسلسل سخت بیانات نقصان پہنچا رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: نیویارک میئر ظہران ممدانی کے امیدواروں کی الیکشن میں تاریخی کامیابی، ڈیموکریٹک پارٹی کو واضح پیغام
ملاقات میں شریک ربی ریچل ٹائمنر کے مطابق میئر نے شرکا کی بات توجہ سے سنی اور سنجیدگی سے جواب دیا، جبکہ ربی جون لینر نے زور دیا کہ سٹی ہال کو مقامی عبادت گاہوں کے تحفظ کو ترجیح دینی چاہیے۔
میئر انتظامیہ نے ملاقات کو کھلے مکالمے کا حصہ قرار دیا۔ میئر آفس برائے انسدادِ یہود مخالف تعصب کی عہدیدار فلیسا وِزڈم نے کہا کہ میئر ظہران ممدانی نیویارک کی یہودی برادری کے ساتھ رابطہ جاری رکھیں گے اور شہر میں یہودی برادری کے تحفظ اور ترقی کے عزم کا اعادہ کرتے رہیں گے۔














