ماں، ساس اور دادی سے آگے: پاکستانی ڈراموں میں بڑی عمر کی خواتین کا نیا روپ

منگل 11 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستانی ٹیلی وژن ڈراموں میں بڑی عمر کی اداکاراؤں کے لیے کرداروں کی دنیا طویل عرصے تک محدود رہی ہے۔ کبھی وہ مثالی اور قربانی دینے والی مائیں بنیں تو کبھی سخت گیر اور سازشی ساسوں کے کردار تک محدود رہیں۔ تاہم حالیہ ڈراموں میں یہ روایت آہستہ آہستہ بدلتی دکھائی دے رہی ہے جہاں 40 اور 50 سال سے زائد عمر کی اداکاراؤں کو ایسے کردار مل رہے ہیں جن میں جذباتی پیچیدگی، ماضی، کمزوریاں، خواہشات اور اپنی الگ کہانیاں موجود ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستانی ڈرامے نیٹ فلکس کا مقابلہ کرسکتے ہیں، فیصل قریشی

صبا حمید ’نور جہاں‘ میں اپنے گھر کے اندر کی سیاست کو نہایت چالاکی سے اپنے حق میں استعمال کرنے والی بااثر خاتون کا کردار ادا کرتی ہیں جبکہ سکینہ سموں ’قرض جاں‘ میں ایک ایسی خاتون کے روپ میں نظر آتی ہیں جو اپنی رائے اور فیصلوں کو انتہائی رعب کے ساتھ دوسروں پر مسلط کرتی ہے۔ ثانیہ سعید ’آپ کی عزت‘ میں اپنے بھٹکے ہوئے بیٹے پر مضبوط گرفت برقرار رکھنے کے لیے اپنے اصولوں سے سمجھوتا کرتی دکھائی دیتی ہیں۔

حنا خواجہ بیات ’ایک اور پاکیزہ‘ میں حقہ پیتے ہوئے تلخ مگر دانائی بھری باتیں کرنے والی خاتون کا کردار ادا کر رہی ہیں۔ ارجمند رحیم ’شیر‘ میں تنہائی اور ماضی کی ناکام محبت کے ساتھ زندگی گزارنے والی خاتون کا کردار نبھاتی ہیں جبکہ سویرا ندیم ’بسمِل‘ میں اپنے بے وفا شوہر کا سامنا کرتی ہیں۔ ’تن من نیلو نیل‘ میں نادیہ افغان ایک ایسی دل شکستہ خاتون کا کردار ادا کرتی ہیں جو اپنے شوہر کی برسوں کی خاموشی اور جذباتی فاصلے کو سمجھنے کی کوشش کر رہی ہے۔

اسی طرح تزئین حسین ’قرض جاں‘ میں ایک تابعدار بہو کا کردار ادا کرتی ہیں جو بیوہ ہونے کے بعد سے مسلسل خدمت اور فرماں برداری کی زندگی گزار رہی ہے، جبکہ مرینہ خان ’ڈاکٹر بہو‘ میں تابعدار بہو بننے کے تصور کی حمایت کرتے ہوئے اپنی نئی نویلی بیٹی کو بھی یہی طرزِ زندگی اختیار کرنے کا درس دیتی ہیں۔

یہ صرف چند حالیہ مثالیں ہیں جو اس تبدیلی کی نشاندہی کرتی ہیں کہ پاکستانی ڈراموں میں نسبتاً بڑی عمر کی اداکارائیں اب محض پس منظر میں موجود کردار نہیں رہیں۔ اگرچہ انہیں اب بھی ماؤں، ساسوں، دادیوں اور خالاؤں کے کردار زیادہ ملتے ہیں لیکن ان کرداروں میں پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ تہہ داری اور جذباتی گہرائی دکھائی دے رہی ہے۔ اب یہ خواتین صرف نوجوان مرکزی کرداروں کی کہانی کو آگے بڑھانے کے لیے موجود نہیں ہوتیں بلکہ خود بھی کہانی کا ایک اہم حصہ بنتی ہیں۔

مزید پڑھیے: پاکستانی ڈرامے اے آئی سے لکھے جا رہے ہیں، سید محمد احمد کا چونکا دینے والا انکشاف

دلچسپ بات یہ ہے کہ بڑی عمر کے مرد اداکاروں کو طویل عرصے سے اس طرح کی تخلیقی پابندیوں کا سامنا نہیں رہا۔ سیاست دان، جاگیردار، کاروباری شخصیات، جج اور ولن جیسے کردار کئی دہائیوں سے بڑی عمر کے مرد اداکاروں کو اہم اور پیچیدہ کردار فراہم کرتے رہے ہیں۔

ہمایوں سعید، فیصل رحمان، فیصل قریشی اور عدنان صدیقی جیسے اداکار 50 کی دہائی میں بھی ڈراموں میں مرکزی رومانوی کردار ادا کر رہے ہیں اور اکثر اپنے سے کئی دہائیاں کم عمر اداکاراؤں کے مقابل نظر آتے ہیں۔ اس کے برعکس ان کی ہم عمر خواتین کو عموماً بہت پہلے ماں یا ساس کے کرداروں میں منتقل کر دیا جاتا رہا ہے جبکہ مرد اداکار کم عمر ہیروئنز کے ساتھ رومانوی کردار ادا کرتے رہے ہیں۔

اب حالیہ عرصے میں اسی نسل سے تعلق رکھنے والی اداکاراؤں کو بھی ایسے کردار ملنا شروع ہوئے ہیں جن میں نفسیاتی گہرائی اور اپنی الگ کہانی موجود ہے۔

صرف ایک بُری یا اچھی ماں نہیں

آہستہ آہستہ زیادہ ڈراموں میں بڑی عمر کی خواتین کے اپنے سفر کو بھی دکھایا جا رہا ہے۔ ان کے ماضی کا بوجھ، پچھتاوے، مشکلات اور ان حالات سے پیدا ہونے والی مضبوطی کو کہانی کا حصہ بنایا جا رہا ہے جبکہ یہ بھی دکھایا جا رہا ہے کہ ان کے فیصلے اپنے اردگرد کے لوگوں کی زندگیوں پر کیسے اثر انداز ہوتے ہیں۔

اگر کوئی خاتون حد سے زیادہ تنقید کرنے والی ساس ہے تو اس کے رویے کے پیچھے کوئی وجہ بھی ہو سکتی ہے۔ ایک خاموش اور دب جانے والی ماں اپنے ماضی کے صدمات کا بوجھ اٹھا سکتی ہے۔ اکیلی رہنے والی بظاہر بے ضرر بیوہ کے ماضی میں کوئی تاریک راز بھی چھپا ہو سکتا ہے۔ ماں ہمیشہ فرشتہ صفت نہیں ہوتی اور ساس بھی ہر بار ناشتے کی میز پر بیٹھ کر سازشیں کرنے والی ولن نہیں ہوتی۔

پاکستانی ڈراموں میں عمر کو اب مکمل اختتام سمجھنے کا رویہ کسی حد تک بدل رہا ہے اور یہ تبدیلی وقت کی ضرورت بھی ہے۔ کئی دہائیوں تک پاکستانی ڈراموں میں خواتین کو عموماً دو خانوں میں تقسیم کیا جاتا رہا یعنی ایک طرف خوبصورت اور کم عمر ہیروئن اور دوسری طرف قربانی دینے والی یا سازشی بڑی عمر کی عورت۔

اداکارہ کی عمر بڑھتے ہی اسے اکثر ماں، ساس یا دادی کے کردار تک محدود کر دیا جاتا تھا خواہ وہ خود 40 یا 50 برس کی ہی کیوں نہ ہو۔ دوسری طرف بہت سے ڈراموں میں کہانی اب بھی بنیادی طور پر نوجوان کرداروں کے گرد ہی گھومتی ہے۔

حنا خواجہ بیات کہتی ہیں کہ ماضی میں 30 کی دہائی میں موجود خواتین اداکاراؤں کو بھی 50 سالہ عورتوں کے کردار دے دیے جاتے تھے اور بعض اوقات وہ ایسے اداکاروں کی ماؤں کا کردار ادا کرتی تھیں جو ان سے صرف 5 یا 10 برس چھوٹے ہوتے تھے۔

ان کے مطابق عمر کا مسئلہ آج بھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوا تاہم بڑی عمر کی خواتین کے کردار یقیناً پہلے سے زیادہ دلچسپ ہوئے ہیں۔

مزید پڑھیں: بنگلہ دیش نے پاکستانی ڈرامے ’کبھی میں کبھی تم‘ کی نقل تیار کرلی، مداحوں کا موازنہ

حنا خواجہ بیات کہتی ہیں کہ ’ایک اور پاکیزہ‘ میں ’ممی جی‘ کا کردار ادا کرنا ان کے لیے خوش قسمتی تھی اگرچہ اس کردار کی خاتون ان کی حقیقی عمر سے خاصی بڑی تھی۔ اسی طرح ’کیس نمبر 9‘ میں انہوں نے صبا قمر کی والدہ کا کردار ادا کیا، جو ان کے لیے اپنی صلاحیتوں کو بھرپور انداز میں استعمال کرنے کا موقع تھا۔

ان کے مطابق اسکرپٹس میں اب بڑی عمر کے کرداروں کے لیے پہلے سے زیادہ بھرپور کردار نظر آتے ہیں اگرچہ یہ اب بھی عام نہیں ہیں۔

بیات اداکاراؤں کی اس کوشش کو بھی سراہتی ہیں جو بظاہر معمولی ماں یا دادی کے کرداروں میں بھی اپنی اداکاری کے ذریعے باریکیاں اور گہرائی پیدا کرتی ہیں۔ ان کے بقول کئی اداکارائیں ایسے کرداروں میں بھی جان ڈال دیتی ہیں جو بصورت دیگر آسانی سے بھلائے جا سکتے تھے۔

نادیہ افغان بھی کہتی ہیں کہ پہلے انہیں زیادہ تر روایتی ساس یا نند کے کردار ملتے تھے لیکن اب بڑی عمر کے کرداروں میں حقیقی گہرائی دکھائی دے رہی ہے۔

وہ ’ایک اور پاکیزہ‘، ’شارپسند‘ اور ’درِ نجات‘ میں اپنے کرداروں کی مثال دیتی ہیں، جن میں ان کے مطابق اپنی الگ طاقت، پرتیں اور کہانی موجود ہیں۔ وہ ’ڈاکٹر بہو‘ میں صبا حمید کے کردار اور ’آپ کی عزت‘ میں ثانیہ سعید کے کردار کو بھی موجودہ ڈراموں کے طاقتور اور اچھی طرح لکھے گئے کرداروں میں شمار کرتی ہیں۔

ارجمند رحیم کے مطابق رات 8 بجے کے پرائم ٹائم میں بڑی عمر کی خواتین کے لیے بہتر کردار ضرور لکھے جا رہے ہیں۔ ان کے بقول ’شیر‘ میں تاج بی بی کا کردار مرکزی کہانی کے لیے انتہائی اہم تھا جبکہ ’میری زندگی ہے تو‘ میں نفیسہ کے کردار کا ماضی بھی موجود تھا جس نے بلال عباس خان کے کردار کی شخصیت اور رویے پر براہ راست اثر ڈالا۔

یہ بھی پڑھیے: ’ہر قسط کا بے صبری سے انتظار کرتے ہیں‘، بھارتی اداکار جونی لیور کس پاکستانی ڈرامے کے مداح نکلے؟

وہ صبا حمید کے ’نور جہاں‘ اور ’ڈاکٹر بہو‘ کے کرداروں، صائمہ نور کے ’میں منٹو نہیں ہوں‘ سمیت کئی مثالیں پیش کرتی ہیں۔

تاہم ارجمند رحیم کے مطابق شام 7 اور 9 بجے کے طویل ڈراموں میں بڑی عمر کی خواتین کے کرداروں کو وہی توجہ نہیں مل رہی۔ وہاں اب بھی سادہ، روایتی اور سیاہ و سفید کرداروں کا فارمولا موجود ہے جسے وہ ناقص یا سست اسکرپٹ رائٹنگ قرار دیتی ہیں۔

یہ تبدیلی اب کیوں آ رہی ہے؟

اس تبدیلی کی ایک واضح وجہ یہ ہے کہ پاکستانی ناظرین بھی تبدیل ہو رہے ہیں۔ سنیما اور اسٹریمنگ پلیٹ فارمز کے ذریعے عالمی مواد تک رسائی نے ناظرین کو زیادہ بہتر، پیچیدہ اور حقیقت سے قریب کہانیوں کا عادی بنا دیا ہے۔

اب ایسے ڈرامے بھی پرائم ٹائم میں کامیاب ہو رہے ہیں جن میں صرف ایک ہیرو اور ہیروئن کے بجائے کئی نسلوں کے کردار اہم ہوتے ہیں۔ مرکزی جوڑے کی کہانی اپنی جگہ موجود رہتی ہے، لیکن خاندان کی دوسری نسلوں کے کرداروں کو بھی اپنی الگ کہانیاں اور جذباتی سفر دیا جاتا ہے۔

ناظرین نے بھی اس تبدیلی کا بھرپور جواب دیا ہے۔ سوشل میڈیا پر اکثر ایسے ڈراموں کے مناظر وائرل ہوتے ہیں جن میں نوجوان ہیروئن کے بجائے دادی کی دانش بھری بات، ماں کا اپنے شوہر کو جواب یا خالہ کا برجستہ جملہ لوگوں کی توجہ حاصل کرتا ہے۔

یہ ظاہر کرتا ہے کہ ناظرین کو صرف نوجوان چہرے نہیں بلکہ اچھی تحریر اور مضبوط کردار بھی اپنی طرف متوجہ کرتے ہیں۔

اس کے ساتھ پاکستانی خواتین کی زندگی بھی تبدیل ہو چکی ہے۔ آج 50 کی دہائی میں موجود بہت سی خواتین ملازمت کرتی ہیں اکیلے سفر کرتی ہیں اور ان کی شخصیت باورچی خانے یا سسرال کی حدود سے کہیں آگے پھیلی ہوئی ہے۔

اب بہتر ڈرامے کم از کم اس بدلتی ہوئی حقیقت کو اپنی کہانیوں میں جگہ دینا شروع کر رہے ہیں۔

تجربہ بھی ایک طاقت ہے

پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری میں سنہ 1980 اور سنہ 1990 کی دہائی میں ٹیلی ویژن سے وابستہ ہونے والی اداکاراؤں کی ایک پوری نسل موجود ہے جس کے پاس کئی دہائیوں کا تجربہ اور اپنے ناظرین کا مضبوط حلقہ ہے۔

آج لکھاریوں کے پاس ایسی باصلاحیت اداکاراؤں کی کمی نہیں جو جذباتی طور پر مشکل اور پیچیدہ کہانیوں کو اپنے کندھوں پر اٹھا سکتی ہیں۔ ایسے میں انہیں محض سجاوٹی یا یک رخی کرداروں تک محدود رکھنے کا جواز کم سے کم ہوتا جا رہا ہے۔

پاکستانی ڈراموں میں 40 برس سے زائد عمر کے ایسے اداکاروں اور اداکاراؤں کی کمی نہیں جن کے پاس نہ صرف بے پناہ صلاحیت ہے بلکہ وہ آج بھی ناظرین کو اپنی طرف متوجہ کرنے کی طاقت رکھتے ہیں۔ ایسے فنکار کسی بھی ڈرامے میں قدر بڑھا سکتے ہیں اور پروڈیوسرز کے لیے یہ نقصان ہے کہ انہیں یک رخے کرداروں تک محدود رکھا جائے۔

اداکارہ عتیقہ اوڈھو کے مطابق موجودہ ڈراموں میں کہانیاں نسبتاً زیادہ کرداروں کو اپنی صلاحیت دکھانے کا موقع دے رہی ہیں کیونکہ ہر کردار کے لیے کہانی میں کوئی نہ کوئی اہم جگہ موجود ہوتی ہے۔

مزید پڑھیں: پاکستانی ڈرامے نیٹ فلکس اور ایمازون پر، احسن اقبال کے بیان پر پاکستانی کیا کہتے ہیں؟

وہ کہتی ہیں کہ انہیں گزشتہ ایک دہائی کے دوران مرکزی کرداروں سے لے کر اہم معاون کرداروں تک مختلف نوعیت کے کرداروں کی پیشکش ہوئی ہے۔ ان کے مطابق جب اداکارائیں مرکزی ہیروئن کے کردار سے آگے بڑھتی ہیں تو اب انہیں زیادہ پختہ اور چیلنجنگ کردار بھی مل رہے ہیں۔

اس تبدیلی کا فائدہ خود ڈراموں کو بھی پہنچا ہے۔ ایسی مضبوط کاسٹ جس میں ہر نسل کے کردار کو کہانی میں معنی خیز جگہ حاصل ہو، زیادہ بھرپور اور جذباتی طور پر مضبوط کہانی تشکیل دیتی ہے۔

اس صورت میں ناظرین صرف مرکزی جوڑے کی کیمسٹری سے نہیں بلکہ پورے خاندان اور اس کے افراد کی زندگیوں میں آنے والے اتار چڑھاؤ سے جڑ جاتے ہیں۔

نادیہ افغان کے مطابق اب معاملہ صرف ماں یا بڑی عمر کے فرد کا کردار ادا کرنے تک محدود نہیں رہا۔ نئی نسل کے کئی لکھاری ایسے کردار تخلیق کر رہے ہیں جن میں حقیقی وزن اور مقصد موجود ہے، اور یہی چیز انہیں پاکستانی ڈراموں کے مستقبل کے حوالے سے پُرامید کرتی ہے۔

شاید سب سے بڑی تبدیلی یہ ہے کہ پاکستانی ڈراموں کی بڑی عمر کی خواتین اب مکمل طور پر ’اچھی‘ یا ’بری‘ نہیں رہیں۔ ایک بااختیار ساس کے اندر کمزوری اور جذبات بھی دکھائے جا سکتے ہیں جبکہ بظاہر نیک ماں خود غرض یا اپنی مرضی مسلط کرنے والی بھی ہو سکتی ہے۔

اسی طرح ولن بھی محض برائی کی علامت نہیں بلکہ اس کے رویے کے پیچھے تنہائی، غم، عدم تحفظ یا پچھتاوا ہو سکتا ہے۔ اس طرح کے کردار ناظرین کے لیے زیادہ قابل فہم اور دلچسپ بن جاتے ہیں، چاہے وہ ان کے فیصلوں سے اتفاق نہ بھی کریں۔

پیشرفت ضرور ہوئی ہے مگر سفر ابھی باقی ہے

اس کے باوجود پاکستانی ڈراموں میں بڑی عمر کی خواتین کو مکمل طور پر مرکزی اور بھرپور کردار دینے کے حوالے سے ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے۔

سینیئر اداکارہ بشریٰ انصاری کے مطابق کبھی کبھار کوئی دلچسپ ڈراما سامنے آ جاتا ہے، اور وہ بھی صبا حمید کے حالیہ کرداروں کی مثال دیتی ہیں لیکن مجموعی طور پر بڑی عمر کی خواتین کے زیادہ تر کردار اب بھی یکساں اور غیر دلچسپ ہیں۔

ان کے مطابق پاکستانی ڈراموں میں بڑی عمر کی عورت عموماً چالاک، حکم چلانے والی اور سخت مزاج ہوتی ہے۔ اگر کردار کو ’مختلف‘ بنانے کی کوشش کی جائے تو اکثر اسے جذباتی طور پر اذیت کا شکار دکھا دیا جاتا ہے۔

مزید پڑھیے: سب سے زیادہ دیکھے جانے والے 10 پاکستانی ڈرامے کون سے ہیں؟

بشریٰ انصاری یہ بھی تسلیم کرتی ہیں کہ زیادہ تر کہانیاں نوجوان کرداروں کے گرد گھومتی ہیں اور یہ بذاتِ خود کوئی بری بات نہیں، کیونکہ پاکستان میں بہت اچھے نوجوان اداکار موجود ہیں اور ناظرین بھی انہیں دیکھنا چاہتے ہیں۔ تاہم ان کے مطابق زیادہ پختہ عمر کی اداکاراؤں کو بھی بہتر کردار ملنے چاہییں۔

ان کے بقول اگر کوئی اداکارہ 10 ڈراموں میں کام کرے تو ممکن ہے ان میں سے صرف ایک کردار واقعی دلچسپ نکلے۔

یہ اعتراض اپنی جگہ اہم ہے۔ کبھی کبھار کوئی اچھی طرح لکھا گیا اسکرپٹ بڑی عمر کی خاتون کو پیچیدگی اور جذباتی سفر فراہم کر دیتا ہے، لیکن پاکستانی ڈرامے اب بھی زیادہ تر روایتی گھریلو ماحول سے باہر نکلنے میں ہچکچاتے ہیں۔

بڑی عمر کی خواتین سیاست دانوں، کاروباری شخصیات یا کاروباری خواتین کے طور پر بہت کم دکھائی دیتی ہیں۔ اسی طرح خواتین کی طویل مدتی دوستی، زندگی کے 50 سال کی عمر کے بعد دوبارہ محبت تلاش کرنے یا اپنی شخصیت کو نئے سرے سے دریافت کرنے جیسی کہانیاں بھی بہت کم نظر آتی ہیں۔

زیادہ تر صورتوں میں یہ خواتین پہلے ماں، ساس یا دادی ہوتی ہیں اور فرد بعد میں۔ ان کے مسائل بھی عموماً شادی، وراثت یا خاندانی عزت کے گرد گھومتے ہیں جبکہ ملازمت، دوستی، سیاست، کاروبار، خود مختاری اور زندگی کو نئے سرے سے شروع کرنے جیسے موضوعات ابھی بڑی حد تک نظر انداز ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ایکتا کپور کی نظر انتخاب، پاکستانی ڈرامے ’تیرے بن‘ کا دوسرا جنم جلد متوقع

حوصلہ افزا بات یہ ہے کہ ناظرین نے پہلے ہی ثابت کر دیا ہے کہ وہ زیادہ بھرپور کہانیوں کے لیے تیار ہیں۔ جب کسی بڑی عمر کی خاتون کے کردار میں ذہانت، مزاح، جذبات اور پیچیدگی شامل کی جاتی ہے تو ناظرین اسے بھرپور پذیرائی دیتے ہیں۔

’بیبی باجی‘ جیسے ڈراموں کی مقبولیت بھی اس بات کی مثال ہے کہ عمر رسیدہ یا بڑی عمر کے کردار اگر اچھی طرح لکھے جائیں تو وہ پوری کہانی کی جان بن سکتے ہیں۔

اب اصل چیلنج لکھاریوں اور پروڈیوسرز کے سامنے ہے: کیا وہ ان کرداروں پر اتنا ہی اعتماد کریں گے کہ انہیں کہانی کے کنارے کے بجائے اس کے مرکز میں لے آئیں؟

مزید پڑھیے: پاکستانی ڈراموں میں کم عمر لڑکیوں کو پختہ عمر کے کرداروں میں ڈھالنے کے رجحان پر سخت تنقید

امید کی وجہ ضرور موجود ہے۔ پاکستانی ڈرامہ لکھاری اور پروڈیوسرز بڑی عمر کی اداکاراؤں کے لیے زیادہ پیچیدہ اور بامعنی کرداروں کی صلاحیت کو سمجھنا شروع کر چکے ہیں۔ شاید اگلا قدم یہ ہو کہ ان کرداروں کو صرف گھریلو ماحول تک محدود رکھنے کے بجائے ان کی زندگیوں کے مزید پہلوؤں کو کہانی کا مرکز بنایا جائے اور پاکستانی ڈراما زیادہ تجرباتی اور متنوع موضوعات کی طرف بڑھے۔

نوٹ: یہ تجزیہ ڈان امیجز میں شائع ہونے والی ایک تحریر کی بنیاد پر مرتب کیا گیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp