انسانی حقوق کی تنظیم راوداری نے افغانستان میں طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد انسانی حقوق کی صورتحال پر جاری رپورٹ میں کہا ہے کہ 15 اگست 2021 سے 31 دسمبر 2025 تک کم از کم 6,929 شہری ہلاک یا زخمی ہوئے، جبکہ اسی عرصے میں ہزاروں افراد کو مبینہ طور پر غیرقانونی اور من مانے طور پر حراست میں لیا گیا۔
راوداری نے ہفتہ 15 اگست کو طالبان کی اقتدار میں واپسی کی 5ویں سالگرہ کے موقع پر جاری رپورٹ میں کہا کہ گزشتہ 5 برس کے دوران افغانستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں اور جبر بڑے پیمانے پر جاری رہے۔
سابق حکومتی اہلکار بھی متاثر
رپورٹ کے مطابق طالبان یا نامعلوم مسلح افراد کی جانب سے کیے گئے ہدفی، مشتبہ اور ماورائے عدالت حملوں میں کم از کم 399 سابق حکومتی ملازمین اور ان کے خاندان کے افراد مارے گئے۔
یہ بھی پڑھیں:افغانستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں، آسٹریلیا کا طالبان حکام پر پابندیاں عائد کرنے کا اعلان
راوداری کے مطابق طالبان کے خلاف پرامن مظاہروں کے انعقاد یا ان میں شرکت کرنے پر کم از کم 47 مظاہرین، جن میں 8 خواتین بھی شامل تھیں، ہلاک ہوئے۔
Five Years After the Fall: Rawadari Says More Than 6,900 Civilians Have Been Killed or Injured Under Taliban Rulehttps://t.co/nAOscAsgYM pic.twitter.com/Iwbp3eULzw
— Hasht-e Subh English (@8AM_Media) August 15, 2026
تنظیم نے کہا کہ بم دھماکوں، خودکش حملوں، جنگ کے دوران رہ جانے والے غیر منفجرہ اسلحے کے پھٹنے اور پاکستانی فوجی حملوں کے واقعات بھی شہریوں کے جانی نقصان کا سبب بنے۔
6,043 شہریوں کی مبینہ غیرقانونی گرفتاریاں
راوداری نے من مانی اور غیرقانونی حراست کو بھی گزشتہ 5 برس کے دوران افغانستان میں انسانی حقوق کی ایک وسیع خلاف ورزی قرار دیا۔
رپورٹ کے مطابق اگست 2021 سے 2025 کے اختتام تک کم از کم 6,043 افغان شہریوں کو غیرقانونی یا من مانے طور پر حراست میں لیا گیا، جن میں 78 خواتین مظاہرین بھی شامل تھیں۔
تنظیم کے مطابق زیادہ تر گرفتاریاں طالبان کی انٹیلی جنس اور وزارتِ امر بالمعروف و نہی عن المنکر سے منسوب کی گئی ہیں۔
حراست میں لیے جانے والوں میں کم از کم 646 سابق حکومتی ملازمین، 643 سول سوسائٹی کارکن، صحافی اور انسانی حقوق کے محافظ، جبکہ 1,366 ایسے افراد شامل تھے جن پر طالبان مخالف گروہوں سے تعاون، وابستگی یا روابط کا الزام عائد کیا گیا۔
حراست کے دوران تشدد اور جبری گمشدگیاں
راوداری کا کہنا ہے کہ اس عرصے کے دوران طالبان کی حراستی مراکز میں شدید تشدد کے نتیجے میں کم از کم 51 زیرحراست افراد ہلاک ہوئے، جبکہ مزید 171 افراد جبری طور پر لاپتا کیے گئے۔
تنظیم کے مطابق طالبان کی عدالتوں نے گزشتہ 5 برس کے دوران مختلف الزامات میں کم از کم 2,423 افراد کو ایسی سزائیں دیں جنہیں راوداری نے غیرقانونی، ظالمانہ اور غیر انسانی قرار دیا۔
رپورٹ میں سزاؤں میں سرعام پھانسی، قصاص، کوڑوں کی سزا اور ملزمان کے چہرے کالے کرنے جیسے اقدامات کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔
خواتین اور آزادی اظہار پر پابندیاں
راوداری نے خواتین اور لڑکیوں کو تعلیم اور روزگار سے محروم کیے جانے، انہیں عوامی زندگی سے الگ کرنے، آزادی اظہار اور میڈیا پر پابندیاں عائد کرنے کے علاوہ مختلف قوانین اور ضوابط کے ذریعے بنیادی آزادیوں کو محدود کیے جانے کو بھی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں شامل کیا۔
یہ بھی پڑھیں:ہرات سے یورپ تک احتجاج، طالبان کی خواتین مخالف پالیسیوں کو بڑھتی ہوئی مزاحمت کا سامنا
تنظیم نے خاص طور پر طالبان کے ‘امر بالمعروف و نہی عن المنکر قانون’ اور ضابطہ فوجداری کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان اقدامات نے بنیادی آزادیوں پر پابندیوں اور شہریوں کے خلاف جبر میں اضافہ کیا ہے۔
مزاحمت اور انسانی حقوق کی جدوجہد جاری
راوداری نے تاہم کہا کہ وسیع پیمانے پر جبر کے باوجود خواتین، سول سوسائٹی کے کارکنوں، انسانی حقوق کے محافظوں، صحافیوں اور دیگر افغان شہریوں کی جانب سے اندرون اور بیرون ملک پرامن مزاحمت اور حقوق کے لیے آواز اٹھانے کا سلسلہ جاری ہے۔
تنظیم نے عزم ظاہر کیا کہ وہ افغانستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو دستاویزی شکل دینے اور متاثرین کے انصاف کے مطالبات کو آگے بڑھانے کے ساتھ ساتھ ذمہ دار افراد کے احتساب کے لیے کوششیں جاری رکھے گی۔
طالبان نے 15 اگست 2021 کو کابل پر کنٹرول حاصل کرنے کے بعد افغانستان میں دوبارہ اقتدار سنبھالا تھا۔ اس کے بعد ملک میں خواتین کی تعلیم، روزگار اور عوامی زندگی میں شرکت سمیت آزادی اظہار، میڈیا اور سیاسی سرگرمیوں پر مختلف پابندیاں عائد کی گئیں۔
راوداری کی تازہ رپورٹ طالبان کے اقتدار میں واپسی کے بعد تقریباً ساڑھے 4 سال کے دوران دستاویزی طور پر سامنے آنے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور شہریوں کو درپیش مشکلات کا جائزہ پیش کرتی ہے۔













