اقوام متحدہ کے امدادی مشن برائے افغانستان (یوناما) نے کہا ہے کہ طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد سابق افغان سیکیورٹی اہلکاروں اور سابق حکومت کے عہدیداروں کے خلاف انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں بدستور جاری ہیں۔ تازہ رپورٹ کے مطابق گزشتہ تین ماہ کے دوران آٹھ سابق اہلکار قتل جبکہ متعدد گرفتار اور تشدد کا نشانہ بنے۔
اقوام متحدہ کے امدادی مشن برائے افغانستان (یوناما) نے اپنی تازہ سہ ماہی رپورٹ میں کہا ہے کہ اپریل سے جون 2026 کے دوران سابق افغان قومی دفاعی و سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں اور سابق حکومت کے عہدیداروں کے خلاف انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے واقعات جاری رہے۔
🚨 در سه ماه گذشته قتل بیش از صد و هشتاد و چهار تن از نظامیان پیشین پس از شکنجههای هولناک ثبت شده است
💥 استرداد اجباری سربازان سابق از کشورهای همسایه خطر بازداشت شکنجه و مرگ آنان به دست طالبان را مضاعف کرده است. @SayedSamiSadat #نظامیان #طالبان #جنایت #ANDSF #Taliban #Justice pic.twitter.com/KSuZhsNPxd— Kokcha Press خبرگزاری کوکچه (@kokchapress) July 29, 2026
رپورٹ کے مطابق اس عرصے میں کم از کم 29 افراد کو من مانی طور پر گرفتار یا حراست میں لیا گیا، پانچ افراد کو تشدد اور ناروا سلوک کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ 8 سابق سیکیورٹی اہلکار اور سابق حکومتی عہدیدار قتل کیے گئے۔
یوناما نے اپنی رپورٹ میں خبردار کیا ہے کہ وہ سابق سرکاری اہلکار اور افغان سیکیورٹی فورسز کے ارکان، جنہیں زبردستی افغانستان واپس بھیجا جاتا ہے، وطن واپسی کے بعد بھی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے خطرے سے دوچار رہتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:افغانستان: سرِ پل میں حملہ، طالبان انٹیلیجنس افسر سمیت 2 اہلکار ہلاک، مزاحمتی کارروائیوں میں اضافہ
اقوام متحدہ نے افغانستان میں سابق حکومتی اہلکاروں اور سیکیورٹی فورسز کے ارکان کے تحفظ کو یقینی بنانے اور ان کے خلاف انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی روک تھام پر زور دیا ہے۔














