بہتر مستقبل کی تلاش میں اسپین پہنچنے کی کوشش کرنے والی 20 سالہ مراکشی خاتون فٹبالر فاتن بن عمر العزیزی سمندر میں ڈوب کر جاں بحق ہوگئیں۔
مراکشی میڈیا رپورٹس کے مطابق فاتن بن عمر العزیزی جو ماضی میں موغرب اٹلیٹیکو تطوان کی نمائندگی کر چکی تھیں، ہسپانوی خودمختار علاقے سیوٹا تک سمندر کے راستے پہنچنے کی کوشش کر رہی تھیں کہ ڈوب گئیں۔
Moroccan women’s football is mourning the loss of 20-year-old Faten Ben Amar El Azizi, who drowned while attempting to swim to Ceuta in search of a better future in Spain.
Her club said she was simply looking for “a new door” in life.
Faten was laid to rest today.
Rest in…
— Ojora Babatunde (@ojbsports) August 2, 2026
مقامی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ افسوسناک واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب شمالی مراکش سے سیوٹا جانے کی غیرقانونی کوششوں میں حالیہ دنوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ خراب سمندری حالات اور سیکیورٹی خطرات کے باعث متعدد افراد اس خطرناک راستے پر اپنی جانیں گنوا چکے ہیں۔
فاتن بن عمر العزیزی کی وفات کی خبر سامنے آنے کے بعد ان کے ساتھی کھلاڑیوں، دوستوں اور مراکش کی فٹبال برادری کی جانب سے تعزیت کا سلسلہ جاری ہے۔ انہیں ایک باصلاحیت، محنتی اور خوش اخلاق کھلاڑی کے طور پر یاد کیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اسپین میں تارکین وطن کا بڑا بحران، سیوٹا میں ہزاروں افراد کی یلغار پر یورپی یونین میں ہنگامی مشاورت
ان کی موت نے ایک بار پھر یورپ پہنچنے کے لیے اختیار کیے جانے والے خطرناک غیرقانونی ہجرتی راستوں کے انسانی المیے کو اجاگر کر دیا ہے جہاں ہر سال بہتر زندگی کی امید میں سفر کرنے والے متعدد افراد راستے ہی میں اپنی جانوں سے محروم ہو جاتے ہیں۔
مراکشی یونین آف پروفیشنل فٹبالرز (UMFP) نے بھی اپنے تعزیتی بیان میں فاتن بن عمر العزیزی کے اہل خانہ، ساتھی کھلاڑیوں اور مراکش کی فٹبال برادری سے دلی ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مرحومہ کو اپنی رحمت میں جگہ عطا فرمائے اور لواحقین کو صبر جمیل دے۔














