اقوامِ متحدہ کی مانیٹرنگ ٹیم کی 38 ویں رپورٹ نے بی ایل اے (بی ایل اے)، ٹی ٹی پی، داعش (ISKP) اور القاعدہ کے باہمی گٹھ جوڑ اور ایک دوسرے کو فراہم کی جانے والی لاجسٹک اور عسکری معاونت کا سنسنی خیز انکشاف کیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق بی ایل اے کوئی الگ تھلگ نیٹ ورک نہیں بلکہ اسے افغان سرزمین پر القاعدہ کے ماہرین سے ٹی ٹی پی کے ہمراہ تربیت مل رہی ہے۔ یہ انکشافات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب امریکا، برطانیہ اور فرانس نے بی ایل اے اور اس کے مجید برگیڈ کو اقوامِ متحدہ کی 1267 پابندیوں کی کمیٹی کے تحت دہشتگرد قرار دینے کی پاک چین پیشرفت کو روکا ہے۔
رپورٹ کے پیراگراف 93 میں ان تمام کوششوں کو رد کر دیا گیا ہے جن کے تحت بی ایل اے کو ایک الگ تھلگ گوریلا گروپ ظاہر کیا جاتا تھا۔ رپورٹ کے مطابق بی ایل اے اور داعش خراسان لاجسٹک معاونت کے لیے ایک ہی سہولت کار نیٹ ورک کا استعمال کر رہی ہیں۔ مزید برآں، پیراگراف 100 میں بتایا گیا ہے کہ افغانستان میں القاعدہ کے مدرسین نے بی ایل اے اور ٹی ٹی پی کے دہشتگردوں کو ایک ساتھ عسکری تربیت فراہم کی ہے۔
یہ بھی پڑھیے طالبان حکومت خود خطے کو غیر مستحکم کرنے کے لیے پراکسی بن چکی ہے، عاصم افتخار احمد
رپورٹ کے پیراگراف 91 کے مطابق، پاک افغان سرحد پر مسلسل حملے جاری ہیں اور طالبان کی عبوری حکومت کی جانب سے ٹی ٹی پی کو مسلسل پشت پناہی حاصل ہے۔ ٹی ٹی پی نے اپنے تنظیمی ڈھانچے کو وسعت دیتے ہوئے پاکستانی سیکیورٹی فورسز اور شہریوں کے خلاف جارحانہ کارروائیاں تیز کر دی ہیں اور اس کے لیے تمام تر افغان سرزمین استعمال کی جا رہی ہے۔ پیراگراف 97 کے مطابق ٹی ٹی پی نے اپنے نئے تنظیمی ڈھانچے میں بلوچستان اور مرکزی خطے کے لیے ایک نیا ڈویژن قائم کیا ہے، جو صوبے میں بڑھتے ہوئے دہشتگردانہ خطرے کی نشاندہی کرتا ہے۔
رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ سرحد پر حالیہ کشیدگی کی بنیادی وجہ افغانستان سے ٹی ٹی پی کی جانب سے پاکستان پر کیے جانے والے پے در پے حملے ہیں۔ خیبر پختونخوا میں ہونے والے ہلاکت خیز حملے اس بات کا ثبوت ہیں کہ افغان سرزمین سے سہولت کاری کا خمیازہ پاکستان کے عوام بھگت رہے ہیں۔ پیراگراف 96 کے مطابق داعش خراسان نے بھی پاک افغان سرحدی علاقوں، بشمول خیبر پختونخوا، میں اپنے تربیتی مراکزی کا جال پھیلا رکھا ہے۔
پیراگراف 102 کے مطابق، ‘القاعدہ برصغیر’ (AQIS) اتحاد المجاہدین پاکستان (IMP) کی ریڑھ کی ہڈی کا کردار ادا کر رہی ہے، جو بنوں میں ہونے والے بڑے کار بم دھماکوں اور خودکش حملوں میں ملوث ہے۔
مزید پڑھیں:بدخشان میں طالبان اور مخالف جنگجوؤں میں جھڑپیں،’صورتحال پر نظر رکھی ہوئی ہے‘، اقوام متحدہ
علاوہ ازیں، پیراگراف 131 میں متنبہ کیا گیا ہے کہ 2021 میں افغانستان میں چھوڑا جانے والا جدید اور ہائی ٹیک اسلحہ اب بھی ٹی ٹی پی اور دیگر کالعدم تنظیموں کو منتقل ہو رہا ہے، جس سے ان کی کارروائی کرنے کی صلاحیت میں ناصرف اضافہ ہوا ہے بلکہ یہ پاکستان میں دہشتگردی کے فروغ کے لیے افغان وسائل کے استعمال کا بین ثبوت بھی ہے۔
اقوامِ متحدہ کی یہ رپورٹ بی ایل اے کو خطے کے دیگر بین الاقوامی دہشتگرد گروہوں اور سہولت کاروں سے الگ دیکھنے کی تمام منطق کو ختم کرتی ہے۔ رپورٹ ثابت کرتی ہے کہ بی ایل اے ایک بڑے سرحد پار دہشت گرد نیٹ ورک کا حصہ ہے اور یہ حقائق اس وقت اور بھی اہم ہو جاتے ہیں جب عالمی طاقتوں نے بی ایل اے کو بین الاقوامی سطح پر کالعدم قرار دینے کی کوششوں کو ویٹو کیا ہے۔














