۔
۔
چین کی ایک معروف ٹیک کمپنی نے جدید ترین تکنیکی صلاحیتوں سے لیس ‘سپر مین’ ہیومنائڈ (انسان نما) روبوٹ متعارف کروا دیا ہے۔ ‘الجزیرہ’ کی رپورٹ کے مطابق یہ روبوٹ مصنوعی ذہانت اور جدید انجینئرنگ کا ایک شاہکار ہے، جو انسانی حرکات و سکنات کی نقل کرنے کے ساتھ ساتھ انتہائی پیچیدہ، مشقت طلب اور خطرناک کام انجام دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق اس جدید روبوٹ کی بناوٹ اور ساخت کو انسانوں سے مشابہ رکھا گیا ہے تاکہ یہ عام انسانی ماحول میں آسانی سے کام کر سکے۔ اس میں لگا جدید ترین سینسر اور AI سسٹم اسے اپنے ارد گرد کے ماحول کو تیزی سے سمجھنے، خودکار فیصلے کرنے اور توازن برقرار رکھنے میں مدد فراہم کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے ہیومنائیڈ روبوٹس کس طرح انقلاب لارہے ہیں؟
کمپنی کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق اس ‘سپر مین’ روبوٹ کو نہ صرف صنعتی پیداوار اور لاجسٹکس بلکہ خطرے سے بھرپور آپریشنز، جیسے کہ ہنگامی امدادی کارروائیوں اور بھاری سامان اٹھانے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ یہ روبوٹ بغیر تھکے مسلسل کام کرنے اور انسانی جسمانی حدبندیوں سے آگے بڑھ کر دشوار گزار کاموں کو سرانجام دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
ٹیکنالوجی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ہیومنائڈ روبوٹکس کی دوڑ میں چین کی یہ نئی کامیابی عالمی مارکیٹ میں مینوفیکچرنگ اور سروس سیکٹر کے مستقبل کو یکسر بدل سکتی ہے، اور آنے والے وقتوں میں یہ روبوٹ عام انسانی زندگی کا اہم حصہ بن سکتے ہیں۔













