سپریم کورٹ آف پاکستان نے منگل کے روز ایک اہم فیصلے میں سابق وزیراعظم عمران خان کو راولپنڈی کی اڈیالہ جیل سے اسلام آباد کے شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے کا حکم دے دیا ہے۔
یہ حکم ان کی صحت کے حوالے سے جاری تشویش اور خاندانی رسائی سے متعلق درخواستوں پر سماعت کے بعد سامنے آیا ہے۔ عدالت نے واضح کیاکہ عمران خان کو اگلے 48 گھنٹوں کے اندر سخت سیکیورٹی کے تحت اسپتال منتقل کیا جائے، وہاں ایک خصوصی میڈیکل بورڈ ان کا مکمل معائنہ کرے اور وہ 16 ستمبر کی اگلی سماعت تک اسپتال میں رہیں گے، اس فیصلے نے ایک بار پھر ان سیاسی اور طبی واقعات کو سامنے لایا ہے جو گزشتہ چند ہفتوں میں عمران خان کی صحت کے گرد گھومتے رہے، اور ساتھ ہی 7 سال پہلے نواز شریف کے ساتھ پیش آنے والے واقعات کی یاد تازہ کردی ہے۔
مزید پڑھیں: عمران خان کی اسپتال منتقلی کے فیصلے پر پی ٹی آئی نے جلدی مٹھائی کھالی : طلال چوہدری
عمران خان کے معاملے میں صحت کے مسائل بتدریج سامنے آئے لیکن حالیہ دنوں میں ان کی شدت بڑھتی گئی۔ اس سال کے شروع میں ان کی دائیں آنکھ میں سنٹرل ریٹینل وین اوکلوژن کی تشخیص ہوئی تھی جس سے بینائی متاثر ہوئی۔
فروری میں عدالت میں پیش کی گئی ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ دائیں آنکھ کی بینائی 15 فیصد تک رہ گئی تھی۔ اس کے بعد خاندان اور وکلا نے بار بار بہتر طبی سہولیات کا مطالبہ کیا۔ مئی میں خود عمران خان نے سپریم کورٹ سے درخواست کی کہ انہیں شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کیا جائے، ذاتی معالجین تک رسائی دی جائے اور خاندان کو طبی ریکارڈ فراہم کیا جائے۔ اس درخواست کے ساتھ ان کی بہن ڈاکٹر عظمیٰ خان کی الگ درخواست بھی زیر سماعت رہی۔
اگست کے پہلے ہفتے میں صورتحال مزید سنگین ہوئی۔ یکم اگست کو پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز کے کارڈیالوجسٹ نے اڈیالہ جیل میں ان کا معائنہ کیا۔ رپورٹ کے مطابق عمران خان نے بلڈ پریشر میں اتار چڑھاؤ، سر درد، بے چینی اور اضطراب کی شکایت کی۔ بلڈ پریشر 140 پر 100 ریکارڈ ہوا جبکہ نبض 50 کے قریب تھی۔ ڈاکٹر نے ذہنی دباؤ کم کرنے کے لیے خاندان کے ساتھ زیادہ ملاقاتوں اور اخبارات و ٹیلی ویژن تک رسائی کی سفارش کی۔
10 اگست کو 4 رکنی میڈیکل بورڈ نے دوبارہ معائنہ کیا۔ اس بار بلڈ پریشر 140 پر 80، نبض 54 اور اضطراب کی سطح تین پلس ریکارڈ ہوئی۔ بورڈ نے روزانہ ایک گھنٹہ چہل قدمی، ذہنی سکون کی سرگرمیاں اور اہل خانہ کے ساتھ طویل ملاقاتوں کی سفارش کی تاکہ بلڈ پریشر اور اضطراب پر قابو پایا جا سکے۔
17 اگست کو اڈیالہ جیل کے سپرنٹنڈنٹ نے سپریم کورٹ میں 2 صفحے کی رپورٹ پیش کی جس میں گزشتہ 3 سال کے دوران کیے گئے طبی معائنے اور حالیہ بورڈ کی سفارشات کا خلاصہ موجود تھا۔
18 اگست کو جسٹس شاہد وحید کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے سماعت کی۔ عدالت نے حکومت کی جانب سے فوری منتقلی کی مخالفت کے باوجود حکم جاری کیاکہ عمران خان کو شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کیا جائے، وہاں میڈیکل بورڈ تشکیل دیا جائے جس میں آنکھ اور دل کے ماہرین کے علاوہ ان کے ذاتی معالج ڈاکٹر فیصل سلطان اور بہن ڈاکٹر عظمیٰ خان شامل ہوں، خاندان تمام اخراجات برداشت کرے، ہفتے میں ایک بار اہل خانہ سے ملاقات اور بیرون ملک مقیم بیٹوں سے فون رابطے کی اجازت دی جائے، اور طبی رپورٹس کو سیاسی مقاصد یا میڈیا مہم کے لیے استعمال نہ کیا جائے۔ عدالت نے اسپتال کے باہر امن و امان برقرار رکھنے کی بھی ہدایت کی۔
یہ تسلسل ان واقعات کی یاد دلاتا ہے جو اکتوبر اور نومبر 2019 میں نواز شریف کے ساتھ پیش آئے تھے۔ 11 اکتوبر 2019 کو نواز شریف کو لاہور کی جیل سے نیب کی حراست میں دیا گیا تھا۔
10 دن بعد 21 اکتوبر کی رات صورتحال اچانک بگڑ گئی۔ ان کے ذاتی معالج نے خبردار کیاکہ نواز شریف کے پلیٹ لیٹس کی تعداد انتہائی خطرناک سطح پر گر گئی ہے۔ نیب نے انہیں فوری طور پر لاہور کے سروسز اسپتال منتقل کر دیا۔
اگلے دن طبی ٹیسٹ میں پلیٹ لیٹس کی تعداد 2 ہزار تک گر چکی تھی جو عام حد سے بہت کم تھی۔ فوری طور پر پلیٹ لیٹس کی منتقلی شروع کی گئی۔ اگلے چند دنوں میں تعداد بار بار اتار چڑھاؤ کا شکار رہی، کبھی بڑھتی تو کبھی گر جاتی تھی۔
طبی بورڈ نے حالت سنگین قرار دی، اس دوران بلڈ پریشر، شوگر اور دل کے مسائل بھی پیچیدگیاں پیدا کرتے رہے۔
قریباً 2 ہفتے سروسز اسپتال میں قیام کے بعد 6 نومبر کو نواز شریف کو جاتی امرا کے گھر میں قائم خصوصی ہائی ڈیپنڈنسی یونٹ میں منتقل کیا گیا۔
طبی بورڈ نے واضح کیاکہ پاکستان میں دستیاب علاج کی حد ختم ہو چکی ہے اور مکمل تشخیص و علاج کے لیے بیرون ملک جانے کی ضرورت ہے۔
16 نومبر کو لاہور ہائیکورٹ نے نواز شریف کو 4 ہفتوں کے لیے بیرون ملک علاج کی اجازت دے دی۔ 19 نومبر کو نواز شریف ایئر ایمبولینس کے ذریعے لندن روانہ ہوگئے جہاں ان کا مزید طبی معائنہ اور علاج شروع ہوا۔ اس پورے عمل میں اسپتال منتقلی سے لندن روانگی تک قریباً ایک ماہ کا عرصہ لگا۔
اس وقت عمران خان کی اسپتال منتقلی کے انتظامات جاری ہیں۔ ضلعی انتظامیہ نے سیکیورٹی کے معاملات طے کرنے کے لیے اجلاس طلب کر لیا ہے۔
مشیر وزیراعظم رانا ثنااللہ اور طارق فضل چوہدری نے پہلے عدالتی حکم پر مکمل عملدرآمد کا اعلان کیا، تاہم اب وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ قانون کے مطابق نہیں ہے، اس لیے ہم نظر ثانی اپیل دائر کریں گے۔
بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان 3 سال سے زیادہ عرصے سے مسلسل جیل میں ہیں، جبکہ نواز شریف ایک سال سے کم عرصہ قید میں رہے۔













