سندھ پبلک سروس کمیشن کے امتحانی نظام کو جدید بنانے کے لیے مصنوعی ذہانت (AI) کے ممکنہ استعمال کی تجویز نے امیدواروں اور تعلیمی حلقوں میں نئی بحث شروع کر دی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا مصنوعی ذہانت سرکاری ملازمتوں کے حساس امتحانی نظام کو زیادہ شفاف بنا سکتی ہے یا اس کے استعمال سے نئے مسائل بھی پیدا ہو سکتے ہیں؟
رپورٹس کے مطابق سندھ حکومت کے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں اس بات پر غور کیا گیا کہ پبلک سروس کمیشن کے امتحانی عمل کے مختلف مراحل، جن میں سوالناموں کی تیاری، جوابی کاپیوں کی جانچ، امیدواروں کے ریکارڈ اور دیگر انتظامی امور شامل ہیں، میں جدید ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت سے مدد لی جائے۔
اس تجویز کا مقصد امتحانی نظام میں انسانی مداخلت کو کم کرنا، انتظامی معاملات کو تیز کرنا، ریکارڈ کے انتظام کو بہتر بنانا اور بڑی تعداد میں امیدواروں کے ڈیٹا کو زیادہ مؤثر انداز میں سنبھالنا بتایا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیں:پاکستان میں مصنوعی ذہانت کے لیے مقامی ڈیٹا انفراسٹرکچر کی جانب اہم پیشرفت
تاہم سرکاری ملازمتوں کے امتحانات میں جہاں چند نمبروں کا فرق بھی امیدوار کے مستقبل پر اثر انداز ہو سکتا ہے، وہاں مصنوعی ذہانت کے استعمال نے شفافیت، درستگی اور جواب دہی سے متعلق کئی سوالات بھی اٹھا دیے ہیں۔
مصنوعی ذہانت امتحانی نظام میں کیا تبدیلی لا سکتی ہے؟
اگر سندھ پبلک سروس کمیشن کے امتحانی نظام میں مصنوعی ذہانت شامل کی جاتی ہے تو اسے مختلف مراحل میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔
سوالناموں کی تیاری میں AI نصاب کے مختلف حصوں کی بنیاد پر سوالات ترتیب دینے، سوالات کی درجہ بندی کرنے اور ان کی مشکل کی سطح کا جائزہ لینے میں معاون ثابت ہو سکتی ہے۔
اسی طرح امیدواروں کی درخواستوں، امتحانی ریکارڈ، ڈیٹا مینجمنٹ اور انتظامی امور کو منظم کرنے میں بھی مصنوعی ذہانت مددگار ہو سکتی ہے۔
تاہم سب سے حساس مرحلہ جوابی کاپیوں کی جانچ کا ہے۔ تحریری امتحانات، خاص طور پر مضمون نویسی جیسے حصوں میں امیدوار اپنی زبان، اندازِ تحریر اور دلیل کے ذریعے جواب دیتے ہیں۔ ایسے میں سوال یہ ہے کہ کیا مصنوعی ذہانت انسانی جانچ کی طرح جواب کے مختلف پہلوؤں کو سمجھ سکتی ہے؟
سی ایس ایس امیدوار خالد مہیسر کے مطابق مصنوعی ذہانت سوالناموں کی تیاری جیسے مراحل میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے، لیکن جوابی کاپیوں کی جانچ میں احتیاط ضروری ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ مختلف امیدواروں کی زبان، ہینڈ رائٹنگ اور خیالات مختلف ہوتے ہیں، خاص طور پر مضمون نویسی میں ہر امیدوار کا نقطۂ نظر الگ ہو سکتا ہے۔
خالد مہیسر کے مطابق، “اگر ایسے جوابات کو مکمل طور پر AI کے ذریعے جانچا جائے تو تعصب یا غلطی کا امکان پیدا ہو سکتا ہے، کیونکہ انسانی جانچ میں امیدوار کے جواب کے مختلف پہلوؤں کو سمجھنے کی صلاحیت زیادہ ہوتی ہے۔”
AI کے فوائد اور خدشات: امیدواروں کی مختلف آرا
مصنوعی ذہانت کے استعمال پر امیدواروں کے درمیان مختلف آرا موجود ہیں۔ کچھ امیدوار اسے شفافیت کے لیے معاون سمجھتے ہیں، جبکہ کچھ کے مطابق انسانی نگرانی کے بغیر اس کا استعمال مسائل پیدا کر سکتا ہے۔
خالد مہیسر کے مطابق امتحانی نظام میں شفافیت کا تعلق صرف مصنوعی ذہانت کے استعمال سے نہیں بلکہ پورے نظام اور اس میں شامل افراد کی ذمہ داری سے ہے۔
مزید پڑھیں:27 فیصد نوجوان مصنوعی ذہانت کو دوست سمجھ کر ذاتی مسائل پر بات کرتے ہیں، تحقیق
ان کا کہنا ہے کہ، “ضروری نہیں کہ AI کو خاص طور پر شفافیت کے لیے لایا جائے۔ اگر سی ایس ایس یا پنجاب PMS جیسے امتحانات میں شفافیت ممکن ہے تو اس کی وجہ صرف ٹیکنالوجی نہیں بلکہ بہتر نظام اور میرٹ پر کام کرنے والے افراد ہیں۔ اصل مسئلہ AI کا نہیں بلکہ ان لوگوں کا ہے جو بھرتی کے عمل کو چلاتے ہیں۔”
دوسری جانب سی ایس ایس امیدوار سرفراز کھوسہ کے مطابق پبلک سروس کمیشن جیسے حساس امتحانات میں مصنوعی ذہانت کا استعمال انسانی جانبداری اور بیرونی اثرات کے امکانات کم کر کے شفافیت میں اضافہ کر سکتا ہے۔
ان کے مطابق انسانی جانچ کے دوران بعض اوقات زیادہ تعداد میں جوابی کاپیاں چیک کرنے کا دباؤ یا وقت کی کمی نتائج کے معیار کو متاثر کر سکتی ہے، جبکہ مصنوعی ذہانت دی گئی ہدایات کے مطابق جوابات کا جائزہ لے سکتی ہے۔
سرفراز کھوسہ کہتے ہیں کہ، “AI کے لیے امیدوار کی لکھائی یا دیگر ظاہری عوامل اہم نہیں ہوتے، بلکہ وہ دی گئی ہدایات کے مطابق جواب کو دیکھتا ہے، اس لیے بیرونی اثرات کے امکانات کم ہو سکتے ہیں۔”
ان کے مطابق مصنوعی ذہانت امتحانی عمل کو تیز بھی کر سکتی ہے۔ وہ بلوچستان میں ہونے والے بعض ٹیسٹس کی مثال دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ ٹیکنالوجی کے ذریعے امتحانی عمل مکمل ہونے کے بعد نتائج اور اگلے مراحل جلد مکمل کیے گئے، جس سے وقت کی بچت ہوئی۔
تاہم ان کا کہنا ہے کہ AI کے استعمال کے ساتھ امیدواروں کے اپیل اور نظرثانی کے حقوق کو یقینی بنانا بھی ضروری ہوگا۔
انسانی نگرانی اور واضح قواعد کیوں ضروری ہیں؟
ماہرین کے مطابق مصنوعی ذہانت خود فیصلہ کرنے والی غیر جانبدار ٹیکنالوجی نہیں بلکہ وہ ڈیٹا اور ہدایات کی بنیاد پر نتائج پیدا کرتی ہے۔
اگر اس کے تربیتی مواد میں پہلے سے موجود تعصب شامل ہو تو AI بھی اسی تعصب کو آگے بڑھا سکتی ہے۔
2018 میں ایمازون کا مصنوعی ذہانت پر مبنی بھرتی کا تجربہ اس حوالے سے ایک نمایاں مثال سمجھا جاتا ہے۔ کمپنی نے امیدواروں کے کوائف جانچنے کے لیے ایک AI نظام تیار کیا تھا، لیکن بعد میں معلوم ہوا کہ یہ نظام مرد امیدواروں کو ترجیح دے رہا تھا، کیونکہ اسے ایسے تاریخی ڈیٹا سے تربیت دی گئی تھی جس میں مرد امیدواروں کی تعداد زیادہ تھی۔
یہ مثال ظاہر کرتی ہے کہ صرف ٹیکنالوجی متعارف کرا دینا شفافیت کی ضمانت نہیں بنتا۔
سرفراز کھوسہ کے مطابق پاکستان میں سرکاری امتحانی نظام میں مصنوعی ذہانت متعارف کرانے سے پہلے ضروری ہے کہ پورا امتحانی نظام خود شفاف بنایا جائے۔
ان کا کہنا ہے کہ، “اگر نظام میں سیاسی مداخلت یا بیرونی اثر و رسوخ موجود ہوگا تو صرف مصنوعی ذہانت متعارف کرانے سے مسائل حل نہیں ہوں گے۔ AI کے مؤثر استعمال کے لیے ضروری ہے کہ پورا امتحانی نظام شفاف، آزاد اور واضح قواعد و ضوابط کے تحت کام کرے۔”
اسی طرح خالد مہیسر کے مطابق پاکستان میں پبلک سروس کمیشن جیسے مسابقتی امتحانات میں AI کے استعمال کے لیے واضح پالیسی، نگرانی اور احتساب کا نظام ضروری ہوگا۔
ان کا کہنا ہے کہ امیدواروں کو معلوم ہونا چاہیے کہ مصنوعی ذہانت کہاں استعمال ہو رہی ہے، اس کے فیصلوں کی ذمہ داری کس ادارے پر ہوگی اور کسی غلطی کی صورت میں اپیل کا طریقہ کیا ہوگا۔
ٹیکنالوجی مسئلہ ہے یا حل؟
امتحانی نظام میں مصنوعی ذہانت کے استعمال کا بنیادی سوال یہ نہیں کہ AI استعمال ہونی چاہیے یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ اسے کس طریقے سے استعمال کیا جائے۔
اگر مصنوعی ذہانت کو انسانی ماہرین کے معاون کے طور پر استعمال کیا جائے، اس کے نتائج کی جانچ کی جائے اور امیدواروں کے حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جائے تو یہ امتحانی نظام کو زیادہ مؤثر، تیز اور منظم بنانے میں مدد دے سکتی ہے۔
لیکن اگر اسے مکمل فیصلہ ساز بنا دیا جائے تو غلطی، تعصب اور جواب دہی سے متعلق خدشات بڑھ سکتے ہیں۔
ایک مضبوط نظام کے لیے ضروری ہوگا کہ:
* مصنوعی ذہانت کے استعمال کے لیے واضح قواعد و ضوابط بنائے جائیں۔
* امیدواروں کے ڈیٹا کی رازداری اور سائبر تحفظ یقینی بنایا جائے۔
* اہم فیصلوں میں انسانی نگرانی برقرار رکھی جائے۔
* جوابی کاپیوں کی دوبارہ جانچ اور اپیل کا مؤثر نظام موجود ہو۔
* کسی بھی نئے نظام کو مکمل نفاذ سے پہلے محدود پیمانے پر آزمایا جائے۔
مزید پڑھیں:مصنوعی ذہانت طیاروں کو موسمیاتی حدت بڑھانے والی سفید لکیروں سے بچانے میں مدد دے گی
سندھ پبلک سروس کمیشن جیسے بڑے ادارے کے لیے جہاں بڑی تعداد میں امیدوار امتحانات میں شریک ہوتے ہیں، ٹیکنالوجی انتظامی بوجھ کم کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔
تاہم سرکاری ملازمتوں کے امتحانات جیسے حساس عمل میں رفتار سے زیادہ درستگی، شفافیت اور عوامی اعتماد بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔
مصنوعی ذہانت امتحانی نظام کو بہتر بنانے کا ذریعہ بن سکتی ہے، لیکن اس کی کامیابی کا انحصار صرف ٹیکنالوجی پر نہیں بلکہ اس کے استعمال کے طریقہ کار، انسانی نگرانی، مضبوط قواعد اور احتساب کے نظام پر ہوگا۔














