امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر نے کہا ہے کہ کراچی آج ایک تباہ حال شہر بن چکا ہے، جس کی بدحالی کی ذمہ دار پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم دونوں ہیں۔
وی نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے منعم ظفر نے کہا کہ ایم کیو ایم نے 1986ء سے 2016ء تک شہر کے اداروں کو تباہ کیا، جبکہ گزشتہ 18 برس سے پیپلز پارٹی بھی یہی طرزِ عمل جاری رکھے ہوئے ہے۔
پیٹرولیم لیوی کے خاتمے تک دھرنے جاری رہیں گے
منعم ظفر نے کہا کہ جماعت اسلامی پاکستان کے 25 کروڑ عوام کے حق کے لیے نکل رہی ہے اور پیٹرولیم لیوی اور پیٹرول پر عائد دیگر ٹیکسز کے خلاف آواز بلند کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ایم کیو ایم نے بگڑتی صورت حال پر ’کراچی بچاؤ مہم‘ شروع کرنے کا اعلان کردیا
انہوں نے کہا کہ یہ مسئلہ بالخصوص نوجوانوں، مزدوروں، ذرائع ابلاغ سے وابستہ افراد اور کھانا پہنچانے والے کارکنوں سے متعلق ہے، جو روزانہ ایک لیٹر پیٹرول استعمال کرنے پر تقریباً 130 روپے ٹیکس کی صورت میں ادا کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی نے عوام کے مسائل کو اجاگر کرنے کی بھرپور کوشش کی ہے، یہی وجہ ہے کہ ناجائز پیٹرولیم لیوی یعنی بھتہ ٹیکس کے خاتمے تک جماعت اسلامی کے دھرنے جاری رہیں گے۔
منعم ظفر کا کہنا تھا کہ اگر حکومت مطالبات تسلیم نہیں کرتی تو دھرنے کے علاوہ بھی جماعت اسلامی کے پاس کئی راستے موجود ہیں، جن میں ہڑتال اور اسلام آباد جانے کا اختیار شامل ہے۔
انہوں نے کہا کہ فی الحال جماعت اسلامی دھرنے پر بیٹھی ہے اور دھرنا جتنا طویل ہوگا، ان شاء اللہ نوجوانوں، طلبہ اور عام لوگوں کی امیدوں کا مرکز بنتا جائے گا۔
منعم ظفر کے مطابق اس وقت پاکستان میں سب سے زیادہ متاثر نوجوان، طلبہ اور موٹر سائیکل چلانے والے افراد ہیں۔ پاکستان میں تقریباً 3 کروڑ موٹر سائیکلیں ہیں، جبکہ کراچی میں ساڑھے 42 لاکھ موٹر سائیکلیں ہیں۔
مزید پڑھیں:پیٹرولیم لیوی اور مہنگائی کے خلاف جماعت اسلامی کا دھرنا تیسرے روز میں داخل
اگر ان میں سے 40 لاکھ بھی سڑکوں پر ہوں تو اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ کتنے بڑے پیمانے پر لوگ پیٹرول استعمال کرتے ہیں، پیٹرول کی قیمتوں نے عام انسان کے لیے زندگی کتنی مشکل بنا دی ہے۔
امیر جماعت اسلامی کراچی نے کہا کہ ایک آدمی دو وقت کی روٹی کمائے، اپنے بچوں کو پڑھائے، پیٹرول کے نام پر لیوی اور بھتہ ٹیکس ادا کرے، حکمرانوں کی عیاشیوں اور شاہ خرچیوں کا بوجھ برداشت کرے، تو وہ اپنے گھر کا کرایہ اور بجلی کا بل کیسے ادا کرے گا؟۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی اسی منظرنامے میں عوام
کے حقیقی مسائل لے کر کھڑی ہوئی ہے اور احتجاج کرنے والے احتجاج کرتے رہیں گے کہ قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔
سیاسی اختلافات اپنی جگہ مگر عمران خان کو علاج کے پورے مواقع ملنے چاہییں، امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر
منعم ظفر نے کہا ہے کہ عمران خان کی صحت خراب ہے تو انہیں علاج کے پورے مواقع ملنے چاہییں، کیونکہ ہر شخص کو صحت کی سہولیات حاصل کرنے کا حق حاصل ہے۔ سیاسی اختلافات اپنی جگہ ہیں لیکن اگر عمران خان کی صحت خراب ہے، جیسا کہ آنکھ کے مسئلے یا دیگر بیماریوں کے بارے میں بتایا جا رہا ہے، تو انہیں علاج کے پورے مواقع ملنے چاہییں۔ تاہم عمران خان کو اسپتال جانے کی اجازت ملنے کے پسِ پردہ معاملات کے بارے میں وہ کچھ نہیں کہہ سکتے، یہ مستقبل میں ہی واضح ہوگا۔
مزید پڑھیں:جماعت اسلامی کا دھرنا جاری، موجودہ حکومت اور پاکستان ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے، سراج الحق
منعم ظفر کا کہنا تھا کہ شہر کو ہم اس لیے تباہ حال کہتے ہیں کہ مردم شماری میں ساڑھے 3 کروڑ آبادی کو 2 کروڑ اور 3 لاکھ دکھایا گیا، اس شہر میں پانی ہے، انفرااسٹرکچر ہے اور نہ ہی ٹرانسپورٹ کا نظام ہے جبکہ شہر میں بے انتہا لوڈشیڈنگ ہے، مگر کوئی نہیں ہے جو اس پر قابو پاسکے۔
پاکستان کو با اختیار بلدیاتی نظام کی ضرورت
بلدیاتی نظام کے حوالے سے منعم ظفر نے کہا کہ پورے پاکستان کو بااختیار بلدیاتی نظام کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق بااختیار بلدیاتی نظام کے ذریعے نچلی سطح سے قیادت سامنے آئے گی اور مقامی سطح پر کام ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ چھوٹے صوبوں کے معاملے پر آئینی دائرۂ کار اور آئینی طریقۂ کار کے اندر رہتے ہوئے بات ہو سکتی ہے۔ آئین میں جو دائرۂ کار موجود ہے، اس کے مطابق بات ہونی چاہیے اور اس حوالے سے بنے ہوئے طریقۂ کار کو اختیار کیا جانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ آئینی طریقۂ کار کے مطابق چلنے میں کوئی اعتراض نہیں اور آئین اس کی اجازت دیتا ہے۔
وزرا نظام کو ناکام قرار دے کر اپنی ناکامی کا اعتراف کر رہے ہیں
حکومت کی مدت اور موجودہ سیاسی نظام کے حوالے سے منعم ظفر نے کہا کہ جب حکومت میں شامل وزیر داخلہ یہ کہیں گے کہ موجودہ نظام کارکردگی دکھانے میں ناکام ہو گیا ہے تو یہ اپنی ناکامی کا ادراک ہی نہیں بلکہ اعتراف بھی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ جس نظام میں خود حکومت موجود ہے اور وزیر داخلہ بھی اسی نظام کا حصہ ہیں، اگر وہ کہتے ہیں کہ موجودہ نظام تباہ ہو گیا ہے تو یہ اس کی ناکامی کا اقرار ہے۔
انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی پہلے ہی کہتی رہی ہے کہ موجودہ نظام ظلم اور جبر پر مبنی ہے، عام آدمی کو انصاف نہیں دیتا اور پاکستان کے مقاصد کے راستے میں رکاوٹ بنا ہوا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:بڑھتی ہوئی پیٹرولیم لیوی کے خلاف، جماعت اسلامی کا ملک بھر کے 510مقامات پر آج دھرنا دینے کا اعلان
ان کے مطابق اس نظام کو ختم ہونا چاہیے، اسے جڑ سے اکھاڑ دینا چاہیے اور ایسا نظام ہونا چاہیے جو پاکستان کے آئین کے دائرۂ کار میں رہتے ہوئے عام آدمی کو اس کے حقوق فراہم کرے۔
سیاسی اختلافات کے باوجود بات چیت میں اخلاقیات ہونی چاہییں
پنجاب میں جماعت اسلامی کے ایک رہنما کی جانب سے پنجاب کی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری کے لیے نامناسب الفاظ کے استعمال کے معاملے پر منعم ظفر نے کہا کہ انہیں معلوم نہیں کہ وہ الفاظ کیا تھے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ الفاظ کے انتخاب میں احتیاط برتنی چاہیے، خواہ کوئی بھی جماعت ہو۔
انہوں نے کہا کہ سیاسی اختلافات اپنی جگہ ہوتے ہیں، لیکن مجموعی اخلاقیات کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنی بات اور مؤقف بیان کرنا چاہیے۔ ان کے مطابق کسی بھی شخص کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے الفاظ کے انتخاب میں احتیاط ضروری ہے۔













