امریکی حکومت کا مجموعی قرض پہلی بار 40 کھرب ڈالر سے تجاوز کرگیا۔ امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق 19 اگست کو قرض کا حجم 40.047 کھرب ڈالر ریکارڈ کیا گیا۔
مزید پڑھیں:ڈونلڈ ٹرمپ کا کینیڈا پر 50 فیصد ٹیرف 3 دن کے لیے معطل کرنے کا اعلان، تجارتی ڈیل طے پاگئی
رپورٹ کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کے دونوں ادوار میں امریکی قرض میں 11.6 کھرب ڈالر جبکہ جو بائیڈن کے دور میں 8.4 کھرب ڈالر کا اضافہ ہوا۔ ماہرین نے بڑھتے سماجی اخراجات، سود کی ادائیگیوں اور ٹیکس آمدن میں کمی کو قرض میں اضافے کی بڑی وجوہات قرار دیا ہے۔
BREAKING: US national debt passes $40 trillion after doubling in a decade, as the interest rate on 30-year bonds hits its highest level in almost 20 years. pic.twitter.com/7RnMLocIUg
— HIT.com (@HIT) August 20, 2026
مزید پڑھیں:ڈونلڈ ٹرمپ کے ایلچی کا نیتن یاہو کو غزہ امن منصوبے میں رکاوٹیں نہ ڈالنے کا مشورہ
امریکی قرض 2017 میں 19.95 کھرب ڈالر تھا اور ایک دہائی سے بھی کم عرصے میں دوگنا ہوچکا ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر اخراجات اور قرض پر قابو نہ پایا گیا تو مالی بحران کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔














