طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا ہے کہ مغربی کابل کے ایک اسکول میں ہونے والے دھماکے میں داعش یا اس سے وابستہ گروپ ملوث ہوسکتے ہیں، تاہم واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔
مزید پڑھیں:تاجکستان میں گرفتاری اور کابل دھماکے، افغانستان پھر دہشتگردی کا گڑھ بن رہا ہے؟
افغان طالبان کے ترجمان نے افغانستان انٹرنیشنل کو بتایا کہ سیکیورٹی فورسز حملے کے ذمہ داروں کی شناخت اور گرفتاری کے لیے کارروائی کر رہی ہیں۔ ان کے مطابق ابتدائی معلومات سے معلوم ہوا ہے کہ اسکول کے اندر دستی بم پھینکا گیا، جس کے نتیجے میں قریباً 25 طلبہ زخمی ہوئے۔ طالبان ترجمان نے زخمیوں کی حالت کو معمولی قرار دیا۔
دھماکا پیر کی شام کابل کے مغربی علاقے دشتِ برچی میں مہدیہ ٹاؤن شپ کے علاقے میں قائم شامِ ہدایت نجی اسکول کے قریب ہوا۔ اب تک کسی گروپ نے حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔
طالبان وايي چې د کابل د دشت برچي سیمې په یوه ښوونځي کې د چاودنې په اړه څېړنې روانی دي او اټکل کېږي چې ښايي دا برید داعش کړی وي.
نور حال په راپور کې:
د خپرونې لېنک: https://t.co/SAvTGnzJ6B pic.twitter.com/jFYWjv1uB3
— افغانستان اینترنشنال (@AFIntlBrk) August 18, 2026
دوسری جانب اسپتال ذرائع کے مطابق دھماکے میں زخمی ہونے والوں کی تعداد قریباً 50 ہے، جن میں زیادہ تر اسکول کے بچے شامل ہیں۔ مغربی کابل کے ایک اسپتال سے حاصل فہرست کے مطابق کم از کم 19 زخمیوں کو اسپتال منتقل کیا گیا، جن میں 14 بچیاں شامل ہیں اور ان کی عمریں 9 سے 14 سال کے درمیان ہیں۔
دشتِ برچی کابل کا ایک گنجان آباد ہزارہ علاقہ ہے جہاں گزشتہ برسوں کے دوران اسکولوں اور تعلیمی مراکز کو متعدد مہلک بم حملوں کا نشانہ بنایا جا چکا ہے۔
مزید پڑھیں:افغانستان کی سرزمین پر ہزاروں دہشتگرد موجود، شہریوں کو ڈھال کے طور پر استعمال کیا جانے لگا
افغانستان میں انسانی حقوق کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے رچرڈ بینیٹ نے حملے کو قابل مذمت قرار دیتے ہوئے واقعے کی مکمل اور آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ذمہ داروں کی شناخت کرکے انہیں قانون کے کٹہرے میں لایا جانا چاہیے۔













