سپریم کورٹ نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کو اڈیالہ جیل سے شفا اسپتال منتقل کرنے کا حکم دیا تھا تاہم ابھی تک عمران خان کو اسپتال منتقل نہیں کیا جا سکا ہے، اسپتال منتقل کرنے کے معاملے پر حکومتی سطح پر مشاورت جاری ہے، جبکہ شفا اسپتال کو تاحال سب جیل قرار دینے کا نوٹیفکیشن جاری نہ ہونے کے باعث ان کی منتقلی عمل میں نہیں آسکی۔
وفاقی وزیر ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے وی نیوز کو بتایا کہ عدالتی حکم کے مطابق شفا اسپتال میں عمران خان کی منتقلی کے لیے سیکیورٹی سمیت دیگر انتظامات کیے جا رہے ہیں اور انتظامات مکمل ہوتے ہی انہیں اسپتال منتقل کر دیا جائے گا، حکومت کی ایسی کوئی سوچ نہیں کہ سپریم کورٹ کے حکم پر عمل درآمد نہ کیا جائے یا عمران خان کو شفا اسپتال منتقل نہ کیا جائے۔
یہ بھی پڑھیں:کیا عمران خان کو اسپتال منتقل کرنے کا سپریم کورٹ کا فیصلہ حکومت کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے؟
ذرائع کے مطابق سپریم کورٹ کی جانب سے عمران خان کو اڈیالہ جیل سے شفا اسپتال منتقل کرنے کے فیصلے کے بعد حکومت کی جانب سے ضروری انتظامات کیے جا رہے ہیں۔ تاہم شفا اسپتال کے مخصوص حصے کو سب جیل قرار دینے کا نوٹیفکیشن تاحال جاری نہیں کیا گیا، جس کے باعث عمران خان کو ابھی تک اسپتال منتقل نہیں کیا جا سکا۔
ذرائع کے مطابق اگر عمران خان کو شفا اسپتال منتقل کیا جاتا ہے تو انہیں اسپتال کے ایگزیکٹو بلاک اے کے چوتھے فلور پر رکھنے کی تجویز ہے۔ اس مقصد کے لیے اسپتال کے مذکورہ حصے کو سب جیل قرار دیا جائے گا، جبکہ وہاں سیکیورٹی اور دیگر انتظامات کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔
وزیراعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ عمران خان کو شفا اسپتال منتقل کرنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں، پہلے اسپتال کے ایک حصے کو سب جیل قرار دیا جائے گا، اس کے بعد وہاں سیکیورٹی انتظامات کا جائزہ لیا جائے گا اور ضروری انتظامات مکمل ہونے پر عمران خان کو اسپتال منتقل کیا جائے گا۔
رانا ثنا اللہ کے مطابق اگر اسپتال میں ضروری انتظامات مقررہ وقت میں مکمل نہ ہو سکے تو سپریم کورٹ سے مزید وقت لینے کا امکان موجود ہے، سیکیورٹی کے معاملات پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں:کیا عمران خان کو بنی گالہ منتقل کرنے کی تجویز زیر غور ہے؟ اسد قیصر نے بتادیا
ذرائع کے مطابق عمران خان کو شفا اسپتال کے بجائے پمز اسپتال منتقل کیے جانے کا امکان بھی سامنے آیا ہے۔ اسلام آباد میں ہونے والے ایک اہم اجلاس کے بعد بانی پی ٹی آئی کو پمز منتقل کرنے کا امکان بڑھ گیا ہے، تاہم حتمی فیصلے کا انتظار کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق عمران خان کی اسپتال منتقلی کے معاملے پر متعلقہ حکام کے درمیان مشاورت جاری ہے۔ اہم اجلاس میں سابق وزیراعظم کی اسپتال منتقلی سے متعلق انتظامی امور کا جائزہ لیا گیا جبکہ پمز اسپتال میں میڈیکل بورڈ کی تشکیل اور سیکیورٹی انتظامات سمیت مختلف امور پر غور کیا گیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کو پمز اسپتال منتقل کرنے کے حوالے سے ابتدائی تیاریاں بھی شروع کر دی گئی ہیں۔ پمز میں ان کے طبی معائنے، علاج اور سیکیورٹی سے متعلق انتظامات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
تاہم حکام کی جانب سے تاحال یہ حتمی طور پر واضح نہیں کیا گیا کہ عمران خان کو شفا اسپتال منتقل کیا جائے گا یا پمز اسپتال۔ اس حوالے سے حتمی فیصلہ متعلقہ حکام کی مشاورت اور ضروری سکیورٹی و انتظامی اقدامات مکمل ہونے کے بعد متوقع ہے۔














