ایران کے مرکزی بینک کے سابق معاشی مشیر مہرداد سپاہ وند نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایرانی معیشت کے مکمل تباہ ہونے کے دعوے کو رد کر دیا ہے، تاہم خبردار کیا ہے کہ متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کی جانب سے تجارتی تعلقات منقطع کرنے سے رواں سال ایران کی معاشی شرحِ نمو 5 فیصد تک منفی ہو سکتی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں ‘غیر معمولی اقتصادی جنگ’ کا اعلان کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ تہران کی حکومت کی معیشت ‘ایک دھاگے سے لٹک رہی ہے’۔
یہ بھی پڑھیں:کوئٹہ میں ایرانی پیٹرول کی قیمت میں تیزی سے اضافہ کیوں ہو رہا ہے؟
تاہم ‘ڈارک انویسٹمنٹ گروپ’ کے ڈائریکٹر اور ایرانی مرکزی بینک کے سابق مشیر مہرداد سپاہ وند نے سی این بی سی کو دیے گئے انٹرویو میں اس تاثر کی نفی کی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایرانی معیشت پر دباؤ اور پابندیاں ضرور ہیں لیکن حالات اتنے بھی برے نہیں جتنا ظاہر کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق دکانیں بنیادی اشیا سے بھری ہوئی ہیں، عوام میں خوف کی بنا پر خریداری کا رجحان نہیں ہے اور نہ ہی بینکنگ سسٹم پر عوام کے اعتماد میں کوئی زوال آیا ہے۔
یو اے ای کا تجارتی بائیکاٹ اور معاشی چیلنجز
مہرداد سپاہ وند کے مطابق ایران کے لیے اصل اور بڑا امتحان متحدہ عرب امارات کا تمام تجارتی و مالیاتی روابط ختم کرنے کا فیصلہ ہے۔
یو اے ای، جو ایران کی درامدات کا سب سے بڑا ذریعہ تھا، نے اپنے ملک پر 2 ایرانی بیلسٹک میزائل داغے جانے کے بعد یہ اقدام اٹھایا ہے۔
سپاہ وند نے واضح کیا کہ یو اے ای ایران کا مرکزی مالیاتی گیٹ وے تھا، اس فیصلے سے زرِ مبادلہ کی شرح پر شدید دباؤ آئے گا، تجارتی اخراجات بڑھیں گے اور آنے والے 2 کوارٹرز کے دوران افراطِ زر میں مزید اضافہ ہوگا، جس سے معاشی سکڑاؤ 5 فیصد تک جا سکتا ہے۔
معاشی اعداد و شمار اور عوام پر بوجھ
ورلڈ بینک کے اعداد و شمار سے معلوم ہوتا ہے کہ مارچ میں ختم ہونے والے سال میں ایران کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) میں 2.7 فیصد کی کمی واقع ہوئی تھی۔
فروری میں افراطِ زر کی شرح 62.2 فیصد تک پہنچ گئی تھی جبکہ خوراک کی قیمتوں میں افراطِ زر 99 فیصد کی ریکارڈ سطح کو چھو رہا تھا۔
مزید پڑھیں:آبنائے ہرمز دوبارہ بند ہوئی تو امریکی معیشت کو بڑا دھچکا لگ سکتا ہے، ماہرین کا انتباہ
اس کے علاوہ رپورٹس کے مطابق جاری جنگ اور کشیدگی کے باعث ایران میں تقریباً 1 ملین (10 لاکھ) ملازمتیں ختم ہو چکی ہیں، جس کا سب سے زیادہ نقصان کم آمدنی والے طبقے اور نوجوانوں کو اٹھانا پڑ رہا ہے۔
امریکی انتظامیہ رواں سال اپریل سے ‘آپریشن اکنامک فیوری’ کے تحت ایران کی مالیاتی ناکہ بندی کی مہم چلا رہی ہے تاکہ تہران کے مالیاتی ذرائع کو مفلوج کیا جا سکے۔
صدر ٹرمپ نے ہر اس ملک کو نتائج بھگتنے کی دھمکی دی ہے جو ایران کو آئل اسمگلنگ، کرنسی سوابز یا کیش ٹرانسفر کی صورت میں ‘لائف لائن’ فراہم کرے گا۔
تاہم معاشی ماہرین کا ماننا ہے کہ واشنگٹن کی اس انتہائی معاشی حکمتِ عملی سے تہران میں سخت گیر عناصر کو سیاسی طور پر مزید تقویت مل رہی ہے، جس کے نتیجے میں امریکہ اور ایران کے درمیان کسی سفارتی معاہدے تک پہنچنے کا امکان مزید معدوم ہو گیا ہے۔














